قومی

حکومتی معاشی پالیسیوں اور اضافی ٹیکسوں کے خلاف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال

کراچی: حکومت کی جانب سے نافذ کردہ اضافی ٹیکسوں اور اس کی وصولی کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری آج ہڑتال کررہی ہے لیکن کچھ شہروں میں تاجر تنظیموں نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا ہے۔

حکومت کی معاشی پالیسیوں، نئے ٹیکسوں اور قواعد کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری آج ہڑتال کررہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ نے غریب عوام اور تاجر برادری کی چیخیں نکال دی ہیں اور حکومت عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکاری ہے، اس سلسلے میں کئے گئے مذاکرات بھی حکومت کی وجہ سے ناکام ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد احتجاج کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ آج کی ہڑتال وفاقی حکومت کو آئینہ دکھا دے گی۔

وفاقی دارالحکومت

حکومت کی جانب سے ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے تاجروں نے شٹر ڈاوٴن ہڑتال کررکھی ہے۔ آبپارہ، جی 10، جی 11 ،ایف 10 مرکز ،فاروقیہ مارکیٹ، میلوڈی ،جناح سپر اور ستارہ مارکیٹ میں مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہے۔

پنجاب میں تاجر برادری تقسیم

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں تاجر برادری کی جانب سے ہڑتال کی جارہی ہے تاہم کچھ تاجر تنظیمیں ہڑتال کے بجائے کاروبار کو رواں دواں رکھنے میں مصروف ہیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں انجمن تاجران اور پاکستان ٹریڈرز الائنس ہڑتال کے معاملے پر تقسیم ہوگئی ہیں۔ ہال روڈ، مال روڈ، لبرٹی مارکیٹ، بیڈن روڈ، اچھرہ،فیروز پور روڈ، صرافہ مارکیٹ اور جیل روڈ پر دکانیں مکمل بند ہیں جب کہ انارکلی، بادامی باغ، منٹگمری روڈ اور میکلوڈ روڈ میں تاجر تقسیم ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہیں۔ جب کہ فلور ملز ایسوسی ایشن نے17 جولائی تک ہڑتال موخر کر دی ہے۔

راولپنڈی، پنڈدادن خان، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، چکوال، خانیوال، ساہیوال:ہڑپہ،چیچہ وطنی، میاں چنوں، وہاڑی، شورکوٹ اور راجن پور میں تاجر برابری مکمل طور پر متحد ہوکر ہڑتال کررہی ہے جب کہ میانوالی، تونسہ شریف، نور پور تھل اور خانقاہ ڈوگراں میں تاجروں نے ہڑتال سے انکار کردیا ہے۔

سندھ میں تاجروں کی ہڑتال

ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کراچی میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے۔ آل کراچی تاجراتحاد، انجمن تاجران میرٹ روڈ، کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن، آل سندھ صراف ایسوسی ایشن اور طارق روڈ بہادرآباد ٹریڈرز الائنس سمیت 450 سے زائد مارکیٹوں کی نمائندہ تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں 90 فیصد سے زائد مارکیٹیں ، بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

دوسری جانب تاجرایکشن کمیٹی نے ہڑتال سے لاتعلقی کااعلان کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے 11 مطالبات میں سے 10 مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، 50 ہزارسے زائد مالیت کی خریداری پرشناختی کارڈ کی شرط صرف رجسٹرڈ تاجروں کے لیے ہے غیررجسٹرڈ کے لیے نہیں ہے۔

شہر قائد کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص، ٹنڈوالہیار، ٹھٹھہ، پڈعیدن، جیکب آباد، نواب شاہ، نوشہرو فیروز، شہدادپور اور ٹنڈوآدم سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں تاجر متحد 

خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسوں اور پابندیوں کے خلاف دارالحکومت پشاور کے علاوہ صوابی، مردان، نوشہرہ، سوات، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر، بنوں اور لوئردیر میں تمام تجارتی مراکز اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

