قومی

مودی کی غلطی سے کشمیریوں کو آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا اور مودی کی غلطی سے کشمیر کے لوگوں کو آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا ہے۔

قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں صرف کشمیر پر بات کرنا چاہتا ہوں، کشمیر کی صورتحال کیا ہے، ہم نے اب تک کیا اقدامات کیے اور آگے کیا کرنے جارہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پاکستان کی کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہماری پہلی کوشش تھی کہ ملک میں امن پیدا کریں تاکہ لوگوں کے لیے روزگار، تجارت بڑھائیں کیونکہ ہمارے مسئلے وہی ہیں جو بھارت کے ہیں، وہاں بھی بے روزگاری، مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دونوں ممالک کو مشکلات کا سامنا ہوگا اس لیے ہماری کوشش تھی کہ سب سے دوستی کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہم نے قیام امن کے عمل کی کوشش کی کہ وہاں کے مسئلے کا پُرامن سیاسی حل نکل آئے اور یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آتے ہی بھارت کو کہا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں ہم آپ کی طرف 2 قدم بڑھائیں گے اور کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیں گے لیکن شروع سے ہی مسائل کا آغاز ہوگیا، بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے تو وہ کوئی اور بات شروع کردیتے تھے اور کسی نہ کسی طرح پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا موقع ڈھونڈتے تھے۔

عمران خان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے سمجھا کہ بھارت میں انتخابات قریب ہیں، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مسلمان اور پاکستان مخالف مہم چل رہی تھی، تو ہم پیچھے ہٹ گئے اور اس کے بعد پلوامہ کا واقعہ ہوگیا’۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ سے متعلق بھی ہم نے بتایا کہ کشمیر میں ظلم کی وجہ سے کشمیری نوجوان نے خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا لیکن بھارت نے اس واقعے کا جائزہ لینے کے بجائے پاکستان کے اوپر انگلی اٹھائی اور موقع ڈھونڈا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے دنیا کی نظر ہٹ جائے اور سارا بوجھ پاکستان پر ڈالا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نے یہی کیا جبکہ ہم نے کہا تھا کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو فراہم کریں ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا جب بھارت میں انتخابات ہوجائیں گے تو ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی اور شاید بھارتی حکومت بات چیت کے لیے تیار ہوجائے گی لیکن الیکشن کے بعد ہم نے دیکھا کہ بھارت نے پوری کوشش کی پاکستان کو دیوالیہ کیا جائے اور فنانسل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی، تب ہم نے سوچا کہ بھارت سے بات چیت کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

‘بھارت اپنے بانیوں کے خلاف گیا اور پیغام دیا کہ وہ صرف ہندوؤں کا ہے’

اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہم دیکھ رہے تھے کہ بھارت اب کیا کرتا ہے کہ اس نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج بھیج کر فیصلہ کیا کہ کشمیر اب بھارت کا حصہ بن گیا جبکہ اس فیصلے سے بھارت نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی قراردادوں، آئین، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت، اپنے بانیوں گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے خلاف گیا، نہرو کے کشمیر کے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے خلاف گیا، یہی نہیں بلکہ اس سیکولر آئین جس کے تحت وہ کہتے تھے کہ ہندوستان سب کا ہے سب برابر کے شہری ہیں اور پاکستان بننا غلط تھا بھارت نے اس سیکولرزم کو بھی ختم کردیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے پیغام دیا کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے اور باقی سب دوسرے درجے کے شہری ہیں، جو بی جے پی کے نظریاتی حصے راشتریہ سوایم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا فلسفہ ہے۔

اپنے خطاب میں آر ایس ایس کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس 1925 میں بنی تھی جبکہ بی جے پی تو ابھی بنی ہے جبکہ نریندر مودی اس جماعت کے رکن رہ چکے ہیں، آر ایس ایس کا نظریہ تھا ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے اور انگریزوں سے آزادی ملنے سے ہندو راج کا وقت آگیا ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نظریے میں مسلمانوں سے نفرت موجود تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندو ایک عظیم قوم تھی لیکن کئی صدیوں سے مسلمانوں کی حکومت کی وجہ سے وہ عظیم قوم نہیں بن سکی اور اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو سبق سکھایا جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اسی لیے آر ایس ایس، ہٹلر اور مسولینی (جو کہ فاشسٹ تھے) انہیں بہت عظیم سمجھتے تھے اور آر ایس ایس کے بانی فاشزم اور نسل پرست نظریات کو مانتے تھے، اسی نظریے نے آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کو قتل کیا جبکہ بھارت کی ہی حکومت نے 2 سے 3 مرتبہ آر ایس ایس کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے بھی اسی نظریے کو دیکھ کر تحریک پاکستان میں شرکت کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں جارہے ہیں اس لیے آپ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے دنیا سے جانے کے بعد آہستہ آہستہ یہ نظریہ بھارت میں پھیلتا رہا، اس نظریے نے بابری مسجد کو تباہ کیا، گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، یہ وہ نظریہ ہے جو سڑکوں پر لوگوں کو پکڑ پکڑ ڈنڈوں سے مارتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی سے پہلے کانگریس کے دورِ حکومت میں بھارتی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کے کیمپوں میں دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں، یہ وہ دہشت گرد ہیں جو سڑکوں پر جا کر لوگوں کو مار رہے ہیں، انہوں نے عیسائیوں اور گرجا گھروں پر تشدد کیا اور یہی وہ نظریہ ہے جو بھارت پر حکومت کر رہا ہے۔

‘تکبر کی وجہ سے نریندر مودی نے تاریخی غلطی کردی’

قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے اور آر ایس ایس کے نظریے میں یہی فرق ہے، ہمارا نظریہ قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، وہ مدینہ کی ریاست ہے اور مدینہ کی ریاست کے اندر میثاق مدینہ ہوا کہ قیامت تک عبادت گاہوں کو تحفظ دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ حضرت علیؓ کا اسلام میں ایک مقام تھا، وہ خلیفہ وقت تھے اور ایک اقلیتی شہری ان سے کیس جیت جاتا ہے، اسلام نے اپنے اقلیتی شہریوں کو اس طرح کا تحفظ دیا تھا، جس کا آج دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، لہٰذا اگر پاکستانی اپنی اقلیتوں سے ناانصافی کرتا ہے تو وہ اپنے دین اور نظریے کے خلاف جاتا ہے لیکن اگر آر ایس ایس اور بی جے پی اقلیتوں سے ظلم کرتی ہے تو یہ ان کا نظریہ ہے۔

دوران خطاب وزیراعظم نے کہا کہ نریندر مودی سے بہت بڑی غلطی ہوگئی اور وقت ثابت کرے گا کہ کشمیر کے لوگوں کو ان کی غلطی کی وجہ سے آزاد ہونے کا تاریخی موقع مل گیا ہے جبکہ بھارت سے یہ غلطی تکبر میں ہوئی، دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بڑے بڑے فرعون آئے لیکن تکبر سے انہوں نے ایسی غلطیاں کیں کہ ان کی تباہی ہوئی، ہٹلر اور نپولین 2 بڑی طاقتیں تکبر سے تباہ ہوئیں۔

عمران خان نے کہا کہ تکبر کی وجہ سے نریندر مودی نے تاریخی غلطی کی ہے، انہوں نے سوچا تھا کہ یہ کشمیریوں پر اتنا تشدد کریں گے کہ وہ خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے اور دنیا کچھ نہیں کہے گی،دوسرا منصوبہ ان کا یہ تھا کہ وہ کہیں گے آزاد کشمیر سے دہشت گرد آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہاں دہشت گرد مارنے کے لیے آپریشن کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں پوری اطلاع مل چکی تھی کہ بھارت نے جس طرح پلوامہ کے بعد آزاد کشمیر میں بالاکوٹ پر حملہ کی کوشش کی تھی، اسی طرح کا حملہ کرنا تھا اور دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹا کر پاکستان کی طرف کردینی تھی۔

