- الإعلانات -

پیپلز پارٹی کے رکن رشید شاہ کاظمی کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ۔۔۔؟

اسلام آباد: آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و کشمیر پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا جارحانہ کھیل جاری۔ ایک اوراہم حکومتی وکٹ گرادی۔ وزیر اعظم مجید کے معاون خصوصی و پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن سید رشید شاہ کاظمی اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت اپنے حکومتی عہدے اورپیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہو کر کشمیر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے انھوں نے کشمیر پی ٹی آئی میں شمولیت کے موقع پر کہا کہ میں نسل در نسل پیپلز پارٹی میں رہا ہوں اور پیپلز پارٹی کے لئے میں نے قربانیاں دی ہیں لیکن اب پیپلز پارٹی شہید بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی نہیں رہی ہے بلکہ میں نے آزاد کشمیر میں بہت نزدیک سے وزیر اعظم مجید اور اسکی ٹیم کو دیکھا ہے۔کارکن نڈھال ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ بھٹو شہید نے کہا تھا کہ کارکن پارٹی کا اثاثہ ہیں۔ آج میں پیپلز پارٹی کے دیگر کارکنوں سے بھی کہوں گا کہ وہ عمران خان اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی قیادت میں پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے کہنے پر ہی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں کھڑا کیا تھا اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری جب پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس صرف تین نشستیں تھیں جبکہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے شب و روز محنت کرکے ایک سال بعد ہی پارٹی کو الیکشن میں پیپلز پارٹی کو 32 نشستیں دلوائی تھیں اور اب بھی بیرسٹرسلطان محمود چوہدری جسطرح آگے بڑھ رہے ہیں آزاد کشمیر اورپاکستان میں مقیم مہاجرین کے غیرتمند اور جراتمند کشمیری ریاستی تشخص کی بالادستی کے لئے کشمیر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔تاکہ لوٹ مار کی سیاست کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جا سکے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ سید رشید شاہ کاظمی نے ایک طویل عرصہ میرے ساتھ کام کیا جس طرح میں نے پیپلز پارٹی کو بیس سال قبل بڑی جماعت بنایا تھا لیکن رفتہ رفتہ اب پیپلز پارٹی ایک بے جان گھوڑا بن گئی ہے اور اب رشید شاہ جیسے مخلص کا رکنوں کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ پی ٹی آئی میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ آزاد کشمیر کے عوام کو انکے حقوق بھی دلوائے جا سکیں اور نچلی سطح تک بالخصوص نوجوانوں کو اختیارات منتقل کیے جاسکیں اور دیگر معاملات کو بھی بہتر کیا جا سکے۔