- الإعلانات -

14 وفاقی سیکرٹریوں و اعلیٰ افسران کے خلاف اربوں کی کرپشن تحقیقات شروع

نواز شریف حکومت کے 14 وفاقی سیکرٹریوں و اعلیٰ افسران کے خلاف اربوں روپے کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کے حکام سیکرٹری داخلہ‘ سیکرٹری پٹرولیم کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف بھی کرپشن تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ خبر رساں ادارے آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات ان افسران کے خلاف مختلف ذرائع سے ملنے والی شکایات کی روشنی میں شروع کی گئیں ہیں۔ آن لائن کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق نیب نے سیکرٹری داخلہ شاہد خان کے خلاف نیشنل پولیس فاو¿نڈیشن میں شہدائ کے کوٹہ سے کروڑوں کا پلاٹ الاٹ کرانے پر تحقیقات جاری ہیں۔ سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا کے خلاف ایل این جی اور پی ایس او میں اربوں کی کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیب حکام نے ارشد مرزا کو پہلے طلب کر کے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔ سیکرٹری کامرس کے خلاف ایک ارب کی شوگر سکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں ان کے شریک ملزم ٹریڈنگ کارپوریشن کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ ان افسران نے 4 شوگر ملوں کو ایک ارب ادا کرنے کے باوجود شوگر وصول ہی نہیں کی تھی۔ سیکرٹری اقتصادی امور طارق باجوہ کے خلاف ٹیکس فراڈ کے ملزمان کو رعایت دینے کے الزام ہیں۔ جبکہ سیکرٹری مواصلات شاہد اشرف تارڑ پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر تحقیقات جاری ہیں۔ سابق سیکرٹری انفارمیشن اعظم خان کے خلاف 54 کروڑ کے اجرائ بارے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ ایوب شیخ کے خلاف مختلف الزامات کی تحقیقات ایف آئی اے کرنے میں مصروف ہے جبکہ سیکرٹری سول ایوی ایشن محمد علی گردیزی کے خلاف اسلام آباد ائیرپورٹ کے سکینڈل میں پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔ سیکرٹری خوراک و زراعت سیرت حسنین کے خلاف 10 ارب گندم سکینڈل کی تحقیقات شروع ہیں پی ایس او کے ایم ڈی عمران شیخ کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکرٹری ہاو¿سنگ اینڈ ورکس کے خلاف بہاہ کہو ہاو¿سنگ سکیم اور غلط الاٹمنٹ کی تحقیقات جاری ہیں۔