پشاور میں مرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخوا کی کال پر مکمل شٹرڈاؤن ہے۔ شہر کے 124 چھوٹے بڑے بازار مکمل بند ہیں۔ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے تاجر رہنماؤں نے مختلف بازاروں کے دورے کئے جب کہ دوسری جانب ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے حکومتی حمایت یافتہ تاجر تنظیم دکانیں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بلوچستان میں بھی ہڑتال

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے تاجر بھی حکومت کی ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کئے جانے والے احتجاج میں شامل ہیں۔

صوبائی دارالحکومت کی اہم کاروباری مراکز منی مارکیٹ، نواں کلی،سریاب روڈ،جوائنٹ روڈ اور باچا خان چوک میں مکل ہڑتال ہے، اس کے علاوہ حب، چمن، گوادر، کچلاک، سبی، قلات، زیارت اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر قصبات میں بھی کاروبار مکمل طور پر بند ہے۔

گلگت بلتستان کے تاجروں کا حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد 

بلتستان ڈویژن کے تمام اضلاع میں تاجروں نے حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ٹیکسز اور مہنگائی کے خلاف بھر پور ہڑتال کررکھی ہے۔

جج کو ہٹا دیا گیا لیکن ان کے فیصلے سے متاثرہ شخص جیل میں ہے، شاہد خاقان عباسی

سلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ہٹا دیا گیا لیکن ان کے فیصلے سے متاثرہ شخص جیل میں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جج صاحب کا بیان حلفی خود ان کے خلاف چارج شیٹ ہے، جج خود اعتراف کر رہا ہے دباؤ میں فیصلہ دیا، کیس میں سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کو مانیٹرنگ جج کے طور پر تعینات کیا گیا اگر کوئی دباؤ تھا تو جج صاحب نےمانیٹرنگ جج کو کیوں نہیں بتایا؟ جج صاحب نے تھانے میں ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی؟

سابق وزیراعظم نے کہا  کہ آج حکومت نے ایک دوسرا یوٹرن لیا ہے، پہلے وزرا ویڈیو کا دفاع کرتے رہے، اب حکومت جج کو ہٹانے کا دفاع کر رہی ہے، جج کو ہٹانے سے مزید شک پیدا ہو اور پورا نظام انصاف مشکوک ہو چکا ہے، بہت سے شواہد موجود ہیں،ان کے سامنے آنے سے انصاف کا نظام مزید متاثر ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں حکومت کی مداخلت کھل کر سامنے آ گئی، حکومت اس جج کو خرید سکتی ہے تو دوسرے کو بھی خرید سکتی ہے ، نوازشریف غیرقانونی حراست میں موجود ہیں، جج ارشد ملک کو  ہٹا دیا گیالیکن ان کے فیصلے سے متاثر شخص جیل میں ہے۔

