قومی

غیرت کے نام پر بھائی نے بہن کو قتل کردیا, پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ

ساہیوال: پنجاب کے ضلع پاکپتن میں خاندان کی عزت بچانے کے نام پر بھائی نے چھوٹی بہن کو قتل کردیا۔

پاکپتن کے گاؤں پُل باہنی والا میں ریاست علی نامی نوجوان کو اپنی 19 سالہ بہن پر کسی بات پر شک تھا۔

گاؤں کے رہائشیوں نے پولیس کو بتایا کہ ریاست علی نے اپنے بہن کو قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔

صدر پولیس نے لڑکی کی لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا اور پوسٹ مارٹم کے بعد ایف آئی آر درج کرلی۔

تقریباً 3 ہفتے قبل کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بھی ایک نوجوان نے غیرت کے نام پر اپنی نوعمر بہن کو قتل کردیا تھا۔

مومن آباد پولیس کا کہنا تھا کہ فرید کالونی کے رہائشی حیات احمد نے اپنی 17 سالہ بہن سُمیرا کو گھر کے باہر چُھری کے وار کرکے قتل کیا۔

واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا، جس نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ اُس نے اپنی بہن کو گھر کے دروازے پر کسی نوجوان لڑکے سے بات کرتے دیکھا تھا، جس پر اس نے طیش میں آکر سُمیرا پر کچن سے چُھری لا کر حملہ کردیا۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف عمران خان 18 کو عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کریں گے

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان 18مئی کومظفرآباد میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کریں گئے اس حوالہ سے آزادکشمیر بھرسمیت ضلع ہٹیاں بالا میں قائدپاکستان عمران خان کی آمدپر کارکنان کی بڑی تعداد ضلعی صدراخلاق خان،اورچوہدری محمداسحاق طائرودیگرکی قیادت میں عظیم الشان ریلی کی شکل میں مظفرآباد جلسہ گاہ میں شریک ہوگئی اس حوالہ سے کارکنان سے رابطہ مہم شروع کردی گئی ہے اور اس حوالہ سے تمام ترانتظامات بھی مکمل کرلیئے گئے ہیں ،ضلعی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزکے مطابق 18مئی کے جلسہ میں تمام ضلعی ،تحصیل،یوسی،وارڈز،خواتین،یوتھ،آئی ایس ایف کے قافلے ہٹیاں بالا سے ریلی کی شکل میں مظفرآباد پہنچیں گئے ضلعی تنظیم کی جاب سے تمام کارکنان کودعوت دی گئی ہے کہ وہ اس جلسہ عام میں شریک ہوکر قائدپاکستان عمران خان کا پرتپاک استقبال کریں۔

کیمیکل ٹینک میں گرکر 5 مزدور ہلاک, کراچی

کراچی: کورنگی کے انڈسٹریل ایریا میں قائم ایک فیکٹری کے کیمیکل ٹینک میں گر نے سے 5 مزدور ہلاک جبکہ متعدد شدید زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز کے مطابق واقعہ کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ویٹا چورنگی کے قریب قائم پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹری میں پیش آیا جہاں متعدد مزدور صفائی کے دوران کیمیکل سے بھرے ٹینک میں گر گئے، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔

واقعے کے فوری بعد مزدروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائی شروع کی گئی ،ٹینگ میں گرنے والے دیگر 5 مزدوروں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ مزید دو افراد راستے میں دم توڑ گئے۔

ذرائع کے مطابق مزدور صفائی کے دوران جس ٹینک میں گرے اس میں زہریلا کیمیکل موجود تھا، جس سے وہ متاثر ہوئے۔

سپرینڈنٹ پولیس (ایس پی) لانڈھی افنان امین کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹری میں پیش آیا جہاں چار مزدور صفائی کے دوران کیمکل کے ٹینک میں گر گئے جن کو بچانے کے لیے مزید تین مزدور کود پڑے۔

جناح پوسٹ گریجوینٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) ایمرجنسی یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ پانچ افراد کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جن کی موت زہریلی دھوئیں کے نگلنے کے باعث واقعے ہوئی تھی تاہم ایک مزدور کی حالت اطمینان بخش ہے۔

