- الإعلانات -

سوشل میڈیا میں سینیٹر کی ویڈیو پر غصے کا اظہار

ملک میں بچوں کے استحصال کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد فیس بک کے ایک پیچ میں سینئرقانون ساز کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو پرسوشل میڈیا میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 مذکورہ سینیٹر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نثارمحمد ہیں جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن سینیٹ ہیں جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے رکن بھی ہیں۔

سوشل میڈیا میں جاری ویڈیو سینیٹر کی کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں جعلی مقابلے میں ماورائے قانون قتل کیے گئے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے میں تقریر کے دوران ریکارڈ کی گئی جو وہاں پہنچنے والے سینیٹ وفد کا حصہ تھے۔

سینیٹ وفد کی سربراہی نسرین جلیل کررہی ہیں تھی جس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر اور شاہی سید سمیت دیگر شامل تھے۔

وفد نے سہراب گوٹھ میں جرگے کے منتظمین سے ملاقات کی اور وہاں پر موجود جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی سے بھی ملاقات کی۔

خیال رہے کہ وہاں پر موجود سینیٹرز اور منتظمین سمیت کسی بھی فرد کی جانب سے سینیٹر کی تقریر کے دوران بظاہر نامناسب رویے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تاہم سوشل میڈیا میں غصے کا اظہار کیا گیا۔

جرگہ ختم، اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

علاوہ ازیں سہراب گوٹھ میں گزشتہ کئی روز سے جاری جرگے کو وفد کے دورے کے بعد ختم کردیا گیا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے جرگے کے ایک منتظم ظفر محسود کا کہنا تھا کہ جرگے کو اس لیے ختم کیا گیا کہ سینیٹرز اور آغا سراج درانی کی جانب سے ان کے قانونی مطالبات کو پورے کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔

سہراب گوٹھ میں اس جرگے کا آغاز 18 جنوری کو ہوا تھا جب نقیب اللہ کے والد وزیرستان سے کراچی پہنچے تھے۔

جرگے کے حوالے سے ظفر محسود کا کہنا تھا کہ کراچی میں ختم کردیا گیا ہے اور مظاہرین نے اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