قومی

وزیراعظم نے پیوٹن کی جانب سے دورہ روس کی دعوت قبول کرلی

 اسلام آباد: روسی صدر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو روس کے دورے کی دعوت دی ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کیلئے روس کے دورے کی دعوت دیدی، وزیراعظم نے دورہ روس کی دعوت قبول کرلی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ستمبر میں روس جانے کا امکان ہے جہاں وہ کثیرالملک ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کریں گے، ایسٹرن اکنامک فورم 4 تا 6 ستمبر کو روسی شہر ولادی ووستوک میں ہوگا۔

حکومت کا جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان

لاہور: وفاقی حکومت نےمسلم لیگ (ن) کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ (ن) لیگ نے جج ارشد ملک کے حوالے سے جو ویڈیو میڈیا میں جاری کی ہے اس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا  تاکہ ٹیپ کی اصلیت اور حقیقت کی تصدیق ہو سکے جب کہ فرانزک آڈٹ کے بعد جو بھی نتائج آئے وہ عوام کے سامنے پیش کریں گے  اور قوم سے کچھ نہیں چھپایا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مبینہ ویڈیو میں جس شخصیت کو ’سورس‘ ظاہر کیا گیا وہ  ناصر بٹ ہے جو نوازشریف کا کاروباری رفیق اور قریبی دوست ہے، اس  شخص کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہ مشہور زمانہ قاتل، غنڈوں کا سرغنہ، منشیات فروش کا اہم فرد ہے جو قتل کرکے باہر فرار ہوا اور (ن) لیگ جب اقتدارمیں آئی تو ناصر بٹ کے مقدمات ختم کر کےاسے پاکستان واپس لائے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ مریم نوازنے معزز جج کے حوالے ویڈیو جاری کرکےایک جج پر نہیں پوری عدلیہ پر انگلیاں اٹھائی ہیں، یہ اداروں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش ہے، ایسے اقدامات بغض پاکستان اور ملک سے عداوت کے مترادف ہے،  مریم نواز نے جج پر الزام لگا کر باشعور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی بھونڈی کوشش ہے اور (ن) لیگ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ناکام کوشش ہے، میڈیا پر تماشا لگانے کے بجائے ٹیپ عدالت میں لے کر جائیں اور اگر دامن صاف ہے تو شریف خاندان کے سب افراد کو پاکستان بلائیں اور عدالتوں میں پیش ہوں۔

مسلم لیگ (ن) کے 37 ارکان پنجاب اسمبلی فارورڈ بلاک کیلیے تیار ہیں، شیخ رشید

لاہور: وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فارورڈ بلاک کے لیے مسلم لیگ (ن) کے 37 ارکان پنجاب اسمبلی کا گروپ تیار ہے جو حکومت سے ملنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں فارورڈ بلاک کے لیے مسلم لیگ (ن) کے 37 ارکان صوبائی اسمبلی کا گروپ تیار ہے، ابھی 17 ممبر اور چاہئیں، امید ہے کہ اسی ماہ فارورڈ بلاک بن جائے گا، تاہم قومی اسمبلی میں ن لیگ کے فارورڈ بلاک کے لیے تعداد کم ہے اور اتنے ممبر نہیں مل رہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ شہباز شریف بری طرح پھنس گئے ہیں، ایک طرف مریم ہے تو دوسری طرف حمزہ ہے، ن لیگ کی حکومت اور نواز شریف کو سو فیصد مریم نے مروایا ہے، مریم کی خواہش ہے کہ نواز شریف واقعی مرسی بن جائے اور میرا کام بن جائے، مریم نواز کو پتا ہے ان کی سیاست ختم ہو گئی، اس لیے جلسہ جلسہ کر رہی ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے عمران خان کو کہا ہے کہ ان کو لندن جانے دو دفع کرو۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ آصف زرداری کمرہ خالی نہیں کر رہے، شاہد خاقان عباسی سمیت جو ٹی وی پر زیادہ چیخ رہا ہے اس کی باری آرہی ہے اور وقت نزدیک ہے، آصف زرداری کے کمرہ خالی کرنے تک یہ انتظار کی فہرست میں ہیں، شہباز شریف ایسے سیاست دان ہیں جو بے نامی اور چوری کے پیسے میں اپنی اہلیہ کو بھی پھنسائیں گے، خدشہ ہے بہت سے سیاست دانوں کی اہلیہ بھی پکڑی جائیں گی، حکومت 15 روز کے اندر اندر اسحاق ڈار کو واپس لارہی ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے رہنے یا نہ رہنے سے ملکی سیاست پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اپوزیشن اسے بھی نہیں ہٹاسکتی کیونکہ پی پی پی کبھی نہیں چاہے گی کہ ن لیگ کا چیرمین آئے، کھیل شروع ہوگیا ہے، یہ ماہ اور سیاست کے 90 دن بہت اہم ہیں، عمران خان کی جیت اور اپوزیشن کی شکست ہوگی۔