ذارئع کا مزید کہنا تھا کہ فیکٹری میں کام کرنے والے مزدروں کے لیے حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے جس کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث اکثر اس قسم کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

بے نظیر ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کاروائی، مسافروں کو اتار لیا گیا

بے نظیر ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے کارروائی کرتے ہوئے مشکوک دستاویزات پر چار مسافروں کو پرواز سے اتار لیا‘ چاروں مسافروں کو بیرون ملک پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو بے نظیر ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے مشکوک دستاویزات پر چار مسافروںکو پرواز سے اتار لیا ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ارسلان کو دبئی میں قیام کے نامناسب بندوبست پر پرواز سے اتار لیا گیا اور احسان کو مشکوک دستاویزات پر جنوبی افریقہ جاتے ہوئے پرواز سے اتارا گیا‘ غلام دستگیر اور عبدالستار کو اٹلی جاتے ہوئے پرواز سے اتارا گیا۔ چاروں افراد کو مزید تفتیش کے لئے انسداد انسانی سمگلنگ عدالت میں منتقل کردیا گیا۔

ایف آئی اے نے 11 افراد کی تفصیلات طلب لی

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے کواپریٹیو کرائم سرکل نے میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ایف آئی اے نے میگا کیس کی تفتیش کے دوران محکمہ ورکس اینڈ سروسز اور افرادی قوت سے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اصغر جونیجو سمیت مزید 11 افراد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ایف آئی اے نے جن 11 افراد کی تفصیلات طلب کی ہیں ان میں ڈائریکٹر لیبر کاشف گلزار، سیکرٹری سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ مطلوب احمد، چیئرمین سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ نصر حیات، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اصغر جونیجو، غلام وعباس جونیجو، انور فیض، میجر راحیم، راشد سولنگی، مظفر شاہ، خالد کھوکھر اور احتشام شامل ہیں۔

اسلام آباد چھاپہ مار کارروائی 47 بجلی چور رنگے ہاتھوں گرفتار

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) بجلی چوروں کیخلاف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 47 بجلی چور رنگے ہاتھوں گرفتار
اسلام آباد ۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے اپنے متعلقہ ریجن میں بجلی چوروں کیخلاف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 47بجلی چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ آئیسکو کے ترجمان نے یہاں اے پی پی کو بتایا کہ 16بجلی چور اسلام آباد ، 5راولپنڈی ، 12جہلم ، 11چکوال اور 3اٹک سرکلز سے رنگے ہاتھوں گرفتار کئے گئے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ گرفتاریاں رواں ماہ کے دوران عمل میں آئی ہیں۔ یہ مہم چیف ایگزیکٹو آئیسکو رانا عبدالجبار خان کی ہدایات پر شروع کی گئی ہیں یہ افراد کنڈا سسٹم کے ذریعے ڈائریکٹ لائن سے اور میٹر کی سیکیورٹی پٹی توڑ کر بجلی چوری کرتے پائے گئے ۔ جن کے خلاف نئے بجلی چوری (ترمیمی) ایکٹ کے تحت ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ آئیسکو نے اپنے متعلقہ 5سرکلز میں بجلی چوری کے مکمل خاتمہ کا عزم کر رکھا ہے اس لئے معزرصارفین سے بھی درخواست ہے کہ وہ بجلی چوری کی اطلاع آئیسکو کے نئی روشنی 8398پر ایس ایم ایس سروس کے ذریعے اطلاع دیں ۔ واضح رہے آئیسکو نے اپنے متعلقہ جہلم ، اٹک ، راولپنڈی ، اسلام آباد ، چکوال سرکلز میں نئی روشنی ایس ایم ایس سروس متعارف کرائی ہے ۔ جس کے ذریعے صارفین سے مثبت ردعمل موصول ہو رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس سروس کے ذریعے چیرف ، عارضی کنکشن ، بجلی بلوں کی موصولی میں تاخیر ، زائد بلنگ ، کم وولٹیج سے متعلق شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔

