- الإعلانات -

کراچی، فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو تین دن کے لیے بند کر دیا گیا

کراچی: شہرِ قائد سمیت ملک بھر میں فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

27 سے 29 جنوری کے لیے آرمی پبلک اسکول اور کالجز کی بندش کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے، جبکہ اسکول انتظامیہ نے والدین کو پہلے ہی تین دن کی تعطیلات سے آگاہ کر دیا تھا۔

انتظامیہ کے مطابق اسکول اس وجہ سے بند کیے گئے تاکہ آرمی پبلک اسکولوں میں نصاب کی مطابقت رہے کیونکہ ملک بھر کے آرمی پبلک اسکولوں میں یکساں نصاب پڑھایا جاتا ہے.

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے بتایا  ہےکہ اسکولوں کی بندش کا اعلان سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کیا گیا.

یاد رہے کہ 2 روز قبل اچانک رات گئے پنجاب کے اسکولوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا، اس حوالے سے صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ اسکول سردی کی سخت لہر کی وجہ سے بند کیے گئے۔

اس فیصلے کے ایک ہی دن بعد اسکولوں پر دہشت گردی کے خطرے کا الرٹ بھی جاری ہوا تھا۔

پنجاب کے کچھ تعلیمی اداروں پر چارسدہ طرز کے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا اور محکمہ داخلہ اور سیکریٹری اسکولز ایجوکیشن کو ارسال مراسلے میں سرکاری، نیم سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔

رواں ماہ 20 جنوری کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، اس حملے میں دہشت گردوں نے 18 طلبہ سمیت 21 افراد کو قتل کر دیا تھا جبکہ پولیس نے آپریشن کرکے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔

یہ پاکستان میں کسی تعلیمی ادارے پر پہلا حملہ نہیں تھا، بلکہ گزشتہ کچھ سالوں میں تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے اسکول آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 132 بچوں سمیت 150 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے طالبان گیدڑ گروپ نے قبول کی تھی۔

طالبان کے گیدڑ گروپ کو عمر منصور عرف عمر نرے افغانستان سے کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغان حکام سے پاکستان میں تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے.