- الإعلانات -

سپریم کورٹ نے سانحہ APS میں ملوث تین مجرموں کی سزائے موت روک دیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سانحہ APS  میں ملوث تین مجرموں کی سزائے موت پرعملدرآمد روک دیا ہے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ APS  میں ملوث 3 مجرموں کی سزائے موت پرعملدرآمد روک دیا ۔ مجرموں کے وکیل لطیف آفریدی نےعدالت کوبتایا کہ فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا، ٹرائل کا ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔سزائے موت کا میڈیا کے ذریعے علم ہوا۔ہائی کورٹ نے بھی ہماری درخواستوں کو نہیں سنا۔

عدالت نے سزائےموت پرعملدرآمد روکتے ہوئے اٹارنی جنرل سے سزا کے خلاف اپیلوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں پر فیصلہ ہوچکا ہے تو کاپی عدالت میں پیش کی جائے۔فیصلے کی کاپی پر فوجی عدالت کے ججوں کے نام اور عہدے نہ لکھے جائیں۔

کیس کی مزید سماعت 16فروری کو ہوگی۔

آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث مجرمان علی الرحمان، قاری زبیر اور تاج محمد پر  واقعے میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔

آرمی چیف نے 14اگست 2015 کو ان کی سزائے موت پر دستخط کیے تھے۔