- الإعلانات -

قندیل قتل کیس: مفتی قوی 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ملتان: معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس میں گرفتار ملزم مفتی عبدالقوی کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

مفتی عبدالقوی کو پولیس نے ملتان کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے مفتی قوی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے قندیل بلوچ کے کیس میں نامزد ملزم مفتی عبدالقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے، تاہم انہوں نے 17 اکتوبر تک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

بعد ازاں گذشتہ روز (18 اکتوبر کو) ملتان کی سیشن عدالت نے مفتی عبدالقوی کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج کردی، جس کے بعد مفتی قوی احاطہ عدالت سے فرار ہوگئے، تاہم پولیس نے انہیں ملتان سے جھنگ جاتے ہوئے ہائی وے سے گرفتار کرلیا تھا۔

دوسری جانب سٹی پولیس افسر (سی پی او) ملتان محمد سلیم نے قندیل بلوچ قتل کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر نور اکبر کو ناقص تفتیش٬ مفتی عبدالقوی کو احاطہ عدالت سے فرار کروانے اور مقدمے میں رعایت دینے پر معطل کردیا تھا، جن کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیے جانے والے مفتی عبدالقوی کی حوالات میں حالت غیر ہوگئی جس پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایس پی کینٹ ڈاکٹر فہد کا کہنا تھا کہ دل میں تکلیف اور ہائی بلڈ پریشر پر مفتی قوی کو دل کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق علاج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس کی پیروی کے دوران 3 تفتیشی افسران کو ناقص تفتیش کرنے پر معطل کیا جاچکا ہے جبکہ واقعے کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی مقدمے کا حتمی چالان پیش نہیں کیا جا سکا۔

فیس بک ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی نے گذشتہ برس 15 جولائی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ماڈل کے بھائی وسیم کو مرکزی ملزم قرار دے کر گرفتار کیا تھا اور بعدازاں ان کے کزن حق نواز نے بھی گرفتاری دے دی تھی۔

دوسری جانب فیس بک اسٹار قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت اعانت جرم کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قندیل بلوچ کے قتل سے کچھ عرصہ قبل ان کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ متنازع سیلفیزسامنے آئی تھیں جنھوں نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کردیا تھا۔