- الإعلانات -

خواتین پر چاقو سے حملے:پولیس نے 50مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

کراچی پولیس نے خواتین پر تیز دھار آلے سے حملوں کی جاری تحقیقات کے دوران 50 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

بیشتر مشتبہ افراد کو مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔

حکام نے کہا کہ پولیس کو چاقو سے حملے کے پیچے سیاسی ایجنڈا کا شبہ ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو خراب ثابت کیا جائے اور شہر میں عدم استحکام کی فضا بنائی جاسکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے بیشتر افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن، ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جاچکا ہے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے حراست میں لیے جانے والوں میں سے 27 کو ان کے کوائف کی تصدیق کے بعد رہا کردیا۔

دوسری جانب حراست میں لیا گیا آصف نامی مشتبہ شخص گلستان جوہر پولیس تھانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، تاہم اسے فوری طور پر جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) سے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔

آصف نے میڈیا کو بتایا کہ خواتین پر چاقو سے حملوں میں ملوث ہونے کے ’اقرار‘ کے لیے پولیس نے اس پر تشدد کیا۔

تاہم کراچی ایسٹ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) سمیع اللہ سومرو نے آصف کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے اسے موٹرسائیکل کے کاغذات نہ ہونے پر گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ آصف کو ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر اور کانسٹیبل تھانے لے گئے جہاں سے وہ فرار ہوا۔

واضح رہے کہ پولیس کے پاس 25 ستمبر سے 5 اکتوبر تک گلستان جوہر اور گلشن اقبال کے علاقوں میں موٹر سائیکل سوار ملزم کے ’تیز دھار آلے‘ سے حملے کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے نتیجے میں مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے مذکورہ ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، تاہم فوری طور پر کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔

گلستان جوہر اور گلشن اقبال کے علاقوں میں خواتین پر حملوں کا بظاہر شروع ہونے والا سلسلہ اب شہر کے دیگر اضلاع تک پھیل چکا ہے۔

گزشتہ روز بھی کراچی کے علاقے ملیر میں لڑکی کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزم نے تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کردیا۔

متاثرہ لڑکی جذبہ جاوید کا کہنا تھا کہ وہ سڑک پار کر رہی تھیں کہ اچانک ایک دبلے پتلے لڑکے نے ان کے ہاتھ پر وار کیا اور فرار ہوگیا۔

پیر کی رات فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں جواں سالہ لڑکی کو موٹر سائیکل سوار نے حملہ کرکے زخمی کیا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا اس واقعے کا گلستان جوہر اور گلش اقبال میں پیش آنے والے واقعات سے کوئی تعلق تھا۔

15 اکتوبر کو پنجاب کے شہر ساہیوال کی پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے کراچی میں خواتین کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا، جس کی شناخت وسیم کے نام سے ہوئی۔

تاہم مشتبہ شخص کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کراچی منتقل نہیں کیا گیا اور پنجاب پولیس نے سندھ پولیس کو بتایا کہ وہ اس سے پہلے ساہیوال، راولپنڈی اور لاہور میں خواتین پر حالیہ حملوں کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