’ہم 2 چیزوں میں کامیاب ہوگئے‘

انہوں نے کہا کہ ہم 2 چیزوں میں کامیاب ہوگئے، ہم نے ایک دم اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا، مختلف ممالک کے سربراہان، ان کے سفارت خانوں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بات کی، انسانی حقوق کی تنظیموں کو پیغام دیا جبکہ سلامتی کونسل نے 1965 کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر پر اجلاس بلایا، جس سے یہ ہوا کہ وہ مسئلہ جس پر دنیا میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اسے بین الاقوامی تنازع سمجھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بین الاقوامی میڈیا کو کئی مرتبہ بتایا، جس پر مقبوضہ کشمیر کو بین الاقوامی میڈیا میں کوریج ملی جبکہ مودی سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا، بھارت کا خیال تھا کہ آزاد کشمیر میں حملہ کرکے کہیں گے کہ یہاں سے دہشت گرد آرہے ہیں، ہم نے فوری طور پر پوری دنیا اور تمام سفارت خانوں کو بتادیا کہ بھارت کیا کرنے جارہا ہے، ہماری فوج بھی پوری طرح تیار ہوگئی اور اب ان کے لیے ایسا کچھ کرنا مشکل ہے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں 5 اگست کے بعد اپنا کردار ادا کرنے اور مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھانے پر پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اسی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا کو آر ایس ایس کے نظریے سے متعلق سمجھ بوجھ آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی مغرب میں، بھارتی میڈیا پر اتنی تنقید نہیں ہوئی جتنی آج ہورہی ہے ہم دنیا کو بار بار بتائیں گے کہ جیسے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھا وہاں کیا ہوا۔

دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ہم سب فیصلہ کریں کہ اس مسئلے پر ساری قوم نے کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا، کشمیر کے حالات، پیغام اور صورتحال کو دنیا اور بین الاقوامی میڈیا میں بتاؤں گا، جن ممالک کے سربراہان سے بات ہوئی ہے میں نے انہیں آگاہ کیا ہے اور جن سے بات ہوگی انہیں بھی بتاؤں گا کہ ہمارا مقابلہ کس سے ہے، یہ کوئی عام حکومت نہیں بلکہ ایک خوفناک نظریے پر چل رہی ہے جس نے پہلے دنیا میں بہت تباہی پھیلائی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ میں 27 ستمبر کو اپنی تقریر میں پوری دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بتاؤں گا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں کہ مسلمان ممالک کچھ نہیں کررہے، اگر کئی مسلمان حکومتیں مجبوری یا تجارت کی وجہ سے آج ساتھ نہیں دے رہیں تو بعد میں ہمارا ساتھ دیں گی، بوسنیا میں جب مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو شروع میں کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا لیکن میڈیا کی وجہ سے حکومتیں ساتھ دینے پر مجبور ہوئیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں، ہمارے سفارت خانے، بیرون ملک پاکستانی، کشمیری، انسانی حقوق کی تنظیمیں سب اس مسئلے کو اٹھائیں گے اور تمام فورمز پر بتائیں گے کہ 80 لاکھ کشمیریوں پر کس طرح کا ظلم ہورہا ہے۔

