- الإعلانات -

سکیورٹی اور معیشت کا اہم تعلق ہے، توازن یقینی بنانا ہو گا، آرمی چیف

کراچی: کراچی میں معیشت اور سلامتی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشیت زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتی ہے اور روس کے پاس ہتھیار کم نہ تھے لیکن کمزور معیشت کے سبب ٹوٹا۔ آرمی چیف نے کہا کہ شروع سے ہی پاکستان کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا ہم دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں۔ بہتر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث امیر ملک بھی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی مثال عراق کا کویت پر حملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں سیکیورٹی ایک وسیع موضوع ہے، سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے اشاریے ملے جلے ہیں، ترقی ہو رہی ہے لیکن قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کی شرح کم ہے اور کشکول توڑنا ہے تو اسے بہتر بنانا ہو گا۔ انفرااسٹرکچر اور توانائی کے شعبے بہتر ہوئے لیکن جاری خسارہ موافق نہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ مضبوط معیشتوں نے جارحیت کا بھی سامنا کیا ہے کیونکہ مختلف عالمی نظریات میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تبدیلی آئی ہے۔

قمر جاوید باجودہ نے کہا کہ سی پیک اور دیگر منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان منصوبوں پر کام کرنے والے چینی دوستوں کو آرمی سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے تاہم ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ خطے میں تاریخی مسائل اور منفی مقابلوں کا رجحان رہا ہے ہمارے مشرق میں جنگی جنون میں مبتلا بھارت اور مغرب میں غیر مستحکم افغانستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر مسائل کے سفارتی، فوجی اور معاشی حل کی کوششیں کر رہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مشرق اور مغرب میں اپنے ہمسایہ ملکوں کو پرخلوص پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا مقدر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہمارا خطہ ڈوبے گا تو اکٹھے ڈوبے گا اس کی کشتی رواں ہو گی تو اکٹھے رواں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک میں کھیل و ثقافت کے بڑے ایونٹ کرائے، محرم مکمل پرامن رہا، بوہرہ برادری اس کی گواہی دے گی جس کا بڑا اجتماع یہاں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو شکست دی جا چکی ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ دشمن جب بھی پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو کراچی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ کراچی ہمیشہ محفوظ و مامون رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر قائد میں امن ہماری پہلی ترجیح ہے ہمیں امید ہے کہ کراچی میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی لائحہ عمل پرعمل درآمد کے لیے جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