بھکر، ٹرےفک حادثات مےں2خواتےن سمےت 3 افراد زخمی

بھکر۔ ٹرےفک حادثات مےں2خواتےن سمےت 3 افرادشدےد زخمی ہو گئے ۔ریسکیو1122بھکر نے ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمےوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا۔تفصےلات کے مطابق پہلاحادثہ۔© بہل روڈ جھکڑپلی کے پاس موٹر سائےکل سوار نے راہگےر کوہٹ کےا ۔ جسکی وجہ سے اےک خاتون شدےد زخمی ہوئی۔دوسرا حادثہ۔نزد سٹی تھانہ کے پاس موٹرسائےکل سلپ ہوا ۔جس کی وجہ سے اےک خاتون شدےد زخمی ہوئی۔تےسرا حادثہ:شہزاد ہوٹل کے پاس کار اور موٹر سائےکل کا تصادم ہوا جس مےں ناصر نامی شخص شدےد زخمی ہوا۔ریسکیو 1122بھکر نے ابتدائی طبی امداد دےنے کے بعدز خمیوںکو ڈسٹرکٹ ہےڈ کوارٹر ہسپتال بھکر منتقل کر دیا ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار

جب تک مناسب قانون سازی اور فریقین ٹی او آرز طے نہیں کر لیتے کمیشن نہیں بن سکتا، حکومتی خط میں تحقیقات کےلئے خاندان کے نام کے افراد نہیں بتائے گئے ،اگر پانامہ لیکس پر کمیشن بنانا جانا ہے تو اس پر باقاعدہ قانون سازی کی جائے، جو ٹرم آف ریفرنسز دیئے گئے ان کے مکمل ہونے میں سالوں لگ جائیں گے،انفرادی خاندانوں اور گروپوں کی فہرست فراہم کی جائے جن کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں، ہمیں اس معاملے پر معلومات دی جائیں گی تو عدالت کمیشن کے حوالے سے غور کرے گی، حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب کا متن.
اسلام آباد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مناسب قانون سازی اور فریقین ٹی او آرز طے نہیں کر لیتے کمیشن نہیں بن سکتا، حکومتی خط میں تحقیقات کےلئے خاندان کے نام کے افراد نہیں بتائے گئے ،اگر پانامہ لیکس پر کمیشن بنانا جانا ہے تو اس پر باقاعدہ قانون سازی کی جائے، جو ٹرم آف ریفرنسز دیئے گئے ان کے مکمل ہونے میں سالوں لگ جائیں گے،انفرادی خاندانوں اور گروپوں کی فہرست فراہم کی جائے جن کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں، ہمیں اس معاملے پر معلومات دی جائیں گی تو عدالت کمیشن کے حوالے سے غور کرے گی۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے 22 اپریل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کے معاملے پر 3 رکنی کمیشن بنانے کےلئے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956 کے تحت 3 رکنی کمیشن تشکیل دیکر اس کی سربراہی ترجیحی بنیاد پر چیف جسٹس خود کریں۔ حکومت کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے قرضے معاف کرانے والوں، کرپشن، کمیشن اور کک بیک کے ذریعے بیرون ملک فنڈز کی منتقلی سے متعلق امور کی تحقیقات کی جائیں۔ حکومت نے خط کے ساتھ کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس بھی منسلک کئے گئے جس کے مطابق کمیشن کسی بھی فرد، ٹیکس ماہرین، اکاو¿نٹنٹس کو طلب کرنے سمیت کسی بھی قسم کے دستاویزات کے حصول کے لئے تمام عدالتوں، سرکاری افسران یا سرکاری دفاترسے ریکارڈ طلب کرنے کا مجازہوگا۔ جمعہ کو حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جوابی خط تحریر کر دیا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے فیصلے سے سیکرٹری قانون کو آگاہ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے وزارت قانون کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جب تک مناسب قانون سازی نہیں ہوتی سپریم کورٹ پاناما لیکس پر کمیشن نہیں بناسکتی۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے قانون سازی کی جائے، کیونکہ ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز )کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔اپنے خط میں چیف جسٹس نے کہاکہ تحقیقات کےلئے شریف خاندان کے افراد کے نام بھی نہیں بتائے گئے۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کےلئے ٹرمز آف ریفرنسز مقررکئے گئے تھے کہ کمیشن پاکستانی شہریوں، پاکستانی نڑاد غیر ملکیوں اور اداروں سے پاناما یا کسی اور ملک میں آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کرسکے گا۔