- الإعلانات -

’چنگچی رکشہ‘ چلانے کی اجازت, مگر اسکی کچھ شرائط ہیں

سپریم کورٹ نے کراچی میں چنگچی رکشے چلانے کی اجازت کیس کی سماعت کے دوران چاروں صوبوں کو موٹر سائیکل رکشوں کی فٹنس اور سیفٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
[divider]

عدالت نے اس حوالے سے حفاظتی اقدامات اور مکینیزم تیار کرکے تین ماہ میں معائنہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا کا راج ہے، کراچی میں 1955 کے ماڈل کی بسیں چل رہی ہیں اور نئی بسیں ایک ہفتے میں فارغ ہوگئیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں میٹرو اور اورینج لائن منصوبوں کا افتتاح کیا جارہا ہے، جس کے جواب میں جسٹس گلزار نے کہا کہ لوگوں کو بلاوجہ خواب نہ دکھائیں۔

عدالت نے چنگچی رکشے چلانے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم دیا کہ حفاظتی اقدامات اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے حامل رکشوں کو روڈ پر چلنے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں سپریم کورٹ میں آل کراچی چنگچی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ چنگچی رکشوں پر پابندی کے باعث ہزاروں لوگ بیروزگار ہوگئے۔

سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ بیروزگاری کے نام پر لوگوں کی زندگیوں کو غیر محفوظ نہیں بنایا جاسکتا، جناح ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق شہر میں بیشتر حادثات کا سبب چنگچی رکشے ہوتے ہیں۔