- الإعلانات -

پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکرت بحال کرنے کا فیصلہ

بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطے حوصلہ افزا ہیں، چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مل کر حل کریں، ان مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں ، یہ فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے کہ سفارت کاری کے لیے کون کس اجلاس میں جائے گا اور بات چیت میں کون نمائندگی کرے گا، امریکہ تو بس چاہتا ہے کہ بات چیت جاری رہے، اسے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کی ہفتہ وار پریس بریفنگ
پاکستان اور بھارت کی جانب سے دیرینہ مسائل پر بات چیت کے لیے جامع مذاکرات کے سلسلے کی بحالی کے اعلان کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔دونوں ممالک نے اسلام آباد میں تین برس سے زیادہ عرصے سے معطل مذاکراتی عمل کو نئے سرے سے بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد کشمیر، انسدادِ دہشت گردی، سکیورٹی سمیت تمام مسائل پر مذاکرت کا دوبارہ سے آغاز ہو گا۔ امریکہ نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطے حوصلہ افزا ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل پر جامع مذاکرات کا سلسلہ 1998 میں شروع ہوا تھا۔ 1999 میں کارگل کی جنگ کے بعد یہ معطل ہو گئے۔ جس کے بعد 2004 اور 2005 میں جامع مذاکرات کے ادوار ہوئے تھے لیکن 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے اور بات چیت کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔ 2010 میں ’دوبارہ جامع مذاکرات‘ کے نام سے شروع ہونے والے مذاکرات 2012 میں ختم ہو گئے تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مل کر حل کریں اور ان مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں جن کا انھیں تاحال سامنا ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے کہ سفارت کاری کے لیے کون کس اجلاس میں جائے گا اور بات چیت میں کون نمائندگی کرے گا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ تو بس چاہتا ہے کہ بات چیت جاری رہے اور اسے لیے وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا سمجھتا ہے کیونکہ یہ بالکل وہی چیز ہے جس کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