- الإعلانات -

شا ہ محمود نے پیپلزپارٹی ن لیگ تنازعے کاپول کھول دیا

تحر یک انصا ف کے وائس چیئر مین شا ہ محمو د قر یشی نے کہا ہے کہ اگر سند ھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وفا ق نے ان پر کوئی ضر ب لگا ئی ہے یا سند ھ کے حقو ق پر حملہ کیا جا رہا ہے تو اِس سلسلہ میں عد التیں مو جو د ہیں عد الت جا نے سے کیو ں کتر ا رہی ہے نیشنل ایکشن پلا ن کو تقسیم کو ن کر رہا ہے میں سمجھتا ہو ں کہ (ن) لیگ اور پیپلز پار ٹی غیر ذمہ دار ی کا مظا ہر ہ کر رہی ہے اور سیا ست کو ملکی مفا د پر ترجیح دے رہی ہیں۔ اِن خیا لا ت کا اظہا رانہوںنے حضر ت کر ما نو الہ شریف اوکاڑہ میں سا بق وزیز مملکت سید صمصا م علی شا ہ بخا ری کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطا ب کے دوران کیا اِ س مو قع پر سا بق گو رنر پنجا ب چوہد ری محمد سر ور اور پا رٹی عہدید اران بھی مو جو د تھے ۔ شا ہ محمود قر یشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی صو با ئیت کو ہوا دیتے ہو ئے سند ھ کا رڈ استعما ل کر تے ہوئے سیا ست کو چمکا نا چا ہتی ہے انہو ں نے کہا کہ اگر قومی اداروں کو متنا ز عہ بنا یا گیا تو نہ ملک کے مفا د میں ہوگا اور نہ سند ھ کے مفا د میں ہو گا ۔ شا ہ محمو د قر یشی نے کہا کہ وہ سند ھ کے اِس مطا لبے کو جا ئز سمجھتے ہیں کہ کر یشن کے خلا ف کا روائی ہو نی چا ہیے انہو ں نے کہا کہ 27 دسمبر کو پیپلز پا رٹی نے یہ واضح پیغا م دے دیا ہے کہ ان کا لیڈر آصف علی زرداری ہے جن کو پیپلز پا رٹی پار لیمنٹر ین کا صدر بنا یا گیا جبکہ بلا ول بھٹو زرداری کو صر ف ہمد ردیا ں لینے کے لئے رکھا گیا ہے انہوں نے ایک سو ال کے جو اب میں کہا کہ مو د ی نو از شر یف لا ہور ملا قا ت اتفا قاً نہیں اس کے پیچھے کچھ آپر یٹر ہیں اِس ملا قا ت میں جنوری میں دونو ں ملکوں کے سیکرٹر یز کی ملا قا ت کا عند یہ دیا گیا ہے جو مثبت اقد ام ہے انہو ں نے کہا کہ کر اچی آپر یشن کا سب نے مطالبہ کیا اور تعریف کی اِس میں کو ئی شک نہیں کہ رینجرز کی وجہ سے کر اچی میں امن آیا۔دریں اثناءسندھ اسمبلی میں ان ہاو¿س تبدیلی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی مخالف قوتوں کے رابطوں میں تیزی آگئی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے آئندہ سال مشکلات لے کر آنے والا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم، فنکشنل لیگ میدان میں آگئی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک متحد ہو گیاتو پیپلز پارٹی کے لیے سندھ میں حکومت بچانا مشکل ہو جائے گا، نئی صورت حال نے پی پی قیادت کی نیندیں اڑا دیں ہیں، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی سندھ میں ان ہاو¿س تبدیلی کے حق میں ہیں،جبکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس بارے میںتاحال کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں ان ہاو¿س تبدیلی کے لیے پاکستاں پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں ان ہاو¿س تبدیلی کے لیے گزشتہ 15سے 20 روز سے ایک فارمولے پرکام جاری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے کسی بھی طرح ہاو¿س کے اندر سے AAAتبدیلی ممکن بنائی جائے۔ ایم کیو ایم لیڈر نے بھی گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ میں اگلا وزیر اعلیٰ ہماراہی ہوگایہ بیان بلاوجہ نہیں دیا گیا بلکہ اس کہانی کی تیاری گزشتہ 2 سے4ہفتوں سے جاری تھی کہ پی پی کی رینجرز اور نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں انتہاپسندی کی پالیسی کے خلاف ایک واضح اسٹینڈ لیا گیا جو کہ اب کھل کر سامنے آ گےا ہے۔ پی پی اس کہانی کو ماننے کے تیار نہیں اور یہ صورتحال اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ پی پی کے پاس سندھ اسمبلی میںخواتین کے سیٹوں سمیت کل 86 نشستیں ہیں، دوسرے نمبر پر موجود متحدہ قومی موومنٹ 48 مسلم لیگ فنکشنل 10 اور مسلم لیگ )ن) کے پاس 6 نشستیں ہیںجبکہ جنرل نشستیں ملا کر پی ٹی آئی کی 4 مسلم لیگ (ق) کی ایک اور پی پی ایم کی 2نشستیں ہیں اور ایک آزاد امید وار بھی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک مل جائے تو سندھ میں ان ہاو¿س تبدیلی آسکتی ہے۔