’دنیا ہمارے ساتھ دے یا نہیں پاکستان ہر حد تک جائے گا‘

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ کشمیر کے ساتھ دنیا کھڑی ہو یا نہ ہو پاکستان کی حکومت اور عوام کھڑی ہو اور ساری قوم پیغام دے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر ہفتے میں ایک دن پوری قوم، ہمارے اسکولز، یونیورسٹیز اور دفاتر جانے والے افراد ایک آدھے گھنٹے کے لیے نکلیں گے اور کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے جس سے متعلق آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس جمعے ( 30 اگست کو) دوپہر 12 سے 12:30 تک جہاں بھی ہوں کام روک کر آدھا گھنٹہ عوام کے ساتھ نکلیں اور بتائیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے دنیا کو بتانا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی ہم نے ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس تک دنیا کو بتانا ہے کشمیریوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے اور کشمیریوں کو یہ بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے آخری پتہ کھیل دیا ہے اس کے بعد اب وہ کچھ نہیں کرسکتا، اب ہم کریں گے اور دنیا کرے گی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ انہوں نے کشمیر کے لوگوں سے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ لیکن انہیں وہ حق نہیں دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ پر ذمہ داری ہے کہ اب کشمیر میں جو ظلم ہورہا ہے اور جو ظلم ہونے جارہا ہے کیا وہ کمزور کی مدد کریں گے بدقسمتی سے اب تک اقوام متحدہ طاقت ور کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سوا ارب مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے تو اقوام متحدہ ان کی مدد کرے گی یا نہیں کیا بڑے بڑے ملک صرف اپنی مارکیٹس کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے؟

انہوں نےکہا کہ نریندر مودی کی حکومت جس نظریے پر چل رہی ہے یہ مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا تو یاد رکھیں کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہے جوہری جنگ میں کوئی بھی نہیں جیتے گا صرف یہاں تباہی نہیں ہوگی بلکہ دنیا پر بھی اثر پڑے گا۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ عالمی برادری، سپر پاورز اور بڑے ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، دنیا ہمارے ساتھ آئے یا نہیں پاکستان تو ہر حد تک جائے گا ہر سطح پر آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔

قبل ازیں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آج قوم سے خطاب کریں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان آج قوم سے خطاب کریں گے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قوم کو آگاہی دیں گے۔’

بعد ازاں ایک اور ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم شام ساڑھے 5 بجے قوم سے خطاب کریں گے۔’

یاد رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ہمراہ گورنر ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے بتایا تھا کہ آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، بھارت نے وادی میں ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جبکہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا تھا کہ کشمیر کاز کی حمایت اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے ترجمانی گروپ تشکیل دیا ہے جس کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کرکے حریت قیادت اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے گھروں یا جیلوں میں قید کردیا تھا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیاں چوتھے ہفتے میں داخل ہو گئی ہیں اور مسلسل 22 روز کے لاک ڈاؤن سے خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

فورسز کی جانب سے سختیوں اور پابندیوں کے باوجود کشمیری عوام کی بڑی تعداد وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے مظاہرے کرچکی ہے، مظاہروں کے دوران شیلنگ اور پیلٹ گن کے چھروں سے درجنوں افراد زخمی جبکہ ہزاروں گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

22 اگست کو دنیا میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے وقف عالمی ادارے جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔

عالمی ادارے نے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ اور اس کے اراکین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت کو خبردار کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی نہ کرے۔

کشمیر کی صورتحال پر پاکستانی اقدامات

پاکستان، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدام، مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور نہتے عوام پر مظالم کی ہر سطح پر مذمت کر رہا ہے اور اس نے عالمی برادری سے بھارتی مظالم رکوانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان بھی بھارت کے مظالم کو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے کئی بار بیانات جاری کر چکے ہیں۔

مقبوضہ وادی کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان نے یوم آزادی کو ‘یوم یکجہتی کشمیر’ کے طور پر منایا تھا جبکہ 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی ‘یوم سیاہ’ کے طور پر منایا گیا۔

اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔

22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کرسکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

آرمی چیف سے چین کے وائس چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن کی مقبوضہ کشمیر پر گفتگو

چین کے وائس چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) جنرل ژو کی لیانگ نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور اس دوران مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سی ایم سی کے وائس چیئرمین جنرل ژو کی لیانگ نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ‘وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے براہ راست ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح پر گفتگو کی گئی’۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سلامتی، دوطرفہ دفاعی تعاون میں اضافہ اور خاص کر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا’۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام اہم معاملات پر چین کے تعاون کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ‘وفد نے یقین دلایا کہ چین، پاکستان اور اس کی فوج کے ساتھ اپنے آزمودہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور اس تعلق کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے’۔

