- الإعلانات -

سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کیس کی سماعت 8 فروری کو ہوگی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے میمو گیٹ کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا جبکہ کیس کی سماعت کے لیے 8 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے میموگیٹ کیس میں 24 درخواست گزاروں کو بھی نوٹس جاری کردیے ہیں جن میں سابق وزیراعظم نواز شریف، اسحاق ڈار، عبدالقادر بلوچ، غوث علی شاہ، حسین حقانی، اقبال ظفر جھگڑا، راجہ فاروق حیدر،حفیظ الرحمان، مولوی اقبال حیدر اور شفقت اللہ وغیرہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران میموگیٹ کیس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

میموگیٹ اسکینڈل کا کیس اس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے جس کے بعد حسین حقانی کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

حسین حقانی اور میموگیٹ کیس

گزشتہ برس ستمبر میں حسین حقانی نے جیو نیوز کو بتایا تھا کہ ’’میموگیٹ محض میڈیا پر مچایا جانے والا شور تھی اور یہی وجہ تھی کہ سپریم کورٹ میں اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوا‘‘۔

مارچ 2017 میں اس وقت کے وزیر دفاع اور موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے حسین حقانی کے امریکی اخبار میں شائع ہونے والے اس مضمون کی پارلیمانی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے امریکا سے قریبی تعلقات نے حسین حقانی کے کمپاؤنڈ پر کارروائی کی راہ ہموار کی۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق سفیر یہ وعدہ کرکے بیرون ملک گئے تھے کہ وہ پاکستان واپس آئیں گے لیکن وہ اب تک واپس نہیں آئے۔

امریکی اخبار میں حسین حقانی کے مضمون کی اشاعت اور میڈیا پر معاملہ اٹھائے جانے کے بعد خود پیپلز پارٹی نے بھی حسین حقانی پر غداری اور پاکستان مخالف عناصر کی ایماء پر مسلح افواج کو بدنام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

21 جنوری 2018 کو سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوہاٹ کے دو پولیس تھانوں میں مسلح افواج کے خلاف نفرت انگیز تقریر اور پاکستان کی خودمختاری کے خلاف بات کرنے پر حسین حقانی کے خلاف تین ایف آر درج کرائی گئی تھیں۔

حسین حقانی کی جانب سے بھیجے جانے والے میمو میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہوجائے۔

میمو گیٹ میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے امریکا سے معاونت مانگی گئی تھی تاکہ حکومت ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قابو میں رکھ سکے۔

اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ میمو درست ہے اور اسے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت امریکا کی حامی ہے۔