نواز شریف کیخلاف ایک فیصلہ واپس ہوا تو دوسرے کیس میں سزا ہوجائے گی، شیخ رشید

لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ واپس ہوا تو دوسرے کیس میں سزا ہوجائے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ریلوے میں بعض لوگ کہتے ہیں کام حرام ہے، ریلوے کا کوئی افسر سکھر نہیں جانا چاہتا، ولہار اسٹیشن کے قریب افسوس ناک حادثہ ہوا۔ گزشتہ کچھ عرصے میں 3 افسوسناک ٹرین حادثات ہوئے، ٹرین حادثے میں 24 ہلاکتیں ہوئیں، ایک ماہ کے اندر حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کریں گے، ریلوے لوکوموٹیو کے اندر کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت 136مسافر اور 55 فریٹ ٹرینیں ٹریک پر ہیں، ریلوے میں جانے والے اکثر لوگ جہاز کا کرایہ برداشت نہیں کرسکتے، ریلوے ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے، 4 ارب کے اضافی تیل کے باوجود خسارہ کم کیا، ہم نےدس بلین کا ٹارگٹ زیادہ حاصل کیاہے اور 60 لاکھ مسافروں کا اضافہ کیا ہے، 278 میں سے 178ریلوے ویگنز نیلام کر دیں گے، 10 اے سی کوچز لاہور اور کراچی میں اسٹینڈ بائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان 2 اسٹیشنوں پر 2 لاکھ مسافر آرہے ہیں، ریلوے میں 1122 کی طرز کا منصوبہ لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عقلمند دشمن بیوقوف دوست سے بہتر ہوتا ہے، کلاشنکوف کیس میں میرے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوا،ابھی بھی ملک میں عظیم جج موجود ہیں، اب ویڈیو کی سیاست ختم ہوچکی ہے، جج کی مبینہ ویڈیو مسلم لیگ (ن) کے گلے پڑ جائے گی، مریم نواز نے (ن) لیگ کو تباہ کردیا ہے، مریم نواز ویڈیو کیس میں پورس کی ہتھنی ثابت ہو گی، یہ سارے پھنس گئےہیں، یہ منی ٹریل نہیں دکھا سکتے، ناصرجنجوعہ کبھی ان کے حق میں گواہی نہیں دیں گے۔ اگر فیصلہ واپس ہوا تو دوسرے کیس میں سزا ہوجائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی 2 گروپ ہیں، ایک ڈیل والا اور دوسرا جوڈو کراٹے والا، شہباز شریف کوحمزہ عزیز ہے اور مریم کو نواز شریف عزیز ہے، چور مچائے شور کی فلم 90 دن میں اپنے انجام کو پہنچ جائے گی، شہباز شریف وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں، شہباز شریف اور میری پارٹی ایک ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان ٹرمپ سے ملنے جارہے ہیں، اللہ خیر کرے کیونکہ دونوں کا مزاج ایک جیسا ہے، کس حکومت کو شوق ہے کہ تاجروں کو ناراض کرے۔

عمران خان ججز پر دباؤ ڈالنے والی مافیا کا حصہ ہیں، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ججز پر دباؤ ڈالنے والی مافیا کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سسیلین مافیا کی طرح پاکستانی مافیا بھی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے اور عدلیہ کو دھمکیاں دے کربیرون ملک دولت کا تحفظ چاہتا ہے۔

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مریم نواز نے ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان اسی مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور سزائیں دلانے کے لیے ججز پر دباؤ ڈالتے ہیں، عمران خان اپنے سیاسی مخالفین سے بدلہ لینے کیلئے اداروں کو استعمال کرتے ہیں۔ اور اس دوران اداروں کو بھی بدنام کراتے ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو گھناؤنی سازش نواز شریف کو سزا دینے اور میدان سے باہر رکھنے کے لیے رچائی گئی عمران خان اس میں شامل اور قصوروار ہیں، ان کا بھیانک چہرہ جج نے پوری دنیا کو دکھا دیا ہے، وہ سلیکٹڈ تو تھے ہی، اب ان کے گھناؤنے کردار پر بھی مہر لگ چکی ہے، وہ اب اپنے بڑوں کے پیچھے مت چھپیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گئے اور سیاسی انتقام کی تمام حدیں عبور کرلی گئیں مگر نواز شریف کو توڑنے اور جھکانے کا خواب دیکھنے والے آج بھی ناکام ہیں۔

نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس اپیل 18 ستمبرکوسماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس اپیل 18 ستمبرکوسماعت کے لیے مقررکردی گئی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس اپیل موسم گرما کی عدالتی تعطیلات کے باعث 18 ستمبر کو سماعت کے لیے مقررکردی گئی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف کی بریت کے خلاف نیب اپیل بھی 18 ستمبر کے لیے مقررکی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترسماعت کریں گے۔ رجسٹرارآفس نے اپیلیں عدالت کے گزشتہ سماعت کے حکم کے مطابق مقررکیں۔