بعدازاں دفاعی تعاون اور پاک آرمی کی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے ایک مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے گئے۔

اس سے قبل وائس چیئرمین سی ایم ایس ژو کی لیانگ نے جی ایچ کیو پہنچتے ہی یاد گار شہدا پر آمد پر پھول چڑھائے اور وفد کو گارڈ آف آنر بھی دیا گیا۔

خیال رہے کہ چین نے گزشتہ ہفتے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں پاک فوج کا غیر معمولی سربراہ قرار دیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاک فوج، جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں خطے میں امن و استحکام سمیت پاکستان کی خودمختاری اور سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

میڈیا بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا تھا کہ ‘ہم نے پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کو دیکھا ہے اور جنرل باجوہ پاک فوج کے غیر معمولی سربراہ ہیں’۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ، چینی حکومت اور فوج کے مخلص اور پرانے دوست ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں ان کا کردار ہمیشہ مثبت رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز کی آئینی درخواست کی سماعت کیلئے فل کورٹ کی استدعا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست جمع کرادی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ میری درخواست کے ساتھ دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

ضمنی ریفرنس کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ موجودہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اور اس کے دیگر اراکین نے ریفرنس نمبر 427 کے فیصلے میں تعصب ظاہر کیا ہے۔

شکایت کنندہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کرتے ہوئے انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اب صدر عارف علوی کی طرف سے دائر ریفرنس سننے کے مجاز نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو صدارتی ریفرنس خارج کرنے کی ہدایت کی جائے اور ان کے خلاف جو احکامات جاری کئے گئے ہیں ان کو کسی بھی قانونی اشاعت کا حصہ بننے سے روکا جائے۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر اراکین نے گزشتہ ہفتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک وکیل کی جانب سے دائر کیے گئے ضمنی ریفرنس کو مسترد کردیا تھا تاہم چیف جسٹس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی تحریر کردی تھیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ریفرنس سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ کونسل نے اس ضمنی ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ جاری کردیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلے میں کہا تھا کہ ریفرنس میں دائر الزامات جج کو ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی درخواست میں فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔

انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ میری درخواست میں بہت اہم آئینی سوالات ہیں جو عدلیہ کہ آزادی اور صدر مملکت کی آزادانہ رائے سے متعلق ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ میری درخواست میں وفاقی کابینہ کی منظوری اور جس طریقے سے میرے اور میرے اہل خانہ کے کوائف اکٹھے کیے گئے ہیں اس حوالے سے گزارشات موجود ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں تمام زیر التوا درخواستیں سننے کی بھی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت عظمی ان کی درخواست کے ساتھ دیگردرخواست گزاروں کی درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دے۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 7 اگست کو عدالت عظمیٰ میں ان کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کر دیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کو ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روک دی جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں جج صاحبان پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزمات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 صفحات پر مشتمل خط میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت اپنے اختیارات کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کی پیروی کی جائے۔

لندن میں 3 جائیدادیں رکھنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ خود پر اور اپنے خاندان کے خلاف تحقیقات کے طریقے پر صبر کرلیں لیکن کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا باعث نہیں ہورہا۔

خط میں انہوں نے کہا تھا کہ جج ایسا کچھ ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے آئینی حلف کے مطابق وہ آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے ہیں۔

میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کو ’پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج‘ تعینات کردیا

میئر کراچی وسیم اختر نے پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کی جانب سے کراچی کو صاف کرنے کی پیشکش پر انہیں پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کردیا۔

میئر کراچی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے الیکٹرانک میڈیا میں دیے گئے بیان میں 90 روز میں کراچی کو صاف کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

نوٹی فکیشن میں وسیم اختر نے کہا کہ میئر ہونے کی حیثیت سے میں فوری طور پر اور تاحکم ثانی سید مصطفیٰ کمال کو رضاکارانہ بنیاد پر ’ پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج‘ مقرر کرتا ہوں۔

