- الإعلانات -

کوہاٹ: عاصمہ قتل کیس کے مرکزی ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری

کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ قتل کے مفرور ملزم مجاہداللہ آفریدی کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کردیے گئے جو عمرے کے ویزے پر سعودی عرب فرار ہوچکے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کوہاٹ عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے خلاف ریڈ وارنٹ انٹرنیشنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) سے ان کی واپسی کی غرض سے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ان کا ساتھی پولیس کی حراست میں ہے۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ مجاہداللہ سے متعلق تمام دستاویزات فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ مجاہد اللہ آفریدی نے رشتے سے انکار پر مبینہ طور پر ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ کو اپنے بھائی صدیق اللہ کی مدد سے قتل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:کوہاٹ میں رشتے سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ قتل
متاثرہ خاندان نے پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ مرکزی ملزم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کے بھتیجے ہیں تاہم خیبر پختونخوا (کے پی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کیس کی تفتیش کے حوالے سے کسی طرح کے سیاسی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔

مقتولہ عاصمہ کی بہن صفیہ رانی کا کہنا تھا کہ مجاہداللہ نے اس سے قبل فون پر انھیں دھمکی دی تھی کہ وہ عاصمہ کو مار دے گا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کے حوالے س

کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ قتل کے مفرور ملزم مجاہداللہ آفریدی کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کردیے گئے جو عمرے کے ویزے پر سعودی عرب فرار ہوچکے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کوہاٹ عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے خلاف ریڈ وارنٹ انٹرنیشنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) سے ان کی واپسی کی غرض سے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ان کا ساتھی پولیس کی حراست میں ہے۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ مجاہداللہ سے متعلق تمام دستاویزات فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ مجاہد اللہ آفریدی نے رشتے سے انکار پر مبینہ طور پر ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ کو اپنے بھائی صدیق اللہ کی مدد سے قتل کردیا تھا۔

متاثرہ خاندان نے پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ مرکزی ملزم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کے بھتیجے ہیں تاہم خیبر پختونخوا (کے پی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کیس کی تفتیش کے حوالے سے کسی طرح کے سیاسی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔

مقتولہ عاصمہ کی بہن صفیہ رانی کا کہنا تھا کہ مجاہداللہ نے اس سے قبل فون پر انھیں دھمکی دی تھی کہ وہ عاصمہ کو مار دے گا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کے حوالے سے متاثرہ خاندان کی جانب سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی تھی اور ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق حکم کی تعمیل کی گئی ہے۔

ے متاثرہ خاندان کی جانب سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی تھی اور ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق حکم کی تعمیل کی گئی ہے۔