اسرائیل دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو خالصتاً شر کی بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔اس وقت دنیا کے اندر جس قدر بھی طوائف الملوکی ،دہشت گردی ،جنگ و جدل ،افراتفری اور شر کا پھیلائو ہے وہ اسی اسرائیل کا مرہون منت ہے ۔توریت اور قرآن کریم اس قوم کی سرکشی اور محسن کشی سے عبارت ہیں ۔امریکہ جو اقتصادی طورپر اسرائیل کے شکنجے میں ہے اس کی ہر طرح کی من مانیوں کو جوں کا توں کرنے پر مجبور ہے ۔ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملہ اسی کی ایک کڑی ہے ۔امریکہ کو اپنی رعونت ،بے تحاشا ہتھیاروں کی طاقت نے عراق ،افغانستان ،شام لیبیا کو تباہ کرنے کے بعد ایک پر امن مسلم ملک ایران پر حملہ کرنے کیلئے اکسایا ۔یہودیوں کی بدنام زمانہ The Protocol of the Learned of Zion دستاویز پڑھیں تو اس میں درج منصوبوں کی تفصیلات پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ یہودیوں نے ایک صدی قبل اپنے ایک خفیہ اجلاس میں دنیا کا جو نقشہ بنایا تھا ،آج کی دنیا اس کے مطابق ڈھل چکی ہے۔
اس دستاویز کا انگریزی ترجمہ مصباح الاسلام فاروقی نے یہو دی سازش Jewish Conspriacyکیا تھا ۔ اس یہودی دستاویز کی رو سے یہودیوں کا مقصد صرف فلسطین پر قبضہ برقرار رکھنا نہیں بلکہ دنیا پر بلاشرکت غیرے غلبہ حاصل کرنا ہے ۔دنیا کے حالات بتاتے ہیں یہودیوں کیلئے یہ منزل زیادہ دور نہیں ۔یہودی پروٹوکول دراصل یہودیوں کی 33ویں نسل کے افراد کی اس میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں پر مشتمل ہے جو 1897ء کے لگ بھگ ہوئی ۔اس وقت دنیا میں یہودیوں کی کوئی اپنی ریاست نہیں تھی تا ہم دنیا کے معاملات پر ان کا کنٹرول تب بھی موجود تھا ۔اس دستاویز میں دو طرح کے عزائم ملتے ہیں ۔اول:یہودی ریاست کا قیام اور اس کی ہئیت ترتیبی ۔دوم:دنیا پر اہل یہود کی حکمرانی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دستاویز میں دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ،یہودی دنیا اور غیر یہودی دنیا ۔حیرانی کی بات ہے کہ یہودی عددی لحاظ سے دنیا کی آبادی کا اعشاریہ چند فیصد بھی نہیں مگر اس کے باوجود وہ شروع دن سے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا پر حکمرانی کرنا ان کا بنیادی حق ہے ۔اسرائیل کی ناجائز ریاست کے معرض وجود میں آنے سے پہلے بھی یہودی ایک طاقت کے طور پر دنیا میں موجود تھے اور امریکہ ان سر گرمیوں کا مرکز تھا ۔یہودیوں نے اپنی عیاری مکاری اور شیطانی ذہن سے نہ صرف فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی بلکہ امریکہ کو تسخیر کر کے اسے اپنا آلہ کار بنا لیا ۔آج اس کے تمام فیصلے یہودیوں کی منظوری سے کئے جاتے ہیں ۔اسے دلچسپ حقائق قرار دیا جائے یا سفاک حقیقت کہ یہودی دستاویز کے پہلے پروٹوکول کا پہلا جملہ آج امریکہ کا عالمی منشور بن چکا ہے Right Lies in Might(حق طاقت میں پوشیدہ ہے )۔آگے چل کر اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے ”ہم نے ایک نیا حق دریافت کیا ہے اور وہ ہے طاقت ور ہونے کے ناطے میرا حملہ کرنے کا حق ،یعنی موجودہ قانون ،ضابطہ ،نظام اور دنیا کے قانون قاعدے کو درہم برہم کر کے اس کے پر خچے اڑا دینے کا حق تا کہ ہم زندگی کی تعمیر نو نئی بنیادوں ،نئے اصولوں اور نئے ضوابط کے مطابق کر سکیں ۔ہمیں اپنی طاقت کو راز میں رکھنا ہے ۔جب تک ہم اس درجہ زور آور نہ ہو جائیں کہ دنیا کی کوئی چال ،کوئی مزاحمت اور کوئی سازش ہمارا بال بیکا بھی نہ کر سکے اور ہماری بے پناہ قوت کے سامنے سارا عالم جھکنے پر مجبور ہو جائے ۔قارئین اگر غور کریں کہ ایک سو بیس سال پہلے یہودی دستاویز میں بیان کردہ یہ عزائم آج امریکی نیو ورلڈ آرڈر کی حیثیت سے دنیا میں نافذ نہیں ہو چکے ۔کیا طاقت کو بطور حق استعمال کرنے کا عملی اظہار افغانستان ،عراق اور اب ایران میں نہیں ہو رہا ۔کیا اس سے یہ حقیقت طشت از بام نہیں ہو گئی کہ امریکی نیو ورلڈ آرڈر یہودی ایجنڈا ہے جو ایک سو بیس برس قبل ان کی خفیہ دستاویز میں متعین کیا جا چکا ہے ۔