واضح رہے کہ العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسزکے فیصلے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سنائے تھے جب کہ ویڈیو اسکینڈل کے تناظرمیں نوازشریف کو ممکنہ ریلیف کے لیے دوماہ انتظار کرنا ہوگا۔

جج ویڈیو اسکینڈل؛ چیف جسٹس نے درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی

اسلام آباد:  چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک کے ویڈیو معاملے پر درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے۔ 

چیف جسٹس نے  شہری اشتیاق مرزا کی درخواست پر کیس سماعت کے لیے مقرر کیا، درخواست گزار نے ویڈیو لیک معاملے کی مکمل تحقیقات کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزار نے کہا کہ جج ارشد ملک نے جو رشوت کی آفر کا الزام لگایا ہے وہ سنجیدہ نوعیت کا ہے، 6 جولائی کی مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے، اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔

6 جولائی کو مریم نواز نے پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دباؤ ڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔

ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے نواز شریف اور ن لیگ پر الزامات عائد کیے کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور رشوت کی پیش کش کی گئی جبکہ غیر اخلاقی ویڈیوز سے بلیک میل کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وزارت قانون نے جج ارشد ملک کو عہدے سے بھی ہٹادیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت اسلام آباد نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں باعزت بری کردیا تھا۔ نواز شریف نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

حکومت نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

اسلام آباد: تحریک انصاف نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد تحریک انصاف بھی میدان میں آگئی اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی قرارداد جمع کرادی۔

ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی ہے جس پر تحریک انصاف، اتحادی جماعتوں اور آزاد سینیٹرز کے 11 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

اس سے قبل تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز سمیت آزاد قبائلی سینیٹرز کے وفد نے قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز سے ملاقات کی جس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مشاورت کی گئی تھی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹادیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کی سفارش پر وفاقی وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹادیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی ہدایت پر رجسٹرار نے وزارت قانون کو خط لکھ کر کہا ہے کہ جج ارشد ملک کی خدمات واپس ان کے اصل محکمہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کی جائیں۔ ارشد ملک کو پنجاب سے ڈیپوٹیشن پر احتساب عدالت اسلام آباد میں جج لگایا گیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے خط کی روشنی میں فوری طور پر جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور وزارت قانون رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس فیصلے سے کچھ دیر قبل جج ارشد ملک نے ویڈیو اسکینڈل پر قائم مقام چیف جسٹس ہائیکورٹ کو خط لکھ کر مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک نے مبینہ ویڈیو معاملے پر رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کی اور عدالت عالیہ کے نام ایک خط ان کے حوالے کیا۔

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے خط میں وڈیو میں لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ارشد ملک نے ن لیگ کی مبینہ دھمکیوں اور نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کےلیے رشوت کی پیشکش کا بھی خط میں تذکرہ کیا ہے۔

ارشد ملک کے خط اور بیان حلفی کو نواز شریف کی اپیل کا حصہ بنانے کا حکم

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق ارشد ملک نے خط کے ساتھ اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز منسلک کرتے ہوئے بیان حلفی بھی جمع کرایا ہے۔ رجسٹرار نے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کرکے انہیں جج ارشد ملک کے خط اور بیان حلفی سے آگاہ کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے رجسٹرار کو حکم دیا ہے کہ جج ارشد ملک کے خط اور بیان حلفی کو نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ جسٹس عامر فاروق کے حکم پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے رجسٹر نے خط اور بیان حلفی کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔

واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے گزشتہ روز قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے بھی ملاقات کی تھی۔ وہ قائم مقام چیف جسٹس سے پیر اور جمعرات کو دو ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

پس منظر

مریم نواز نے پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دباؤ ڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔
ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو بھی مسترد کردیا۔

گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں باعزت بری کردیا تھا۔ نواز شریف نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

Google Analytics Alternative