- الإعلانات -

TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کی جانب سے پنجاب ٹیوٹا کو لرننگ ایڈز حوالے کرنے کی تقریب کا انعقاد

یورپی یونین، جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی، اور رائل نارویجن سفارت خانے کے تعاون سے اور Deutsche Gesellschaft für Internationale Zusammenarbeit (GIZ) GmbH اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے ذریعے لاگو کیا گیا یہ پروگرام قابلیت پر مبنی تربیت کے نفاذ اور ڈیجیٹلائزڈ لرننگ آپشنز کو سپورٹ کرنے کے لیےکل 51 سمیلیٹرز فراہم کرے گا۔
عطیہ دہندگان کی مالی اعانت سے چلنے والے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) سیکٹر سپورٹ پروگرام (SSP) نے آج مغل پورہ میں پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA)کے سینٹر آف ایکسیلینس (CoE) کو سات ڈیجیٹل لرننگ ایڈز/سمولیٹرز فراہم کیے۔ لرننگ ایڈز TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کے تحت سندھ میں موجود ورک پلیس بیسڈ ٹریننگ ماڈل کے تربیت یافتہ گریجویٹس نے تیار کیں۔ مغل پورہ میں سنٹر آف ایکسیلینس، جہاں تقریب منعقد ہوئی تھی، کو بھی TVET SSP کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
سندھ کے 4 اداروں میں TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کے تعاون سے مجموعی طور پر 51 سمولیٹرز تیار کیے گئے ہیں۔ لاہور، اوکاڑہ، فیصل آباد، بہاولپور، گجرات، لودھراں اور سرگودھا میں پنجاب TEVTA کے اداروں کو کل 23 سمیلیٹر فراہم کیے جائیں گے۔ نجی سیکٹر کے اداروں نے ان کی تحقیق اور ترقی ، اور اسمبلنگ کے ساتھ ساتھ پیداواری عمل کے دوران سمیلیٹرز کی کوالٹی ایشورنس بھی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آٹوموبائل، HVAC، الیکٹریکل اور قابل تجدید توانائی سے متعلق تجارتوں میں قابلیت پر مبنی تربیت کی فراہمی کے لیے یہ سیکھنے کے آلات/سمیلیٹرز بہت اہم ثابت ہوں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کی سربراہ آئرس کورڈیلا روٹزول نے کہا کہ ، "پاکستان میں TVET اصلاحات کے فروغ کے اختراعی طریقے ہماری کامیابی کا کلیدی عنصر ہیں۔ جب ہم نے 2011 میں NAVTTC کے ساتھ شراکت داری میں اصلاحات کا عمل شروع کیا تو گورننس میں اصلاحات اور قابلیت پر مبنی تربیت (CBT) کو متعارف کرانا ہمارا مقصد تھے۔ اب ایک دہائی کے بعد، ہم قابلیت پر مبنی تربیتی طریقوں کے ذریعے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کو پاکستان کے فنی تعلیم کے میدان میں مرکزی دھارے میں شامل ہوتے دیکھ کر واضح طور پر ترقی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان TVET اصلاحات کے لیے صحیح راستے پر گامزن ہے”۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے فرسٹ سیکرٹری، ٹیم لیڈر گورننس اینڈ ایجوکیشن، مسٹر سوین رویش نے کہا، "پاکستان میں یورپی یونین کا وفد ایک دہائی سے زائد عرصے سے تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم کے فروغ اور پالیسی اصلاحات کے لیے تعاون کر رہا ہے۔ فی الوقت پاکستان میں TVET کے شعبے کے لیے ہماری امداد 90 ملین یورو سے زیادہ ہے اور ہم آنے والے سالوں میں اپنی مدد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری کوششوں کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں۔
تقریب میں اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاءریکٹر جنرل آپریشنز پنجاب TEVTA، راءوراشد نے کہا، "صوبائی ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز (TEVTAs) TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کے ساتھ قریبی تعاون سے، بہت سے نوجوانوں کو قابلیت پر مبنی تربیت اور ہنر مند کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کے لیے تیار کررہی ہیں۔ سمولیٹرز کی صورت میں تربیت سیکھنے والے آلات کی مدد سے، نوجوان مرد اور خواتین آگے آ سکتے ہیں اور اختراعی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔”
تقریب میں ترقیاتی شراکت داروں، سرکاری اور نجی شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز، CoE کے عملے اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام کو یورپی یونین (EU)، جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) اور رائل نارویجن سفارت خانے کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے اور اسے Deutsche Gesellschaft für Internationale Zusammenarbeit (GIZ) GmbH اور نیشنل ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے ذریعے لاگو کیا جاتا ہے۔