- الإعلانات -

نمرہ کاظمی کے والدین نے شاہ رخ سے پسند کی شادی تسلیم کرلی

نمرہ کاظمی اور شاہ رخ، جنھوں نے پسند کی شادی کی تھی، کے والدین کے درمیان تلخیاں ختم ہونے لگی ہیں۔ نمرہ کے والدین نے شاہ رخ کو اپنا داماد تسلیم کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں نمرہ کاظمی مبینہ اغوا کیس میں شاہ رخ کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

طرفین کے وکلا کے مطابق دونوں خاندان جلد صلح نامہ جمع کرانے پر راضی ہیں۔ شاہ رخ کے وکیل کا کہنا تھا کہ نمرہ کے والدین سے گفت و شنید چل رہی ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ایک دو دنوں میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی امید ہے، جس کے بعد مصالحت نامہ عدالت میں جمع کروا دیں گے۔

نمرہ کی والدہ نے کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہیں ، جس پر لڑکے کی خالہ نے کہا کہ شاہ رخ کراچی میں ہی رہنا پسند کرے گا، باقی ہمیں سب شرائط منظور ہیں۔ عدالت نے سماعت مزید کسی کارروائی کے 2 جولائی تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے آخری سماعت میں نمرہ کے اقبالی بیان کی کی کاپی میڈیا کے سامنے آئی تھی ، جس میں نمرہ کے مطابق اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ہے بلکہ وہ اپنی خوشی سے نجیب شاہ رخ کے پاس تونسہ شریف گئی۔ اقبالی بیان کے مطابق نمرہ اور شاہ رخ نے 18 مئی کو خریداری کی جس کے بعد ان نکاح ہوا۔ نمرہ کے مطابق وہ 18 سال کی بالغ لڑکی ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ نباہ چاہتی ہے، اسے والدین کے پاس نہ بھیجا جائے۔

اس سے پہلے نمرہ کاظمی کو جب سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، تو شاہ رخ کے وکیل نے اہم انکشاف کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ پیپلز پارٹی کی شہلا رضا کے کہنے پر نمرہ کو شیلٹر ہوم میں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور وہ خود بھی شیلٹر ہوم جا کر لڑکی پر دھونس جما رہی ہیں۔ شاہ رخ کے وکیل کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ شہلا رضا نے نمرہ کا کھانا پینا بند کروا دیا ہے اور شاہ رخ کے گھر والوں کو نمرہ سے ملاقات کا موقع نہیں دیا جا رہا، عدالت سے استدعا ہے کہ وہ شہلا رضا کو لڑکی کو ڈرانے دھمکانے سے منع کرے۔