سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

فیس بک نے ویڈیو گیمز کی دنیا کا حیرت انگیز اور حقیقی کریکٹر والا ورژن تیار کرلیا

سان فرانسسکو: فیس بک نے انٹیلی جنس آرٹی فیشل کی مدد سے حقیقی کھلاڑیوں کو اُن کے فطری انداز کے ساتھ ویڈیو گیم کے کریکٹرز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے حیرت انگیز سسٹم تیار کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویڈیو گیم ’Vid2Play‘  تیار کی ہے جس میں کھلاڑیوں کے کریکٹر مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی دنیا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ہوں گے اور صارف اپنی پسند کے کھلاڑی کا انتخاب کرکے اسے ویڈیو گیم کھلاڑی کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

فیس بک کا یہ ہائی ٹیکنالوجی والا ورژن 80 کی دہائی کی ایف ایم وی یعنی فل موشن ویڈیو کی یاد تازہ کردے گی لیکن یہ زیادہ جدید ہے اور حقیقت سے نہایت قریب بھی جس کے لیے ہزاروں کھلاڑیوں کے ایکشن کا مطالعہ کیا گیا اور ان کے ہر انداز کو سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے ویڈیو گیم کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے پوز ٹو پوز اور پوز ٹو فریم نیٹ ورک کا استعمال کیا ہے جس کی مدد سے رقص کرنے یا ٹینس کھیلتے وقت جسم کی حرکات میں تبدیلی کو کریکٹر کا حصہ بنادیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حقیقی کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کی حرکات کا کنٹرول صارف کے ہاتھ میں ہوگا۔

فیس بک کا لاکھوں پاس ورڈ سادہ ٹیکسٹ میں محفوظ کرنے کا اعتراف

گزشتہ ماہ یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فیس بک کے عملے کو 60 کروڑ صارفین کے پاس ورڈز تک رسائی حاصل ہے جن کو انکرپٹ کی بجائے سادہ ٹیکسٹ میں محفوظ کیا گیا ہے۔

اب فیس بک نے ہی انکشاف کیا ہے کہ لاکھوں انسٹاگرام پاس ورڈ بھی اسی طرح کے پلین ٹیکسٹ فارمیٹ میں محفوظ کیے گئے ہیں۔

اب کمپنی کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے کہ اس پاس ورڈز کو اندرونی طور پر کسی غلط مقصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا گیا یا کسی کو اس تک رسائی حاصل تو نہیں ہوئی۔

اس کے بعد فیس بک کے پرائیویسی اسکینڈلز کی فہرست میں ایک اور معاملے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

فیس بک نے یہ اعتراف ایک ماہ پرانے بلاگ پوسٹ میں ایک اپ ڈیٹ کے ذریعے کیا جس کا بظاہر مقصد لوگوں کی توجہ اس طرف جانے سے بچانا لگتا ہے۔

تاہم فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اب علم ہوا کہ توقعات سے زیادہ انسٹاگرام پاس ورڈز اس طریقے سے محفوظ کیے گئے ہیں۔

فیس بک کا خیال تھا کہ اس مسئلے سے ہزاروں انسٹاگرام صارفین متاثر ہوئے ہیں مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیس بک نے غیردانستہ طور پر 15 لاکھ سے زائد صارفین کی ای میل کانٹیکٹس لسٹیں اپ لوڈ کرلی ہیں۔

انسٹاگرام صارفین کے معاملے پر فیس بک نے اپنے بیان میں کہا ‘یہ ایسا معاملہ ہے جو پہلے ہی رپورٹ ہوچکا ہے مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طریقے سے توقعات سے زیادہ پاس ورڈز محفوظ کیے گئے ہیں، مگر ابھی تک ان پاس ورڈز کے غلط استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے’۔

جب ایک خراب فون کی جگہ صارف کو 10 نئے فونز مل گئے

جب کوئی فرد وارنٹی میں اسمارٹ فون خریدتا ہے تو خرابی کی صورت میں اسے واپس کرکے نیا فون مل جاتا ہے۔

مگر سوچیں اس وقت کیا ہو جب ایک شخص اپنے خراب نئے فون کو کمپنی کے پاس واپس بھجوائے اور جواب میں اسے ایک نہیں بلکہ 10 نئے فونز دے دیئے جائیں۔

جی ہاں ایسا انوکھا واقعہ سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ کے ایک رکن چیتوز (یوزر نیم) کے ساتھ پیش آیا جن کا گوگل پکسل 3 فون خراب ہوگیا تو وہ اس کے ری فنڈ کے خواہشمند تھے مگر گوگل نے پیسوں کی بجائے 10 مزید فونز ان کے حوالے کردیئے۔

