- الإعلانات -

سندھ میں رینجرز کی مدت میں توسیع کا معاملہ سنجیدہ ہے ، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائ اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کا معاملہ سنجیدہ ہوگیا،اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ رینجرز کی توسیع کے حوالے سے سندھ حکومت کے تحفظات کیوں پیدا ہوئے، اکیسویں ترمیم میں امتیازی شقوں کو ختم کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں قراردا جمع کردی ہے،پاکستان کے معاملہ پر افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنیادپر مستعفی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اورافغانستان کے تعلقات کو خراب کرنے والی لابی شکست کھارہی ہے، سانحہ آرمی پبلک سکول ملکی تاریخ کا بڑا المناک واقعہ تھا جس نے ساری قوم اور دنیا کورلایااور ایسا نقش چھوڑا جس کو مٹایا نہیں جاسکے گا،مری جیسے معاہدے نہیں کئے جانے چاہئیں۔جمعہ کو پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو یادرکھے جاتے ہیں۔ اے پی ایس سکول پشاورپر دہشت گردوں کاحملہ ملکی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ تھا جس نے ساری قوم اورساری دنیا کو رلایا،اورایسا نقش چھوڑا کہ جس کومٹایا نہیں جاسکے گا۔انھوں نے کہا کہ پہلے ہم دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے یاد کرتے تھے اب سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائیگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول رونماہونے کے حوالے سے ہماری غفلت بھی کم نہیں تھی۔کراچی میں رینجرز کی توسیع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اداروں اور حکومت کو سوچنا ہوگا کہ یہ معاملہ متنازعہ کیوں ہورہا ہے،کراچی میں رینجرز کے آپریشن سے حالات بہتر ہوئے ہیں، اب مسئلہ کو بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔یہ سنجیدہ معاملہ ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کی توسیع کے حوالے سے کیوں تحفظات کا شکارہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اکیسویں ترمیم میں امتیازی شقوں پر جس میں مذہب اور فرقہ کار لفظ شامل کیا گیا تھا اور جمعیت علمائ اسلام نے نشاندہی کی تھی لیکن اس پر توجہ کسی نے نہیں دی تھی،اب پارلیمنٹ میں قرارداد جمع کرادی ہے،پاکستان کے معاملے پر افغانستان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائر یکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنیاد پر مستعفی ہونے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے والی لابی شکست کھارہی ہے۔مسلم لیگ نوازکے ثنائ اللہ زہری کی وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے نامزدگی پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ صوبائی اور مرکزی سطح پر اس طرح کے معاہدے کیے جائیں کہ آدھا وقت ایک پارٹی اور آدھا وقت دوسری پارٹی حکومت کی قیادت کرے،تاہم وہ پر امید ہیں کہ ثنائ اللہ زہری تجربہ کار آدمی ہیں اور بلوچستان کے مسائل سے واقف ہیں اور اب معاہدہ پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں صوبے کے وزیر اعلی بن رہے ہیں،صوبہ کے حالات کو مزید بہتر کریں گے۔