- الإعلانات -

نقیب اللہ کی ہلاکت، قبائلی جرگے کی وزیراعظم سے ملاقات

اسلام آباد: کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کے معاملے پر مختلف قبائل کے عمائدین پر مشتمل جرگے نے وزیراعظم شاہد خاقان سے ملاقات کی جس کے دوران قتل کے ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نقیب اللہ کام عاملہ صرف صوبائی حکومت کا نہیں ریاست کا معاملہ ہے، قاتلوں کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے نام پر وزیرستان میں ایک کالج بھی تعمیر کیا جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قبائلی عوام نے قربانیاں دیں اور پوری قوم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قبائلی عوام کی آباد کاری میں ہر ممکنہ تعاون جاری رکھے گی، بارودی سرنگوں کے نتیجے میں زخمیوں کومعاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے کام تیز کریں گے۔

ملاقات میں گورنر خیبر پختونخوا، طارق فضل چودھری اور امیر مقام بھی شریک تھے

نقیب اللہ کا ماورائے عدالت قتل اور تحقیقات

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔

بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

بعدازاں آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا

گذشتہ ماہ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

ان کی تلاش میں اسلام آباد میں بھی چھاپہ مارا گیا، لیکن راؤ انوار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

جس کے بعد سپریم کورٹ نے یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دی اور ساتھ ہی حساس اداروں کو بھی اے ڈی خواجہ کی معاونت کی ہدایت دی۔