- الإعلانات -

پی آئی اے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے خلاف نہیں "پی پی پیپارلیمنٹیرین کے رہنما سعید غنی”

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی) نے پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے بل سینیٹ میں پیش کرنے پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا۔

واضح رہے کہ حکومت گذشتہ ہفتے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن بل 2015 کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود قومی اسمبلی میں پیش اور منظور کروا کر قومی اثاثے کو پبلک پرائیویٹ کمپنی بنانے کی منظوری دے چکی ہے، تاہم اس حوالے سے سینیٹ سے منظوری کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے گذشتہ سال 5 دسمبر کو صدارتی آرڈیننس کے تحت پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے ایک قانون متعارف کروایا تھا، جس پر 31 دسمبر کو سینیٹ میں ایک قرار داد پیش اور منظور کرکے نافذ ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی۔

مذکورہ قرار داد پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے دونوں جانب کے 52 سینیٹ اراکین کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 89 ٹو کے تحت پیش کی تھی۔ اس قرار داد پر پی پی پی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی کے اراکین سمیت آزاد اراکین کے دستخط بھی موجود تھے۔

اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت خیبر پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے بھی قرار داد پر دستخط کیے تھے۔

ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹ میں پی پی پی-پارلیمنٹیرین کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے مذکورہ بل کی منظوری کے خلاف ایک حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے ان کی پارٹی جلد تمام جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پی پی پی، پی آئی اے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے خلاف نہیں لیکن کسی بھی صورت میں حکمرانوں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ایئر لائن کی نجکاری کردیں۔

بل سینیٹ میں پیش کیے جانے کے موقع پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسے مسترد کردینے کے حوالے سے سوال پر سعید غنی نے واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ ‘اس حوالے سے کوئی بھی اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ہم منظور شدہ قانون میں ترمیم کے حوالے سے تجاویز دیں گے’۔

سینیٹ کے قائد ایوان راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا اپنا ‘سیاسی ایجنڈا’ ہے۔

انھوں ںے کہا کہ موجودہ ماحول میں حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ سینیٹ میں ممکنہ طور پر بل مسترد کیے جانے کے بعد اسے پارلیمںٹ کے مشترکہ سیشن میں پیش کردے۔

یاد رہے کہ گذشہ ماہ سینیٹ میں صدارتی آرڈینس کی غیر منظوری کی قرار داد پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر مشاہد اللہ خان نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک اہم قومی معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ‘ہم بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرسکتے ہیں اور سینیٹ میں اس کو ممکنہ طور پر مسترد کیے جانے کی صورت میں اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں پیش کیا جائے گا، جیسا کہ آئین اس کی اجازت دیتا ہے’۔

وفاقی وزیر خزانہ نے الزام لگایا کہ کچھ اپوزیشن اراکین نے پی آئی اے کے ملازمین کو گمراہ کرنے کے لیے انھیں یہ بتایا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کا مقصد پی آئی اے کی نجکاری ہے اور انھیں مظاہروں کے لیے اکسایا گیا ہے۔

مشاہد اللہ خان نے اپنے روایتی سخت لہجے میں الزام لگایا کہ کرپشن اور میرٹ کے خلاف تقرریوں کے ذریعے پی پی پی نے پی آئی اے کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔

اُدھر سعید غنی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اپنے اقدام پر کوئی افسوس نہیں ہے اور آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کے خلاف اپوزیشن اپنے آئینی حق کو مستقبل میں بھی استعمال کرے گی۔