- الإعلانات -

پی ایس ایل کے بارے میں بھیانک انکشاف

اسلام آباد :  کرکٹ شائقین پاکستان سپر لیگ کی یادوں کو ابھی باسی نہ کرپائیں ہوں گے کہ ایشیا کپ نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے تاہم ایسے میں سامنے آنے والے بھیانک انکشاف نے سبھی کو حیران کردیا ہے ۔ ملک میں کرکٹ کی بحالی قرار دی جانیوالی پی ایس ایل اپنے ساتھ بہت سارے دیکھے اور ان دیکھے خطرات کو لے کر حتم ہوئی ہے ۔ سبوخ سید نے اپنے حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ پی ایس ایل کے ذریعے آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کی کامیابیوں پر بھی سوال کھڑا کردیاگیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں منصوبوں کے بعد اندروانی اور بیرونی طورپر کامیابی سے یہ باور کروایا گیا تھا کہ پاکستان میں حالات صحیح سمت بڑھ رہے ہیں ایسا کرنے سے سرمایہ کاری اور دیگر مواقع پیدا ہونے لگے تھے تاہم عین اسی وقت ملک سے باہر کرکٹ ٹورنا منٹ کرا کے یہ سوال کھڑا کیا گیا ہے کہ اگر حالات صحیح ہیں تو اتنا اہم ایونٹ بیرون ملک کیوں کیاجارہاہے ۔ سبوخ سید کا مزید کہنا تھا کہ اسی ٹورنامنٹ کے دوران بوم بوم آفریدی کو جادو کا شکار بنانے کیلئے بھی خصوصی سازش تیار کی گئی ۔ اس مقصد کیلئے ایک بنگالی عامل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ، پاکستانی صحافی کے بقول اس سازش کی تیاری لاہور کے ایک مافیا کی جانب سے کی گئی تھی ۔ شاہد آفریدی نے اس سازش کا علم ہونیوالے معروف صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی کو اعتماد میں لیا تھا جس کے بعد مولانا طارق جمیل کے ذریعے جادو ٹو نے کے سدباب کیلئے اقدامات کئے گئے ۔ ان اقدامات کے تحت نا صرف آفریدی کو ایک خصوصی لباس مہیا کیا گیا ان سے کہا گیا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے ہمراہ لے کر جائیں جو دوران کھیل گروائنڈ میں موجود رہ کر ان کی حفاظت کیلئے وظاف کا اہتمام کرینگے ۔ باخبر حلقوں تک رسائی رکھنے والے پاکستانی صحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے منتظم نجم سیٹھی نے آئی سی سی کی ایما پر آئند ہ ورلڈ کپ پاکستان میں کروانے کی شرط کے طورپر بھی پی ایس ایل کو دبئی میں منعقد کروایا تھا۔دبئی میں ٹورنامنٹ کے انعقاد کا ایک اور سبب بتاتے ہوئے سیوخ سید نے کہا کہ موجودہ موسم میں شام کے اوقات میں دبئی کے باسی کمر اور گھنٹوں کی انتہائی اذیت ناک تکلیف کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس مقصد سے بچاﺅ کیلئے وہ خصوصی زیر جامے استعمال کرتے ہین تاہم سیاحت کی صنعت کونقصان سے بچانے کیلئے مقامی میڈیا اور انتظامیہ اس مسئلہ کی تشہیر نہیں کرتی ۔انکشافات سے پر تحریر کے مطابق انتہائی اہم مقابلوں سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کو مخصوص گراﺅنڈ پر کھلا کر یہ ہدف حاصل کیاگیا ہے کہ وہ جسمانی طورپر فعال نہ رہ سکیں ۔انکشافات کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ سبوخ سید کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے بھارت سے دوستی کی ناجائز حد تک بڑھی ہوئی خواہش کے زیر اثر انڈین پرائم منسٹر کی ایما ءپرگلگت بلتستان اور کشمیر کی ٹیموں کو ٹورنامنٹ سے دور رکھنے کی ہدایات کیں ۔ ایسا کرکے کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے اور گللگت بلتستان کی حیثیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ سبوخ سید کے مطابق یہ منصوبہ بھارتی وزیراعظم کے اچانک دورہ لاہور کے دوران طے پایا تھا جس پر عمل کیلئے وزیراعظم نے نجم سیٹھی کو خصوصی طورپر بلاکر انہیں ٹاسک دیاتھا۔تاحال یہ واضح نہیں کہ کالم نگار کے انکشافات پر مبنی یہ تحریر سازشی تھیوری پر مبنی ہے یا حقائق سے متعلق ہے تاہم سبوخ کی جانب سے کئے گئے انشکافات کے بعد تاحال نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ یا وزیراعظم کی جانب سے کسی قسم کے وضاحت سامنے نہیں آئی ہے ۔