- الإعلانات -

چیف جسٹس صاحب سے صحافت کے ناطے چند گزارشات

صحافت کے ادنیٰ طالب علم /کارکن ہونے کے ناطے میں اس بات کی اہمیت شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ احساس ذمہ داری اور سنجیدگی کے بغیر میڈیا نہ صرف اپنی افادیت کھو بیٹھے گا بلکہ اس کا اعتبار بھی جاتا رہے گا۔ یہ بات بھی ہمیشہ میرے پیش نظر رہی کہ صحافت محض ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک مقدس مشن ہے اور اس میں ان بنیادی اقدار کو کسی بڑے سے بڑے کارپوریٹ مفاد کو بھی نظر نہیں کیا جا سکتا جن کا تعلق ہماری تہذیبی ، ثقافتی ، اخلاقی ، قانونی اور مذہبی اقدار سے ہے۔ چنانچہ میں نے از خود اپنے ادارے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بنایا جس میں چند چیزیں طے کر دیں۔
یہ طے کر دیا کہ اسلام اور اس کی’’ مبادیات ‘‘کے خلاف یا برعکس کچھ بھی نشر یا شائع نہیں ہو گا۔ مقدسات کا احترام لازمی کیا جائے گا۔ ہیجان اور سنسنی خیزی سے پر ہیز کیا جائے گا۔ ہم نے اہتمام سے دن میں پانچ وقت اذان مقررہ وقت پر نشر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت چاہے جو بھی دکھایا جا رہاہو اسے روک دیا جاتا ہے اذان نشر کی جاتی ہے، الحمد للہ یہ سلسلہ چھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہے۔جس پر امام کعبہ نے تعریف کی اور ادارے کو ایوارڈ سے بھی نوازا۔ ہم نے آیات و احادیث کا ترجمہ افادہ عامہ کے لیے نشر کیا۔ہم نے یہ بات بھی طے کر دی کہ عدلیہ اور افواج کے خلاف کچھ نشر نہیں ہو گا کہ یہ ہماری ریاست کے وہ ادارے ہیں جن کا احترام لازم ہے۔اس احترام سے بے نیازی سے سوائے انتشار کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔قانون کی حکمرانی ہمارا خواب ہے اور اس جدو جہد میں ہم ایک سپاہی کے طور پر کھڑے ہیں اور کبھی اپنا مورچہ خالی نہیں چھوڑا۔اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ میرے کئی کالموں اور خبروں کو سپریم کورٹ نے عزت بخشی اور ان پر سو موٹو لیے اور سپریم کورٹ کے آرکائیوز اس پر گواہ ہیں۔
اب جب کہ زینب بیٹی کے قتل کیس میں ہیجان پیدا ہوا اور محترم آنجناب نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے کچھ صحافیوں کو طلب فرمایا تو ایک گونا اطمینان سا ہوا کہ محترم آنجناب اس ملک میں اب ایک ذمہ دار میڈیا کے خواب کو پورا کریں گے۔میڈیا کے بارے میں حکومت کوئی قانون بنائے تو گمان رہتا ہے مخالفین کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا جائیگا لیکن یہی کام عدالت کرے تو ایسا کوئی خدشہ نہیں ہوتا اور سب ہی عدالت کا احترام کرتے ہیں۔
بروز اتوار28 جنوری 2018ء کو جب عدالت لگی تو میں نے ٹی وی سکرینوں پر دیکھا کہ’’ مجیب الرحمن شامی ‘‘بھی رواں دواں ہیں۔جب رواں دواں ہیں تو عدالت کو مشورے بھی دیں گے ۔صحافت پر مشورے اور’’ مجیب الرحمن شامی‘‘۔یعنی ’’وہ شخص‘‘ جو میرے ادارے پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے، جس کے خلاف میرے کم وبیش بیس کے قریب مقدمات نہ صرف ماتحت عدالتوں بلکہ ہر عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں بھی زیر سماعت ہیں ، ہائی کورٹ لاہور میں تو برسوں سے روزنامہ پاکستان لاہورکے ڈیکلریشن کا ایک ایسا کلیدی مقدمہ نمبر Press Appeal No 1-C/2004 سردارخان نیازی بنام عمر مجیب شامی وغیرہ زیر سماعت ہے ،جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون نے مورخہ 03/03/2009کو حکم دیا تھا کہ اس کیس کا دو ہفتوں میں فیصلہ کر دیا جائے ،لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا

۔


جو شخص اپنے دستخط شدہ اداریوں اور دیگر کئی تحاریر میں بھی تسلیم کر چکا کہ روزنامہ پاکستان میں اس کی نہیں بلکہ سردار خان نیازی کی سرمایہ کاری ہے اور جس اخبار پر میری ملکیت کا اعتراف حکومت پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نصاب میں بھی موجود ہے۔حقیقت میں مجھے دکھ ہوا کہ میرے اخبار پر قبضہ کر کے اب مقبوضہ روزنامہ پاکستان لاہور کے نام سے یہ شخص جس کے اپنے ہاتھ صاف نہیں وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر ذمہ دارانہ صحافت پر بات کرے گا۔



خیال تو پھر خیال ہوتا ہے جو ہوا کی مانند اڑتا ہے تو یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا میرے ادارے ’’روزنامہ پاکستان لاہور‘‘ اور اس کی جائیداد پر ’’قابض شخص ‘‘جہاں موجود ہے وہاں اس میڈیا ہاؤس کے اصل مالک کو یعنی مجھے بھی حکم دیا جاتا کہ حاضر ہو ۔ہم تو وزارت اطلاعات سے یہی التجا کرتے آئے کہ ہر میڈیا ہاؤس کو ایک نظر سے دیکھے اب اگر انصاف کے سب سے بڑے مرکز میں بھی سبھی حاضر ہوتے تو شاید اس سے وزارت اطلاعات بھی ہماری بات سمجھ پاتی کہ سب میڈیا ہاؤسز برابر کے سلوک کے مستحق ہیں۔شامی صاحب کا ذمہ دار میڈیا پر مشورہ دینا تو ایسا ہی ہے جیسا کوئی بلا بلکہ باگڑ بلا یہ دعویٰ کرے کہ اسے اب دودھ کی رکھوالی سونپی گئی ہے۔
میں تو ہمیشہ اداروں کا احترام کرتا آیا ہوں۔ حتیٰ کہ آنجناب چیف جسٹس صاحب نے جب روزنامہ پاکستان ملتان کے کیس FAO No 289/2005سردار خان نیازی بنام ڈی سی او ملتان وغیرہ میں لاہور ہائی کورٹ میں میرے خلاف فیصلہ دیا تو میں نے اس پربھی یہی سمجھا کہ شاید میرے وکیل اورمجھ سے عدالت کی صحیح رہنمائی نہیں ہوئی اور ہم اپنی بات درست طریقے سے نہیں سمجھا سکے ہوں گے جبکہ اس کے برخلاف حکمران خاندان کے دفاع میں’’ مجیب الرحمن شامی ‘‘نے عدلیہ کے خلاف جو لکھا وہ سب کے سامنے ہے ۔میں تو اس کو بھی برداشت نہ کر سکا اور عدلیہ کے حق میں ایک جواب آں غزل کہہ دی۔ تاہم انسان کمزور ہوتا ہے اور ایسے ہی ایک کمزور لمحے میں مجھے خیال آیا کہ شامی صاحب کے خلاف میرے کئی کیسز زیر سماعت ہیں ۔اب وہ صحافت کے امور پر سپریم کورٹ کے حضور پیش ہونے کے بعد اس عزت افزائی کا غلط مطلب نہ پیش کرنا شروع کر دیں۔اور اس طرح ان کیسز پر اثر انداز نہ ہوں۔تاہم میں نے فوراً ہی اس خیال کو جھٹک دیا کیونکہ مجھے اپنی عدلیہ پر پورا یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گی۔
باقی جہاں تک معاملہ ہے صحافت کا تو ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ، کبھی اذن باریابی ملا تو کچھ مشورے اور درخواستیں میڈیا کی بہتری کے لیے ہم بھی پیش کرنا چاہیں گے۔
اب جبکہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں آچکا ہے تو چیف جسٹس آف پاکستان میڈیا کیلئے ایسا ضابطہ اخلاق تشکیل دے دیں جس سے آئندہ آنے والی نسلیں بہرہ ور ہوسکیں ۔