- الإعلانات -

افغانستان کی مختلف جیلوں میں 200 کے قریب سویلین پاکستانی قیدی

اسلام آباد: افغانستان کی مختلف جیلوں میں200 کے قریب پاکستانی سویلین قیدیوں کا انکشاف ہواہے، حکومت نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے افغانستان سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی تجویزپرافغانستان نے بھی گرین سگنل دے دیا ہے، اس سلسلے میں ڈرافٹ کی تیاری شروع کردی گئی ہے جلد دونوں ملکوں کے درمیان جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس متوقع ہے۔ وزارت خارجہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان حکومت افغانستان میں باقاعدگی سے پاکستانیوں کے کیسز کی پیروی کرتی ہے، اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلر قیدیوں کی بھلائی اور تمام ضروری معاونت فراہم کرنے کیلئے جیلوں کا مسلسل دورہ کرتے ہیںاورقیدیوں کی رہائی کیلئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہیں اور قیدیوں کے کیسزکی پیروی کی جاتی ہے۔جیلوں سے رہا ہونے والے افراد کو واپسی کیلئے تمام ضروری معاونت فراہم کی جاتی ہے، اب حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی اس تجویز پر افغان حکومت نے بھی رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے متعلقہ حکام نے دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے متن پرکام شروع کردیا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ اس مسئلے پر جلد پیش رفت متوقع ہے، قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے متن کی تیاری کے بعد پاک افغان جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس مستقبل قریب میں متوقع ہے، اس سلسلے میں کام تیزی سے جاری ہے، دستاویزات کے مطابق اس وقت افغانستان کی مختلف جیلوں میں 200 کے قریب سویلین پاکستانی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جن کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