قبل ازیں کے ایم سی ہیڈآفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا تھا کہ مصطفیٰ کمال کو کے ایم سی میں پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن ( کے ایم سی ) کے سارے اختیارات اور وسائل دیتا ہوں کل سے کام شروع کریں، 3 مہینے میں کراچی صاف کردیں۔

ایم کیو ایم کی بلدیاتی حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ ناکام ہوگئی، مصطفیٰ کمال

دوسری جانب مصطفیٰ کمال نے کہ میئر کراچی کا چیلنج قبول کرلیا ہے اور کراچی صاف کرکے دکھاؤں گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ضلع شرقی، غربی، کورنگی اور وسطی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) پاکستان کے چیئرمین اور یوسی چیئرمین عہدہ چھوڑدیں، میں چارج لینے آرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وسیم اختر تمام میونسپل اختیارات مجھے دینے کی تیاری کرلیں۔

بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میئر کراچی نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا ہے کہ میونسپل سروسز کی ساری ذمہ داریاں جو میئر کے تابع ہیں وہ انہوں نے مجھے دے دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وسیم اختر کا حکم قبول کرلیا ہے، ان کی جماعت کی کراچی کے 4 اضلاع میں حکمرانی ہے اور 130 یوسیز ہیں جن کا انچارج اب سے میں ہوں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صبح ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا شہر میں بہت مسائل ہیں، رات کے 2 بجے اصغر علی شاہ اسٹیڈیم جہاں سب سے زیادہ کچرا ہے وہاں میونسپل کمشنر آکر بریفنگ دیں، میونسپل سروسز کے انچارج اور سٹی گورنمنٹ کے فنانس ڈائریکٹر کچرا اٹھانے کے محکمے میں ملازمین کی تنخواہوں اور کچرے کی گاڑیوں کے فیول اور اخراجات کی فہرست اجلاس میں پیش کریں۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی بلدیاتی حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ ناکام ہوگئی ہے اور اپنے سب سے بدترین ناقد کو یہ اختیار دے دیا ہے۔

اس سے قبل پی ایس پی سربراہ نے پریس کانفرنس کے دوران وفاقی حکومت کو پیشکش کی تھی کہ انہیں صرف 3 ماہ کے لیے کراچی کا اختیار دے دیا جائے تو وہ اس شہر کو صرف اس مدت کے اندر صاف کرکے دکھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور شہری حکومت، جو وسائل استعمال کر رہے ہیں، وہی وسائل انہیں دے دیں تو وہ نہ صرف شہر کو صاف کرکے دکھائیں گے بلکہ ایسا نظام بھی دیں گے جس پر اگر چلا جائے تو شہر گندا نہیں ہوگا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اپنے کام کرتے ہوئے نہ تو وہ وفاق سے مدد مانگیں گے اور نہ ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ موجود بلدیاتی حکومت کے پاس کراچی کی صفائی کی اہلیت نہیں، وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ کراچی کو صاف کس طرح کرنا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں غلاظت اور کچرے کے ڈھیر پر افزائش پانے والی مکھیوں کی بہتات سے شہری پریشانی کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے 22 روز، کئی علاقوں میں کرفیو توڑ احتجاج

مقبوضہ کشمیر میں پوری وادی اور جموں کے 5 اضلاع میں تاحال کرفیو نافذ ہے جس کے باعث شہریوں کو غذائی قلت اور ادویہ کی کمی کا سامنا ہے جب کہ کئی علاقوں میں کشمیری نوجوانوں نے کرفیو توڑ کر بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے آج 22 واں دن ہے، جگہ جگہ بھارتی فوجی کے اہلکار تعینات ہیں جب کہ دکانیں بند ہونے کے باعث رہائشیوں کا راشن اور ادویہ ختم ہوگئی ہیں۔

