- الإعلانات -

’ آمروں اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ نے جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیا’

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ آمروں اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ نے جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیا، ہر دور میں کسی نہ کسی طرح ایسی کوششیں ہوتی رہیں کہ مقبول جماعتوں کے مقابلوں میں کٹھ پتلی جماعتیں کھڑی کی گئیں۔

کراچی میں ‘جمہوریت کا مستقبل’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے جمہوریت کی آب و ہوا میں گرد و غبار آج بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی تاریخ جمہوریت پر پے درپے حملوں سے بھری ہوئی ہے اور آج بھی سیاسی مطلع پوری طرح صاف نہیں ہوا۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو مرضی کا کھلونا بنانے کی روایت جاری ہے اور جمہوریت جب بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی اس پر کلہاڑی چلا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نظریہ ضرورت اور کامیاب انقلاب کی تھیوری ہماری عدلیہ کے ایک حصے کو ضرور پسند آئیں جبکہ ماضی میں عدلیہ کے ایک حصے نے اسی نظریے کا سہارا لے کر مارشل لاء کو درست قرار دیا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ہمیشہ نظریہ ضرورت کا سہارا لیا گیا اور افسوس اس بات کا ہے کہ عدلیہ کے ایک حصے نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں نظریہ ضرورت اور کامیاب انقلاب کی تھیوری ہر مرتبہ آمر کا ساتھ دیتی رہی اور جمہوریت کی گردن اڑاتی رہی اور اسی وجہ سے پاکستان اور آئین ہار گیا اور نظریہ ضرورت جیت گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں سلام کرنے کو جی چاہتا ہے اور میں جسٹس (ر) مرحوم سعید الزماں صدیقی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی سی او کے حوالے سے محمود خان اچکزئی کی بات سے میں اتفاق کرتا ہوں کیونکہ اس ملک کی تباہی کی وجہ پی سی او بنا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہم پارلیمان میں بیٹھ کر اس حوالے سے بھی کام کریں گے کیونکہ اگر ملک کی سمت درست کرنی ہے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماضی میں کئی وزرا اعظم کو مدت سے پہلے فارغ کردیا گیا اور قوم جانتی ہے کہ میرے ساتھ کیا تماشا ہوا جبکہ بلوچستان میں کیا ہوا سب کے سامنے ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کیسے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے 70 سال میں کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا جبکہ آمروں نے 10 سے 12 سال حکومت کی اور اس دور میں 30 سال سے زائد ملک میں آمروں کا دور رہا۔

انہوں نے کہا کہ آمروں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا لیکن میں اس تلخ تاریخ کے باوجود یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔

خیال رہے کہ نواز شریف یکم فروری کو دو روزہ دورے پر کراچی پہنچے تھے جہاں گورنر سندھ محمد زبیر نے ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر عابد شیر علی اور سینیٹر آصف کرمانی بھی سابق وزیراعظم کے ہمراہ کراچی پہنچے تھے۔

اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر انہیں 2018 میں ایک مرتبہ پھر موقع ملا تو کراچی کو لاہور سے بھی آگے لے جائیں گے۔