- الإعلانات -

پاکستان میں 46فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں

پاکستان میں 46فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، غربت کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقے ایتھوپیا کا منظر پیش کررہے ہیں، ملک میں چالیس فیصد لوگوں کی آمدن موبائل فون کے کارڈ کے برابر ہے غربت کی اصل وجوہات کرپشن مس مینجمنٹ اور غربت کو ختم نہ کر نا حکومت کی ترجیحی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اراکین سینٹ نے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی جانب سے ملک میں غربت کے خاتمے کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر بحث کرتے ہوئے کیا سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں 46فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ہمارے علاقے ایتھوپیا کا منظر پیش کررہے ہیں غربت کی وجہ سے لوگ خود کشیاں کرنے کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی فروخت کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چالیس فیصد لوگوں کی آمدنی موبائل فون کے کارڈ کے برابر ہے پاکستان بیس ہزار ارب ڈالرکا مقروض ہوچکا ہے پاکستان کا بجٹ پندرہ فصد ترقیاتی جبکہ پچاسی فیصد غیر ترقیاتی ہے حکومت چار ہزار ڈالر کا بجٹ پیش کررہے ہیں لیکن اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دولت کی تقسیم غیر منصفانہ ہے غربت کی ایک وجہ بجٹ کا ایک حصہ فوج لے جاتی ہے زرعی اصلاحات کا نہ ہونے بھی غربت کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ فوجی بجٹ کو کم سے کم رکھا جائے پیداواری بجٹ کو زیادہ سے زیادہ فوکس کرینگے دولت کی منصفانہ تقسیم ہو اور زرعی اصلاحات ہونی چاہیے کرپشن کرنے حوالے سے دولت لے کر قومی خزانہ میں واپس لائی جائے آئی ایم ایف و دیگر اداروں کی جانب سے ڈکٹیشن لینے کی بجائے حکومت محروم علاقوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی تحریک پر بحث کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے کہا کہ غربت اس ملک کا مقدر بن چکا ہے غربت کی وجوہات کرپشن مس مینجمنٹ اور غربت کو ختم نہ کرنے کی حکومتی ترجیحات نہ ہونا ہے ایم کیو ایم کے سینیٹر عابد حسین مشہدی نے کہا کہ آج کے دور میں عام پاکستانی ایک مربع میٹر کی جگہ نہیں لے سکتا حکومت نے کوئی نئی انڈسٹری نہیں لگائی بے روزگاری میں اضافہ ہوا نوکریاں فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ پٹرول کی قیمت چالیس ڈالر سے کم ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا مسلم لیگ (ن) کے جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ غربت کی وجوہات میں تعلیم کی جانب دھیان نہ دینا ہے پالیسیوں کے تسلسل کا نہ ہونا بھی غربت کی وجوہات میں شامل ہے۔عثمان خان کاکڑ نے غربت کے حوالے سے صحیح وجوہات بتائی ہے حکومت کو قرضوں کی صورتحال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر سردار محمد اعظم خان نے کہا کہ پاکستان میں پچاس فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان میں بلوچستان پہلے نمبر پر ہے صوبہ سندھ میں 35، خیبر پختونخواہ 30 فیصد اور پنجاب میں 19فیصد ہے آج بھی غریب غریب ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر ہوتا جارہا ہے حکومت کو غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے سینیٹر خالدہ پروین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر قسم کے وسائل سے نوازا ہے صرف نیت ٹھیک نہ ہونے کی و جہ سے غربت ختم نہیں ہورہی حکومت کی ترجیحات عوام دوست نہیں ہیں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومتوں نے غربت کو ختم کرنے کے حوالے سے کبھی کوئی اقدامات نہیں کئے حکومت کی پالیسیوں سے غربت ختم نہیں ہوئی بلکہ غریب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ایک فلاحی ریاست کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو متحد ہوکر ایک ایجنڈہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غربت کو ختم کیا جاسکے۔ سینیٹر سردار محمد اعظم خان موسی خیل نے کہا کہ جاگیرداری نظام نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے کسی سے پوچھے بغیر بڑے بڑے وفود کو دورہ پر باہر لے جاتے ہیں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انڈسٹریل اینڈ اکنامک ترقی کے نہ ہونے تک غربت نہ ختم نہیں ہوسکتی ملک میں غربت کے خاتمہ کیلئے حکومت کوٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر صالح شاہ نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے تک غربت ختم نہیں ہوسکتی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ غربت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے معاشی خوشحالی نہ ہونے تک جرائم بڑھے گے انڈسٹری کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ زراعت کو بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے غربت کی ایک وجہ کرپشن بھی ہے حکومت کی پرائیٹائزیشن کو مضبوط ، مواصلات ، تعلیم کی طرف رحجان کرے تو غربت کا خاتمہ میں مدد مل سکتی ہے سینیٹر حمزہ نے کہا کہ حکومت ٹھیک انداز میں اپنے فرائض ادا کرے تو غربت ختم ہوسکتی ہے اداروں کو اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے