- الإعلانات -

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں محمداصغر کو سرپرائز کے طور پرشامل کیا جاسکتاہے

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی لیگ پاکستان سپر لیگ (PSL) کی ٹیم پشاور زلمی کے نوجوان اسپنلر محمد اصغر نے صرف دو میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کرکے کرکٹ پنڈتوں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے۔;محمد اصغر نے اپنے پس منظر کے حوالے نے بتایا کہ ان کا تعلق کوئٹہ سے ہے جبکہ کرکٹ میں آنے سے قبل کئی سال تک وہ بلوچستان کے علاقے حب میں رہائش پذیر رہے۔بائیں ہاتھ سے جادوئی اسپن باؤلنگ کرنے والے محمد اصغر 28 دسمبر 1998 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے جہاں سے کوئی کرکٹر اس طرح نمایاں نہیں ہوسکا۔محمد اصغر نے ابتدائی کیرئیر کے حوالے سے کہا کہ انہیں حب میں رہنے کے دوران گلی کرکٹ کے ذریعے اپنے صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔نوجوان کرکٹر نے کلب کرکٹ کا آغازنیشنل کمبائن کلب سے کیا جبکہ نینشل بینک کے عہدے دار اسحاق پٹیل نے ان کے کھیل کو سراہتے ہوئے بینک کے اسپورٹس سربراہ اور سابق اسپنر اقبال قاسم سے ملوایا جہاں سے انھیں قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بہترین موقع میسر آیا۔صغر کا کہنا ہے کہ اقبال قاسم نے ان کا بہت خیال رکھا اور آج وہ جس مقام پر وہ کھڑے ہیں، وہاں پہنچنے میں ان کا بڑا کردار ہے۔دوسری جانب، اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ وہ اصغر کو وسیم اکرم کی طرح نیچرل ٹیلنٹ قرار دیں گے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح اصغر کو گیند پر قابو اور ٹرن کرنے پر عبور حاصل ہے، وہ کسی کو سکھانا ممکن ہی نہیں۔سابق اسپنر نے کہا کہ اصغر کا سب سے بڑا ہتھیار ان کا اعتماد ہے۔قبال قاسم کو یاد ہے کہ جب اصغر پہلی مرتبہ ان سے ملے تو وہ مالی سمیت دیگر بہت سی مشکلات سے دوچار تھے.حب سے روزانہ کراچی آنا ناممکن تھا اس لیے انھوں نے اصغر کا کراچی میں قیام کا بندوبست کیا جبکہ انڈر 19 سطح پر دس سے پندرہ ہزار کا وظفیہ مقرر کیا جو اب تین گنا ہو چکا ہے۔اقبال قاسم نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اصغر کو سرپرائز کے طور پرشامل کیا جاسکتا ہے. ‘جس طرح وسیم اکرم نے ابتدائی میچوں میں ہی تہلکہ مچایا تھا اصغر بھی ایسی ہی اہلیت رکھتے ہیں۔اصغر سے جب پی ایس ایل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیگ میں کھیلنا اور کارکردگی دکھانا ایک خواب کی مانند ہے۔پی ایس ایل کے ابتدائی دو میچوں میں اچھی کارکردگی کے بعد انھیں جس طرح پزیرائی ملی اس پر وہ بہت خوش ہیں اور وہ اس کی وجہ اپنی ٹیم پشاور زلمی اور کپتان شاہد آفریدی کو قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ناصرف انھیں منتخب کیا بلکہ کھیلنے کا بھرپور موقع دیا۔نوجوان اسپنر نے کہا کہ وہ PSL میں اپنی کارکردگی کو شہدائے آرمی پبلک اسکول کے نام کرتے ہیں اور اب ان کا مقصد لیگ میں کامایبی حاصل کرکے ٹرافی کو پشاور APS لے جا کر خوشی میں متاثرین کو بھی شریک کرنا ہے۔