اس دستاویز کے پانچویں پروٹوکول میں یہ انکشاف بھی موجود ہے کہ اقوام متحدہ دراصل یہودیوں کی آلہ کار ہے اور اپنے طور پر کوئی معمولی فیصلہ کرنے کی بھی مجاز نہیں حالانکہ کہ یہودی ایک سو بیس سال قبل یہ طے کر چکے تھے کہ انہوں نے ایک ایسا نظام ترتیب دینا ہے جس کی بدولت دنیا صرف ان کے فیصلے سنے گی ،مگر بول نہیں پائے گی ۔پروٹوکول میں لکھا ہے ”ہم گزشتہ بیس صدیوں سے مذہبی اور نسلی عصبیت کو فروغ دے رہے ہیں ۔اسے شدید سے شدید تر کرتے جا رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں کہیں کوئی مملکت ہمارے خلاف صف آرا ہوئی تو دنیا کی کوئی قوم اس کا ساتھ نہیں دے گی کیونکہ اس موقع پر دنیا کی ہر قوم یہی سوچے گی کہ ہمارے خلاف ہونے والا ہر معاہدہ خود اس کے خلاف ہو گا ۔ہم اپنی جگہ بہت مضبوط اور طاقتور ہیں کوئی طاقت ایسی نہیں جو ہمیں شکست دے سکے ۔آج اقوام متحدہ معمولی سے معمولی معاہدہ بھی اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک ہمارا خفیہ ہاتھ ان معاہدوں کے پیچھے موجود نہ ہو ۔”یہودیوں کی اس بدنام زمانہ دستاویز میں حیرت کے کئی سامان موجود ہیں ۔امریکہ نے دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر افغانستان اور عراق پر قبضہ کیا شام اور لیبیا کو برباد کیا اور اب ایران پر چڑھ دوڑا ہے ۔یہودی دستاویز یہ انکشاف کرتی ہے کہ دہشت گردی دنیا میں یہودی تسلط کے قیام کا سب سے بڑا حربہ ہے ۔دستاویز کے پروٹوکول9میں لکھا ہے ”دہشت گردی اور بربریت یہودی حکمرانی کی بنیاد ہے ۔ان کی وجہ سے آج تمام مملکتیں عالم نزع میں ہیں ۔یہ سب سکون اور حق کی تلاش میں سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں مگر ہم انہیں اس وقت تک امن نہیں بخشیں گے جب تک ہماری بین الاقوامی اعلیٰ حکومت کو تسلیم نہ کر لیں۔ہم نے انتہائی شدید نوعیت کی دہشت گردی کے بیج بو دئیے ہیں کہ مضبوط سے مضبوط ممالک بھی اس کے سامنے بے بس ہو جائیں گے ۔”یہودی دستاویز کا ایک اور خوفناک انکشاف ملاحظہ کریں ۔گیارھویں پروٹوکول میں لکھا ہے ”دوسرے مذاہب کے لوگ یعنی غیر یہودی بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہیں اور ہم ان کے بھیڑئیے ۔بھیڑئیے بھیڑوں کے گلے میں گھس جائیں تو جو کچھ ہوتا ہے آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ہم انکی آزادی چھین کر مسلسل ان سے یہ وعدہ کرتے رہیں گے کہ امن کے دشمنوں اور باغیوں کا خاتمہ کر کے ان کی تمام آزادیاں انہیں واپس کر دیں گے ۔یہاں اس بات کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کو اپنی آزادی واپس لینے کیلئے کتنا انتظار کرنا پڑے گا ۔”غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عراق اور افغانستان میں یہی کھیل کھیلا گیا ۔ یہودی دستاویز کے پروٹوکول 14میں درج ہے ”جب ہم دنیا پر قابض ہوں گے تو یہ پسند نہیں کریں گے کہ ہمارے توحیدی مذہب کے علاوہ بھی کوئی مذہب دنیا میں رہے ۔خدا کے محبوب قوم کی حیثیت ہمارا مقدر خدائے واحد کے ساتھ وابستہ ہو چکا ہے ۔اس لئے ہمیں ایمان اور اعتقاد کی دوسری تمام صورتوں کو ملیا میٹ کر دینا چاہیے کہ غیر یہودی کے مذہبی رہنمائوں کا وقار کم کیا جائے اور اس طرح دنیا میں ان مذاہب کی تحاریک کو تباہ و برباد کر دیا جائے ۔ان علماء کا وقار اور احترام ہمارے منصوبوں کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے”۔کیا یہودی ایجنڈے اور آج کل کے حالات میں بہت سی مماثلتیں پیدا نہیں ہو چکیں ؟ یہودی دستاویز کے آخری پانچ پروٹوکول اقتصادیات پر مبنی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ غیر یہودی اقوام کو قرضوں کے جال میں پھنسا کر انہیں کیسے غلام بنانا ہے ۔پروٹوکول21میں لکھا ہے ”غیر یہودی حکومتیں ہمارے سامنے سر نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اپنے قرضے کی تمام رقم واپس کرنے کا مطالبہ کر دیں گے جو ان کیلئے نسل در نسل اتارنا بھی ممکن نہیں ۔”آج دیکھا جائے یہودی اسی دستاویز پر عمل پیرا ہیں ۔آج امریکہ کی تمام پالیسیاں یہودی پروٹوکول کی عملی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔آج دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پس پردہ یہودی منصوبہ ہی کار فرما ہے ۔
Right Lies in Might