رانا ثناءاللہ کو جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں سیاست دان کو جیل میں اتنی سہولیات میسر ہیں کہ وہ اولاد بناتے ہیں، ان کی لڑائی یہ ہے کہ گھر کا کھانا بند ہوگیا، جیلوں میں ان کا کھانا جانے دیں، یہ کھاکھا کر ہی مر گئے ہیں۔

نواز شریف سے مرسیڈیز واپس لینے سے متعلق وزیر ریلوے نے کہا کہ کیا ان کی اوقات مرسیڈیز گاڑی ہے، جمہوریت کو شدید خطرات چور سیاستدانوں کی وجہ سے ہیں، چور سیاست دانوں نے سرنڈر نہ کیا تو جمہوریت کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متعدد ارکان قومی و پنجاب اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

اپوزیشن کا چیئرمین سینیٹ کیلیے راجہ ظفرالحق اور حاصل بزنجو کے نام پر غور

اسلام آباد: اپوزیشن رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کیلیے راجہ ظفرالحق اور حاصل بزنجو کے نام پر غور شروع کردیا۔

گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں حکومتی اقدامات کے خلاف متعدد فیصلے کیے جس کے تحت چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف 9 جولائی کو تحریک عدم اعتماد سینٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروائی جائے گی اور 11 جولائی کو نئے چیئرمین کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہبر کمیٹی میں شامل تمام جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے چیئرمین سینیٹ کے نام کے لیے مشاورت شروع کردی، مسلم لیگ (ن) لیگ کے راجہ ظفر الحق اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کا نام سرفہرست ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے جب کہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ملنے کے بعد (ن) لیگ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑ دے گی۔

وفاق کا کراچی کے تین اسپتال چلانے سے انکار، سندھ حکومت کو واپس دینے کا فیصلہ

کراچی: وفاق نے کراچی کے تین اسپتالوں کو چلانے سے انکار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو واپس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاق نے کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کو چلانے سے معذوری ظاہر کردی، وفاق نے کراچی کے تین بڑے اسپتال جن میں جناح اسپتال، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ کو چلانے سے انکار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو واپس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی کابینہ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ درکار بجٹ دستیاب نہیں، کراچی کے تین بڑے اسپتال نہیں چلاسکتے، سندھ حکومت کو موقع دیا جائے کہ وہ کراچی کے تین اسپتالوں کی واپسی کے لیے نظرثانی درخواست دائر کرے۔

کراچی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں کی منتقلی کے معاملے پر مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ کراچی کے عوام سے نیازی سرکار کو کوئی سروکار نہیں۔

ٹیکسز کے خلاف ملک بھر کی تاجر تنظیموں کا ہڑتال کا اعلان

 اسلام آباد: پاکستان بھر کی تاجر تنظیموں نے ٹیکسوں کے خلاف13جولائی کوہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

ملک بھر کی تاجر تنظیموں کا وفاقی بجٹ میں نافذ کردہ ٹیکسز کے حوالے سے مشترکہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری، صدر آل پاکستان انجمن تاجران محمد اشرف بھٹی اور صدر آل پاکستان انجمن تاجران محمد اجمل بلوچ نے شرکت کی، اور فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں نافذ ٹیکسز کے خلاف 13جولائی کو ملک بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی جائے گی۔

اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں حالیہ نافذ ہونے والے ٹیکسز کے خلاف تاجر برادری سراپا احتجاج ہے، تاہم اب مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 13 جولائی کو ملک بھر میں مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی، اور اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک و غیر معینہ مدت کی شٹر ڈاون کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کرنے والوں کو 10 فیصد رقم دینے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرنے پر انعامی رقم 3 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں ’احساس پروگرام‘ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے اقتدار میں رہتے ہوئے دبئی اور لندن کے 40،40 دورے کیے، یہ سب دورے قوم کے پیسوں سے کیے گئے، ان لوگوں نے قوم کو مقروض کردیا اور پھر  قوم کی دولت کو لٹاتے رہے۔

عمران خان نے کہا کہ  ہر جگہ ناانصافی ہے، نچلے طبقے پر ظلم ہو رہا ہے، آج پتہ چلا کہ 5 فیصد پاکستانیوں کو ہیپاٹائٹس سی ہے، نئے پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہوگا، غربت کم کرنے کے لیے ایک پروگرام لا رہے ہیں جس میں ہر وزارت کا کردار ہوگا، حکمرانوں کا کام تھا کہ  قوم کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا مگر یہاں تو مقتدر طبقہ قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے  بیرون ملک  علاج  کراتا رہا جب کہ  یہ لوگ جیل میں بھی جاتے ہیں تو انہیں  لندن سے علاج کرانا ہوتا ہے، 30 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے کوئی اسپتال نہیں بنایا۔

عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف مجھے کہتے ہیں کہ اتنا کرو جتنا برداشت کرسکو، میرا شہباز شریف کو پیغام ہے کہ میں موت بھی برداشت کرسکتا ہوں مگر آپ موت برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کا پیسہ باہر پڑا ہے جسے آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ کو فکر ہے کہ کہیں مر نہ جائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو شخص بھی ملک میں یا بیرون ملک کسی پاکستانی کی بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرے گا اسے 3 فیصد کے بجائے 10 فیصد حصہ دیا جائے گا ،اور بے نامی پراپرٹی سے  جو بھی پیسہ آئے گا وہ سب احساس پروگرام میں ڈالیں  گے۔

اپوزیشن رہبرکمیٹی کا 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کیخلاف قرارداد جمع کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کیخلاف قرارداد لانے اور 11 جولائی کو نئے چیئرمین کے مشترکہ امیدوار کے نام کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ 

حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کے حوالے سے اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کے 11 اراکین پر مشتمل رہبر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ رہبر کمیٹی کے تمام ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں (ن) لیگ سے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پیپلز پارٹی سے فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، جمعیت علماء اسلام (ف) سے اکرم خان درانی، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو،  اے این پی سے میاں افتخار، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر، جمعیت علماء پاکستان سے اویس نورانی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسروری نے شرکت کی۔

رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے بات کی، جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم درانی نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے ہر دو ماہ کے لیے الگ کنوینئر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے دو ماہ کے لیے مجھے کنوینئر مقرر کیا گیا ہے جب کہ رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس 11 جولائی کو ہوگا اور 25 جولائی کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔

اکرم درانی نے کہا کہ 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کرائی جائے گی، 11 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا، 25 جولائی کو صوبائی سطح پر جلسے کیے جائیں گے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا، جمہوری لوگوں کو سیاست سے دور رکھنے کی مذمت کرتے ہیں، سابق فاٹا میں پولنگ اسٹیشن کے اندرفوجی کھڑا کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، قبائلی علاقوں میں فوج کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن منسوخ کیا جائے، سابق فاٹا کے دوارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جائیں جب کہ  تمام سیاسی جماعتیں گھوٹکی کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رہبرکمیٹی اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کر رہی ہے،سینیٹ، قومی اسمبلی نہیں چلے گی تو حق ہے عوام کو تبدیلی دکھائیں اور حق نمایندہ سے عمران خان یا کوئی اسپیکرمحروم نہیں کرسکتا، چیرمین سینیٹ کی تبدیلی احتجاج کا ایک طریقہ ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فاٹا میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات آرمی کے زیر نگرانی کروانے کے خلاف چیف الیکشن کمیشن کے نام خط لکھ دیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے۔

Google Analytics Alternative