- الإعلانات -

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز PSL کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم

دبئی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رن سے شکست دے کر پاکستان سپرلیگ (PSL) کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم کا اعزاز حاصل کر لیا.

تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پشاور زلمی کے کپتان شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے احمد شہزاد اور بسم اللہ خان نے اننگز کا آغاز کیا جو مایوس کن تھا. گزشتہ میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بسم اللہ خان پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے جبکہ احمد شہزاد 6 رنز بنا کر محمد اصغر کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں اسٹمپپ ہوئے.

کیون پیٹرسن اور کمار سنگاکارا نے 11 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد کوئٹہ کی کمان سنبھالی اور 79 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے اسکور کو 90 رنز تک پہنچایا.

کمارسنگاکارا 37 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے. کپتان سرفرازاحمد صرف 5 رنز کا اضافہ کرکے واپس چلے گئے.

پیٹرسن 53 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو کوئٹہ کا اسکور 106 رنز تھا ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم ایک دفعہ پھر مشکلات کا شکار ہوگئی تاہم محمد نواز نے جارحانہ بلے بازی کی کوشش کی لیکن ان کی ہمت 122 رنز پر جواب دے گئی وہ 20 رنز بنا سکے.

محمد نواز کے آؤٹ ہوتے ہی بقیہ بلے باز صرف 11 رنز کا اضافہ کرپائے اور پوری ٹیم آخری اوور میں 133 کے اسکور پر پویلین لوٹ گئی.

گرانٹ ایلیٹ 5، ناتھن مک کولم اور انور علی ایک، ایک رن بنا کر اورذولفقار بابر صفر پر آؤٹ ہوئے. اعزاز چیمہ صفر پر کھڑے رہے یوں کپتان سرفراز احمد سمیت کوئٹہ کے 8 بلے باز دوہرے ہندسے کو عبور کرنے میں ناکام رہے.

پشاور زلمی کی جانب سے وہاب ریاض نے 3 اور شان ٹیٹ نے 2 وکٹیں حاصل کیں.

134 رنز کے ایک آسان ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کا آغاز بھی سست روی سے ہوا جبکہ 29 کے اسکور پر کامران اکمل کی وکٹیں انور علی نے بکھیر دیں.

محمد حفیظ کو نو بال پر بڑے شارٹ کھیلنے کے دوموقعے ملے لیکن وہ ایک رن بھی نہ بنا سکے تاہم 31 کے اسکور پر مجموعی طورپر 15 رنز بنا کر محمد نواز کا شکار ہوئے، نواز نے کوئٹہ کے لیے اگلی گیند پر بریڈ ہوج کی وکٹیں اڑا کر ایک اور کامیابی دلادی جبکہ مخالف ٹیم کو دباؤ کا شکار کرنے میں کامیاب ہوئے.

شاہد یوسف اور بیئراسٹو نے پشاور کو چوتھی وکٹ کی شراکت میں 26 رنز کا اضافہ کیا اور اسکور 57 رنز تک پہنچایا جبکہ بیئراسٹو 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے 62 کے اسکور پر شاہد یوسف بھی 15 رنز بنا کر گرانٹ ایلیٹ کا شکار ہوئے.

پشاورزلمی کو کپتان شاہد آفریدی سے بڑی توقعات تھی لیکن ایک ایسے وقت میں جب کپتان کو ذمہ دارانہ اننگز کھیلنے کی ضرورت تھی روایتی انداز میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیند کو فیلڈر کے ہاتھوں میں تھما دیا اور مشکلات میں گھری ٹیم کو مزید دباؤ کا شکار کردیا. اس وقت پشاور کا اسکور 84 رنز تھا، آفریدی نے صرف دو رنز بنائے تھے.

ڈیرن سیمی نے وہاب ریاض کے ساتھ مل کر ایک اچھی شراکت قائم کی اور پشاور کو میچ میں واپس لے آئے تھے تاہم محمد نواز کے ایک اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکے کے ساتھ 12 رن لینے کے باوجود آخری گیند پر اونچا شارٹ کھیلنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر ناتھن مک کولم کا کیچ بن گئے. ڈیرن سیمی 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو زلمی کا اسکور 113 رنز تھا.

وہاب ریاض نے شدید دباؤ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور حسن علی کے ساتھ مل کر آخری اوور میں پشاور کو جیت کے قریب لے آئے تھے کہ دو گیندیں قبل نوجوان حسن 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب ٹیم کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے مگر اگلی ہی گیند پر وہاب ریاض بھی آؤٹ ہوئے.

وہاب ریاض 22 رنز بناکر آؤٹ ہوئے آخری گیند پر پشاور زلمی کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے مگر نوجوان کھلاڑی محمد اصغر صرف ایک رن بنا سکے یوں پشاور زلمی کو ایک رن سے شکست ہوئی.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد نواز اور گرانٹ ایلیٹ نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اعزاز چیمہ نے آخری اوور میں دو وکٹیں اپنے نام کیں.

محمد نواز کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس شاندار کامیابی کے ساتھ پی ایس ایل کے فائنل میں پہنچ گئی جبکہ پشاور کو فائنل میں پہنچنے کے لیے اگلے میچ کی فاتح ٹیم سے کامیابی کی ضرورت ہے.

قبل ازیں پشاور زلمی کی ٹیم میں اہم میچ کے لیے دو تبدیلیاں کی گئی تھیں تمیم اقبال کی جگہ انگلینڈ کے بلے باز بئیراسٹو جبکہ حسن علی کو پہلی دفعہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں محمد نبی کی جگہ ناتھن مک کولم جبکہ اعزاز چیمہ کو دوبارہ موقع دے دیا گیا۔دبئی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رن سے شکست دے کر پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم کا اعزاز حاصل کر لیا.

تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پشاور زلمی کے کپتان شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے احمد شہزاد اور بسم اللہ خان نے اننگز کا آغاز کیا جو مایوس کن تھا. گزشتہ میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بسم اللہ خان پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے جبکہ احمد شہزاد 6 رنز بنا کر محمد اصغر کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں اسٹمپپ ہوئے.

کیون پیٹرسن اور کمار سنگاکارا نے 11 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد کوئٹہ کی کمان سنبھالی اور 79 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے اسکور کو 90 رنز تک پہنچایا.

کمارسنگاکارا 37 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے. کپتان سرفرازاحمد صرف 5 رنز کا اضافہ کرکے واپس چلے گئے.

پیٹرسن 53 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو کوئٹہ کا اسکور 106 رنز تھا ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم ایک دفعہ پھر مشکلات کا شکار ہوگئی تاہم محمد نواز نے جارحانہ بلے بازی کی کوشش کی لیکن ان کی ہمت 122 رنز پر جواب دے گئی وہ 20 رنز بنا سکے.

محمد نواز کے آؤٹ ہوتے ہی بقیہ بلے باز صرف 11 رنز کا اضافہ کرپائے اور پوری ٹیم آخری اوور میں 133 کے اسکور پر پویلین لوٹ گئی.

گرانٹ ایلیٹ 5، ناتھن مک کولم اور انور علی ایک، ایک رن بنا کر اورذولفقار بابر صفر پر آؤٹ ہوئے. اعزاز چیمہ صفر پر کھڑے رہے یوں کپتان سرفراز احمد سمیت کوئٹہ کے 8 بلے باز دوہرے ہندسے کو عبور کرنے میں ناکام رہے.

پشاور زلمی کی جانب سے وہاب ریاض نے 3 اور شان ٹیٹ نے 2 وکٹیں حاصل کیں.

134 رنز کے ایک آسان ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کا آغاز بھی سست روی سے ہوا جبکہ 29 کے اسکور پر کامران اکمل کی وکٹیں انور علی نے بکھیر دیں.

محمد حفیظ کو نو بال پر بڑے شارٹ کھیلنے کے دوموقعے ملے لیکن وہ ایک رن بھی نہ بنا سکے تاہم 31 کے اسکور پر مجموعی طورپر 15 رنز بنا کر محمد نواز کا شکار ہوئے، نواز نے کوئٹہ کے لیے اگلی گیند پر بریڈ ہوج کی وکٹیں اڑا کر ایک اور کامیابی دلادی جبکہ مخالف ٹیم کو دباؤ کا شکار کرنے میں کامیاب ہوئے.

شاہد یوسف اور بیئراسٹو نے پشاور کو چوتھی وکٹ کی شراکت میں 26 رنز کا اضافہ کیا اور اسکور 57 رنز تک پہنچایا جبکہ بیئراسٹو 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے 62 کے اسکور پر شاہد یوسف بھی 15 رنز بنا کر گرانٹ ایلیٹ کا شکار ہوئے.

پشاورزلمی کو کپتان شاہد آفریدی سے بڑی توقعات تھی لیکن ایک ایسے وقت میں جب کپتان کو ذمہ دارانہ اننگز کھیلنے کی ضرورت تھی روایتی انداز میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیند کو فیلڈر کے ہاتھوں میں تھما دیا اور مشکلات میں گھری ٹیم کو مزید دباؤ کا شکار کردیا. اس وقت پشاور کا اسکور 84 رنز تھا، آفریدی نے صرف دو رنز بنائے تھے.

ڈیرن سیمی نے وہاب ریاض کے ساتھ مل کر ایک اچھی شراکت قائم کی اور پشاور کو میچ میں واپس لے آئے تھے تاہم محمد نواز کے ایک اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکے کے ساتھ 12 رن لینے کے باوجود آخری گیند پر اونچا شارٹ کھیلنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر ناتھن مک کولم کا کیچ بن گئے. ڈیرن سیمی 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو زلمی کا اسکور 113 رنز تھا.

وہاب ریاض نے شدید دباؤ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور حسن علی کے ساتھ مل کر آخری اوور میں پشاور کو جیت کے قریب لے آئے تھے کہ دو گیندیں قبل نوجوان حسن 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب ٹیم کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے مگر اگلی ہی گیند پر وہاب ریاض بھی آؤٹ ہوئے.

وہاب ریاض 22 رنز بناکر آؤٹ ہوئے آخری گیند پر پشاور زلمی کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے مگر نوجوان کھلاڑی محمد اصغر صرف ایک رن بنا سکے یوں پشاور زلمی کو ایک رن سے شکست ہوئی.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد نواز اور گرانٹ ایلیٹ نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اعزاز چیمہ نے آخری اوور میں دو وکٹیں اپنے نام کیں.

محمد نواز کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا.

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس شاندار کامیابی کے ساتھ پی ایس ایل کے فائنل میں پہنچ گئی جبکہ پشاور کو فائنل میں پہنچنے کے لیے اگلے میچ کی فاتح ٹیم سے کامیابی کی ضرورت ہے.

قبل ازیں پشاور زلمی کی ٹیم میں اہم میچ کے لیے دو تبدیلیاں کی گئی تھیں تمیم اقبال کی جگہ انگلینڈ کے بلے باز بئیراسٹو جبکہ حسن علی کو پہلی دفعہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں محمد نبی کی جگہ ناتھن مک کولم جبکہ اعزاز چیمہ کو دوبارہ موقع دے دیا گیا۔