کمیشن کو موجودہ یا پھر سابقہ عوامی عہدوں کے حامل افراد سے بھی تحقیقات کا اختیار ہوگا جنہوں نے سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے یا اہل خانہ کے قرضے معاف کرائے یا پھر کرپشن، کمیشن یا کک بیکس کے ذریعے کمائی گئی رقم ملک سے باہر بھجوائی۔انکوائری کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا پاناما لیکس کے الزامات کے مطابق کسی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ انکوائری کمیشن کو ٹیکس ماہرین اور اکاﺅنٹنٹ سمیت کسی بھی شخص کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔ کمیشن کسی بھی قسم کی دستاویز طلب کرسکے گا۔ انکوائری کمیشن کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مجاز افسر کو کسی بھی عمارت یا مقام میں داخلے اور مطلوبہ ریکارڈ کے حصول کے احکامات دے سکے گا۔ انکوائری کمیشن کی تمام کارروائی عدالتی کارروائی تصور ہوگی۔ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے۔ تحقیقات کب اور کہاں ہوں گی اس کا فیصلہ انکوائری کمیشن خود کرے گا۔ کابینہ ڈویڑن انکوائری کمیشن کو دفتری خدمات فراہم کرے گاتاہم حزب اختلاف کی 9 جماعتوں کی جانب سے حکومتی ٹی او آرز مسترد کر دیئے گئے تھے اور جوڈیشل کمیشن کےلئے 15 ٹی او آرز متفقہ طور پر منظور کئے گئے تھے۔اپوزیشن کے اجلاس میں پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے پر اتفاق کیا تھا تاہم قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اختلاف کے باعث وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ٹی او آرز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔اپوزیشن کے ٹی او آرز میں کمیشن کی جانب سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ اس کے لیے 3 ماہ کی مدت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ شامل تھا۔پاناما لیکس میں سامنے آنے والے دیگر افراد کے حوالے سے یہ شق شامل کی گئی تھی کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کے بعد دیگر لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اس کی تحقیقات ایک سال میں مکمل کر لینی چاہیے۔ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ وزیراعظم اور ان کے اہل  خانہ خود کو تحقیقات کیلئے کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ نواز شریف 1985 سے 2016 تک جائیداد کی تفصیلات فراہم کریں۔ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے ذرائع آمدن کیا تھے، کن بینک اکاو¿نٹس میں رقم رکھی گئی؟ کیا اس آمدن پر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جانا تھا؟ بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کیلئے رقم کن بینک اکاو¿نٹس، کس تاریخ پر ادا کی گئی؟کمیشن کو آف شور اکاو¿نٹس میں بھیجی گئی رقم کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔کیا وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ دسمبر 2000 کے بعد اسٹیٹ گیسٹ تھے؟خصوصی کمیشن عالمی فرانزک آڈٹ کیلئے ماہرین کی کمیٹی بھی مقرر کرسکے گا۔ماہرین کی کمیٹی آف شور کمپنیوں کیلئے رقم کی مکمل چھان بین کرے گی۔نیب اور ایف آئی اے سمیت تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے تاہم اپوزیشن کے ٹی او آرز کو حکومت نے مسترد کر دیا وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے ٹی او آرز کو تماشا قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کای اور اپوزیشن کو حکومت سے مل کر متفقہ ٹی او آرز بنانے کی دعوت دی تاہم 2 روز قبل اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں وزیراعظم کےلئے ایک سوالنامہ تیار کیا گیا تھا جس میں ان سے لندن میں موجود جائیدادوں، آف شور کمپنیز اور ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے 7 سوالات کا جواب مانگا گیا تھا۔آف شور ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

Google Analytics Alternative