ذرائع آمد ورفت معطل ہونے کے سبب مقبوضہ کشمیر میں اجناس کی ترسیل بھی رکی ہوئی ہے اور ہول سیل مارکیٹس بھی بند ہیں، کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ بچا کھچا اسٹاک بھی ختم ہوگیا ہے لیکن قابض فورس علاقے سے باہر نکلنے نہیں دے رہیں۔

نیٹ اور موبائل سروس بند ہونے کے باعث مقبوضہ کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جب کہ بیماری کی صورت میں ایمبولینس منگوانا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔ وادی مکمل طور ایک قید خانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔

ان تمام تر دگرگوں حالات کے باوجود کئی علاقوں میں بہادر کشمیری نوجوان بھارت کے جبری تسلط اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کی۔ قابض بھارتی فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا۔

بھارتی فوج کی آنسو گیس شیلنگ، ییلٹ گن اور ہوائی فائرنگ کے باعث درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے جنہیں قابض فوج نے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی، کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت طبی امداد فراہم کی۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے کرفیو میں نرمی اور مریضوں کو اسپتال منتقلی کی عام اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

کراچی میں پولیس افسر کے گھر میں ڈکیتی، فائرنگ سے بھانجا ہلاک

شادمان سیکٹر 14 بی میں پولیس افسر کے گھر میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے بھانجا جاں بحق ہوگیا۔

ڈی ایس پی طارق ملک نے بتایا کہ چھ ڈاکو میرے گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو یرغمال بنالیا، ملزمان ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بنگلے میں موجود رہے، انہوں نے مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور مزاحمت پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں میرا بھانجا ریاض جاں بحق ہوگیا۔

واردات کے وقت بنگلے میں ڈی ایس پی طارق ملک سمیت 6 افراد موجود تھے جبکہ ملزمان سونا، نقدی اور دو پستول لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

شہباز شریف دور کے وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈز منصوبے کی تحقیقات کا آغاز

 

نیب نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈز منصوبے میں مبینہ غیر قانونی ٹھیکے اور تاخیر کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کیے گئے وہیکل رجسٹریشن اسمارٹ کارڈز منصوبے میں مبینہ غیر قانونی ٹھیکے اور اس میں ہونے والی تاخیر کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب نے اس حوالے سے سیکٹریری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو طلب کرلیا ہے۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق لوگوں کو کروڑوں روپے فیس وصول کرنے کے باوجود گزشتہ کئی ماہ سے 7 لاکھ سے زائد اسمارٹ کارڈز نہیں مل رہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان ہی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے قومی احتساب بیورو نیب نے محکمہ ایکسائز میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے اسمارٹ کارڈز منصوبے کے ٹھیکہ کے متعلق جواب طلب کر لیا ہے۔

حکومت طبی سہولیات نہ دیکرآصف زرداری کو قتل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، بلاول

 

پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت طبی سہولیات نہ دے کرآصف زرداری کو قتل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اڈیالہ جیل راول پنڈی میں والد آصف زرداری اور پھوپھی فریال تالپور سے ملاقات کی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی سے بڑے فاسشٹ عمران خان نیازی ہیں، طبی سہولیات نہ دے کرحکومت آصف زرداری کو قتل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت میری پارٹی اور خاندان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن پیپلزپارٹی جیسی نظریاتی جماعت سمجھوتہ کرلے گی یہ عمران خان کی بھول ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنی بہن بیٹی کی عزت کا خیال نہیں، اس لئے سیاسی مخالفین کی عورتوں کی عزت بھی نہیں کرتا، عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو بغیر سزا کے قید کر رکھا ہے، اگر ایک سال سے سارے کرپٹ بند ہوچکے تو اب ملک میں خوشحالی آنی چاہئے تھی، نیازی کا ہر دعویٰ جھوٹا نکلا اور اس نے ہر بات پر یو ٹرن لیا، فاشسٹ نیازی نے میڈیا کا قتل اور جمہوریت پر حملہ کیا جبکہ انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری دیں، ہم نیازی کو کشمیر پر سودے بازی نہیں کرنے دیں گے۔

Google Analytics Alternative