- الإعلانات -

کرم ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ، 4 اہلکار شہید

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والے تین دھماکوں کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 4 اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایف سی کا بم ڈسپوزل اسکواڈ کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد سے متصل علاقے خرلاچی میں معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہا تھا کہ اچانک دھماکا ہو گیا۔

مذکورہ دھماکے کی اطلاع کے بعد زخمیوں کی مدد کے لیے سیکیورٹی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے تو مزید دو دھماکے ہوگئے، جس کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔

ابتدائی طور پر ان دھماکوں کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا، تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج مزید ایک زخمی اہلکار دم توڑ گیا۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے شرپسندوں کی تلاش کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایف سی کے جس اسکواڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ دو روز قبل غیر ملکیوں کی بازیابی کے لیے کیے گئے سرچ آپریشن میں شامل تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکوں میں شہید ہونے والوں میں کیپٹن حسنین، سپاہی سعید باز، سپاہی قادر اور سپاہی جمعہ گل شامل ہیں جبکہ زخمی اہلکاروں میں نائیک انور، سپاہی ظہیر اور لانس نائیک شیر افضل شامل ہیں۔

خیال رہے کہ کہ چند روز قبل ہی پاک فوج نے امریکی حکام کی جانب سے انتہائی اہم انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے بعد خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں کارروائی کرتے ہوئے شمالی امریکی خاندان کو دہشت گردوں کی قید سے آزاد کرایا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کا ماننا ہے کہ کینیڈین خاندان کے اغوا میں حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