- الإعلانات -

آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے اب خبر کو عوام سے زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا

اسلام آباد(وقائع نگار،نیوزرپورٹر)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز ٹی وی کے چیئرمین سردار خان نیازی نے کہا ہے کہ آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے اب خبر کو عوام سے زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔پرائیویٹ چینلز کے آنے سے مقابلے کارجحان بڑھا ہے ۔اس لیے ہر وقت بریکنگ نیوز کی کوشش رہتی ہے ۔مالکان اور ورکنگ جرنلسٹ ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں ۔یہ بات انہوں نے گذشتہ روز چوتھی سالانہ میڈیا کانفرنس کے اختتامی سیشن سے اپنے خطاب کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ بعض ٹی وی چینلز ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں پیمرا کے ضابطہ اخلاق اور قواعد وضوابط کی پرواہ نہیں کررہے اورکھلم کھلا خلاف ورزی کررہے ہیں ۔پیمرا کوچاہیے کہ وہ اس امر کانوٹس لے ۔انہوںنے کہا کہ ریاستی میڈیا اپنی غیرجانبدارانہ حیثیت کو برقراررکھنے کے بجائے حکومت کا پبلسٹی ونگ دکھائی دیتا ہے ۔نجی میڈیا کے آنے سے ایک نئی دنیا پیدا ہوئی ہے ۔پرائیویٹ میڈیا نے ملک وقوم کو بہت کچھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ادارے ڈیلی پیٹریاٹ میں مسنگ پرسن کے حوالے سے ایک خبر چھاپی جس دور میں یہ خبر شائع ہوئی کوئی دوسرا ادارہ اسے چھاپنے کی جرات تک نہیں کرسکتا تھا ۔چنانچہ میرے ادارتی سٹاف کو بھی 8دن حوالات میں گزارنا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز ٹی وی نے ہمیشہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کی ہے ہم نے عوامی مفادات کو سب سے پہلے رکھا ۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر میڈیا ہاﺅس کے مالکان اور کارکنان کے درمیان تفرقہ پیدا کرتے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں اگر جرنلسٹ نہ ہوں تو مالکان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور اگر مالکان نہ ہوں تو جرنلسٹ معاشی مسائل کا شکار رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پبلشر وہ ہونا چاہیے جسے حالات و واقعات کا مکمل پتہ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ملٹی پروفیشنل اور سی ڈی اے کی آپس کی ملی بھگت کی خبر بریک کی جس پر قوم کے 70ارب روپے ڈوبنے سے بچ گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا گروپ نے پہلی بار ملکی تاریخ میں صحافتی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جس کی عدلیہ ،پارلیمنٹ کے مبران،حزب اختلاف نے کھل کر تعریف کی اور دوسرے میڈیا ہاﺅسز کے مالکان کو بھی کہا کہ وہ اس کی تقلید کریں انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے کارکن ساتھیوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر عوامی مفاد میں خبریں شائع کیں جس پر مجھے اور میرے کارکنان کو حراساں کیا گیا ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں مگر ہم نے اپنے ضابطہ اخلاق سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کی ۔انہوں نے کہا کہ اخبارات ،ریڈیو ،ٹی وی چینلز،رسالوں ،میگزین کو مانیٹر کرنا حکومت کا کام ہے جب حقیقی مانیٹرنگ ہوگی تو سب کو پتہ چلے گا کہ ملک میں کیا ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اب اتنا اندھیرا بھی نہیں ہے کہ سچ بات کو پردوں میں چھپایا جاسکے ۔100سے زیادہ ٹی وی چینلز کام کررہے ہیں اگر کوئی ایک خبر پر پردہ ڈالتا ہے تو دوسرا چینل اسے نمایاں کرکے چلا دیتا ہے ۔معروف صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت عوامی پیسے کے بل بوتے پر اپنی پبلسٹی مہم چلاتی ہے ۔یہ بدعنوان حکومت کا وطیرہ رہا ہے ۔نیب کے ڈائریکٹر میڈیا نوازش علی خان عاصم نے کہا کہ پاکستانی میڈیا اپنا کردارنہایت ذمہ داری سے ادا کررہا ہے اور کرپشن کیخلاف عوام میں آگاہی پیدا کررہا ہے ۔ریڈیو پاکستان کے سابق ڈا ئریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ اس وقت ایسے آزاد میڈیا کی ضرورت ہے جو حکومت کا محتاج نہ ہو انہوں نے کہا کہ تیسری دنیا میں آزاد صحافت کا تصور بہت مشکل ہے ۔ایڈ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آصف صلاح الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا کو اپنی ثقافتی اور مذہبی روایات کی پاسداری کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ مال ودولت سے اخلاقیات زیادہ قیمتی ہے ۔