- الإعلانات -

ناصرجنجوعہ کا پاکستان اور بھارت کو اہم مشورہ

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت دیول سے ملاقات کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اچھی شروعات قرار دیا ہے۔پڑوسی ملک کے اخبار ہندوستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ماضی میں پھنسے رہنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل کے حوالے سے خود سوچنا ہوگا، ہم اپنے بچوں کے لیے یہ نہیں چھوڑ سکتے.خیال رہے کہ رواں ماہ 6 دسمبر کو ناصر جنجوعہ کی بنکاک میں ہندوستان کے نیشل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دیول سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ہندوستان کی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کی، اسی دورے میں انہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور مشیر امور خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد پریس بریفنگ میں دونوں ممالک میں مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔بنکاک میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے انٹرویو میں ناصرجنجوعہ نے کہا کہ “ہم نے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا اور محسوس کیا کہ ہم ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں۔”یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ناصر خان جنجوعہ کو رواں سال اکتوبر کے آخر میں ہی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا ہے، حالیہ تقرری سے صرف 3 ہفتے قبل ہی وہ فوج سے لیفٹیننٹ جنرل کے رینک پر ریٹائر ہوئے، ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ سدرن کمانڈ (بلوچستان) کے کور کمانڈر تھے.تجزیہ کاروں نے ناصر خان جنجوعہ کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیے جانے کو ہندوستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دیول کے مقابلے میں اہم پیشرفت قرار دیا.واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ آئندہ ماہ ملاقات کریں گے جس میں دونوں ممالک کے ‘دوطرفہ جامع مذاکرات’ کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔پاکستان اور ہندوستان کے مابین مذاکرات دونوں جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث جنوری 2014 سے معطل ہیں.اس حوالے سے دونوں رہنماؤں نے متعدد بار کوششیں کیں، جس میں وزیراعظم نواز شریف کی مئی 2014 میں نریندرا مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت، دونوں رہنماؤں کے مابین نومبر 2014 میں کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر خفیہ ملاقات اور رواں برس جولائی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے موقع پر روس کے شیر اوفا میں سائیڈ لائن ملاقات بھی شامل ہے.اس کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں کے مابین مختلف مواقعوں پر ٹیلیفونک اور خطوط کے ذریعے بھی رابطہ ہوتا رہا، تاہم پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات سے پہلے ہونے والی یہ تمام کوششیں رائیگاں ہوتی ہوئی نظر آئیں اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول پر آتے ہوئے نظر نہیں آئے.