اب یہ گوگل کی کسٹمر کیئر سروس کی غلطی ہے یا کچھ اور، مگر چیتوز اب کمپنی کی اس غلطی پر اسے شرمندہ کرنا چاہے ہیں۔

ریڈیٹ میں ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کا وائٹ پکسل 3 خراب تھا اور وہ اسے واپس کرکے ایک ہزار ڈالرز لینا چاہتے تھے مگر انہیں صرف 80 ڈالرز ملے۔

صارف کا غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب 900 ڈالرز کی بجائے گوگل کی جانب سے اسے 10 پنک پکسل تھری فونز بھجوادیئے گئے۔

ریڈیٹ میں ان فونز کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے چیتوز نے لکھا ‘گوگل میرے پاس آپ کے فونز ہیں، اور آپ کے پاس میرے پاس، آئیں اس مسئلے کو حل کریں’۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ مالی لحاظ سے ان کو فائدہ ہوا ہے مگر وہ ایسا نہیں چاہتے بلکہ فونز واپس کرکے بس اپنے پیسے لینا چاہتے ہیں۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا ‘اگر میری مناسب معاونت نہ کی گئی تو میں تو 9 اضافی فون ایک ہزار ڈالرز میں الگ الگ واپس کروں گا، اگر گوگل ان کو قبول نہیں کرے گا تو میں مارکیٹ میں ان کو فروخت کرکے اپنی رقسم پوری کروں گا، اگرچہ یہ درست نہیں مگر اب میرا صبر اور آپشنز ختم ہورہے ہیں’۔

چیتوز کی یہ پوسٹ لگتا ہے کہ کام کرگئی کیونکہ ان کے بقول جمعرات کو گوگل کے ایک نمائندے نے ان سے رابطہ کرکے مزید تفصیلات طلب کیں تاکہ اس معاملے کو دیکھ سکے۔

گوگل نے باضابطہ طور پر اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

ایپل کا نئے آئی فونز میں کیمرے زیادہ بہتر بنانے کا فیصلہ

ایپل کے رواں سال متعارف کرائے جانے والے آئی فونز میں سیلفی کیمرے کو بہت زیادہ بہتر کیا جائے گا اور 2 نئے ماڈلز میں 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا جائے گا جس میں ایک سپر وائیڈ لینس سے لیس ہوگا۔

میک ریومرز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی فون ایکس ایس میکس اور آئی فون ایکس ایس کے اپ ڈیٹ ورژن 6.5 انچ اور 5.8 انچ کے او ایل ای ڈی اسکرین والے نئے آئی فونز میں 3 بیک کیمرے دیئے جائیں گے جبکہ 6.1 انچ کے ایل سی ڈی ماڈل بھی ڈوئل کیمرے سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اسی طرح کم روشنی میں کیمروں کی کارکردگی کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اور ہاں تینوں نئے آئی فونز میں 7 کی بجائے 12 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے سپر وائیڈ لینس اور فرنٹ کیمرے میں ایک خصوصی بلیک کوٹنگ کی جائے گی تاکہ وہ زیادہ نمایاں نہ ہوں بلکہ لگ بھگ نادیدہ محسوس ہوں تاکہ ڈیزائن آنکھوں کو زیادہ اچھا لگے۔

ایسا سام سنگ کی جانب سے پہلے ہی کچھ فرنٹ کیمروں کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ وہ بیزل میں گم ہوجائیں۔

اب تک نئے آئی فونز کے جو رینڈر سامنے آئے ہیں ان میں بیک کیمرا سیٹ اپ زیادہ خوبصورت نہیں لگ رہا جس کو فائنل ماڈل میں بہتر کیا جائے گا۔

اس سے پہلے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس سال ایپل کی جانب سے ڈیزائن کے حوالے سے کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا جارہا مگر یہ کمپنی اپنی تاریخ میں پہلی بار 2019 میں 5 نئے آئی فونز ایک ساتھ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جاپانی ٹیکنالوجی ویب سائٹ ماکوٹکارا نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی فون ایکس ایس، ایکس ایس میکس اور ایکس آر کے اپ ڈیٹ ماڈلز کے ساتھ ساتھ ایپل کی جانب سے 2 نئے او ایل ای ڈی آئی فونز ماڈلز پر کام کیا جارہا ہے جن میں بیک پر 3 کیمرے دیئے جائیں گے۔

آئی فون ایکس، آئی فون ایکس ایس میکس اور آئی فون ایکس آر کے اپ ڈیٹ ورژن کا ڈیزائن تو گزشتہ سال کا ہوگا مگر ہارڈ وئیر کو بہتر بنایا جائے گا۔

فیس بک کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

فیس بک میں صارفین کی پرائیویسی کا ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے اور کمپنی نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔

بزنس انسائیڈر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک نے مئی 2016 کے بعد اس سوشل میڈیا نیٹ ورک کا حصہ بننے والے 15 لاکھ سے زائد صارفین کی کانٹیکٹ لسٹیں ان کی اجازت کے بغیر اپ لوڈ کردیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک سیکیورٹی محقق نے توجہ دلائی تھی کہ فیس بک کی جان سے کچھ صارفین سے ان کے ای میل اکاﺅنٹ کے پاس ورڈ کے اندراج کا مطالبہ نئے اکاﺅنٹ کو بناتے ہوئے کیا جارہا ہے۔

اور جب صارف اپنے پاس ورڈ کا اندراج کردیتا تو اس کے سامنے ایک میسج آتا جس میں لکھا ہوتا امپورٹنگ یور کانٹیکٹس، جس کو منسوخ کرنے کا آپشن ہی نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں کانٹیکٹس اپ لوڈ کرنے کے عمل کا نوٹیفکیشن بھیجنے کا سلسلہ ختم ہوگیا مگر کمپنی وہ کوڈ ہٹانا بھول گئی جو اس ٹاسک کو سرانجام دیتا تھا۔

فیس بک نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ای میل ویریفکیشن کا سلسلہ ایک ماہ قبل ختم کردیا تھا اور اپ لوڈ ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا۔

بیان میں بتایا گیا ‘گزشتہ ماہ ہم نے پہلی بار فیس بک پر سائن اپ ہونے والے افراد کے اکاﺅنٹ کی تصدیق کے لیے ای میل پاس ورڈ ویریفکیشن کا سلسلہ ختم کردیا تھا، جب ہم نے جائزہ لیا کہ لوگ اپنے اکاﺅنٹس کی تصدیق کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں تو ہم نے دریافت کیا کہ کچھ معاملات میں لوگوں کے ای میل کانٹیکٹس فیس بک اکاﺅنٹ بناتے ہوئے اپ لوڈ ہوجاتے۔ ہمارے تخمینے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد کے ای میل کانٹیکٹس اس طرح اپ لوڈ ہوگئے، یہ کانٹیکٹس کسی سے شیئر نہیں کیے گئے اور ہم انہیں ڈیلیٹ کررہے ہیں۔ ہم اس مسئلے کو حل کررہے ہیں اور ان لوگوں کو آگاہ کیا جارہا ہے جن کے کانٹیکٹس امپورٹ ہوگئے ہیں، لوگ فیس بک سیٹنگز میں جاکر اس کا جائزہ اور نظرثانی کرسکتے ہیں’۔

مگر کمپنی نے بزنس انسائیڈر کو یہ بھی بتایا کہ یہ اپ لوڈ ڈیٹا نئے دوستوں کی تلاش اور ‘اشتہارات بہتر’ کرنے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے۔

اس معاملے پر فیس بک کا بیان کافی کمزور ہے اور کمپنی کی ساکھ کو اس نئے اسکینڈل سے ایک اور دھچکا لگا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ بھی یہ کمپنی صارفین کے پاس ورڈ پلین ٹیکسٹ میں محفوظ کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔

سام سنگ کے 3 بیک کیمروں والے ‘سستے’ اسمارٹ فونز متعارف

سام سنگ نے حال ہی میں گلیکسی اے سیریز کے متعدد فون متعارف کرائے ہیں اور اب مزید 2 نئی ڈیوائسز کو پیش کردیا گیا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے جے سیریز کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد ہر ہفتے ہی اے سیریز کے فونز متعارف ہورہے ہیں۔

اب جنوبی کورین کمپنی نے چین میں گلیکسی اے 40 اور گلیکسی اے 60 متعارف کرائے ہیں جو 3 بیک کیمروں اور چند متاثرکن فیچرز سے لیس سستے مڈرینج فونز ہیں۔

گلیکسی اے 40 میں 6.4 انچ سپر امولیڈ انفٹنی یو ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ اے 60 میں 6.3 انچ امولیڈ انفٹنی او یا پنچ ہول ڈسپلے دیا گیا ہے۔

اے 40 میں کمپنی کا اپنا ایکسینوس 7904 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

اس کے مقابلے میں اے 60 میں اسنیپ ڈراگون 675 پراسیسر، 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے اور دونوں فونز میں ایس ڈی کارڈ سے اسٹوریج میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اے 40 میں متاثرکن 5000 ایم اے ایچ جبکہ اے 60 میں 3500 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ 15 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے۔

کمپنی کے مطابق اے 40 اپنی طاقتور بیٹری کی وجہ سے ایک چارج پر کئی دن تک کام کرسکتا ہے۔

دونوں فونز میں بیک پر فنگرپرنٹ اسکینر دیا گیا ہے جبکہ اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم موجود ہے۔

جہاں تک کیمروں کی بات ہے تو گلیکسی اے 40 میں فرنٹ پر 16 میگا پکسل سیلفی کیمرا موجود ہے جبکہ بیک پر 13 میگا پکسل مین سنسر، 5 میگا پکسل الٹرا وائیڈ سنسر اور 5 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر دیا گیا ہے۔

گلیکسی اے 60 میں 32 میگاپکسل کا طاقتور کیمرا فرنٹ پر موجود ہے جبکہ اس کے بیک پر 32، 8 اور 5 میگا پکسل کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

گلیکسی اے 40 کی قیمت 225 ڈالرز (31 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ اے 60 کی قیمت 300 ڈالرز (42 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

اوپو کے نئے فلیگ شپ فونز پاکستان میں پیش

اوپو نے اپنی فلیگ شپ ایف سیریز کے 2 نئے فونز ایف 11 اور ایف 11 پرو پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردیئے ہیں۔

ڈیزائن کے لحاظ سے دونوں فونز ایک جیسے ہیں، بس ایف 11 میں واٹر ڈراپ نوچ میں سیلفی کیمرا دیا گیا ہے جبکہ ایف 11 پرو میں پوپ اپ میکنزم سیلفی کیمرے کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور اسے بیزل لیس فون بنایا گیا ہے۔

دونوں فونز میں 6.53 انچ آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ انرجی بچانے میں مدد دیتا ہے۔

دونوں فونز میں میڈیا ٹیک ہیلیو پی 70 پراسیسر موجود ہے جبکہ ایف 11 میں 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج جبکہ ایف 11 پرو میں 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، تاہم ایس ڈی کارڈ سپورٹ موجود نہیں۔

دونوں فونز میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ فونز 80 منٹ میں مکمل چارج ہوجاتے ہیں، حالانکہ اس میں یو ایس بی ٹائپ سی کی بجائے مائیکرو یو ایس بی پورٹ دی گئی ہے۔

اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے کلر 6.0 آپریٹنگ سسٹم سے کیا ہے۔

دونوں فونز میں 16 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے، جبکہ بیک پر 48 اور 5 میگا پکسل کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

کمپنی کے مطابق 48 میگا پکسل زبردست شارپ نس اور لو نوائز کے ساتھ بہتر تصاویر فراہم کرتا ہے جبکہ الٹرا نائٹ موڈ رات کو بھی اچھی فوٹوز لینے میں مدد دیتا ہے۔

یہ کیمرے اے آئی فیچرز سے بھی لیس ہیں جو کہ مختلف اشیا کی شناخت کرنے کے ساتھ فوٹو کلر بہتر کرتے ہیں۔

اوپو ایف 11 کی قیمت 39 ہزار 999 روپے جبکہ ایف 11 پرو کی قیمت 54 ہزار999 روپے رکھی گئی ہے۔

ایف 11 صارفین کے لیے 27 اپریل جبکہ ایف 11 پرو 20 اپریل سے دستیاب ہوگا۔

پاکستان کی انٹرنیٹ صلاحیت 96ٹیرابٹ فی سیکنڈ تک بڑھانے کیلئے معاہدہ

پاکستان کے انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سائبرنیٹ پاکستان اور پیس کیبل انٹرنیشنل کے درمیان ایک معاہدہ ہوگیا۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اینڈ ایسٹ ایشیا کنیکٹنگ یورپ (پیس) اور کیبل انٹرنیشنل نیٹ ورک کمپنی لمیٹڈ اور سائبر انٹرنیٹ سروسز پرائویٹ لمیٹڈ (سائبرنیٹ پاکستان) کے درمیان ملک کے پہلے کیریئر نیوٹرل اوپن ایکسز سب میرین کیبل سسٹم (زیرسمندر کیبل کا نظام) کے ساتھ انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کی صلاحیت کو 96 ٹیرابٹ فی سیکنڈ تک بڑھانے کے لیے قاہرہ میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان، جبوتی، مصر، کینیا اور فرانس میں قدم رکھنے کے ساتھ پیس کیبل سسٹم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے اقتصادی راہداریوں کے مابین باہمی ربط فراہم کرے گا۔

اعلامیے کے مطابق یہ 12 ہزار کلومیٹر طویل نجی کیبل سسٹم ‘صارفین کے لیے کھلی، لچکدار اور کیریئر نیوٹرل سروسز فراہم کرے گا’ جبکہ اس منصوبے کا پہلا فیز ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑے گا اور پیس 2020کو کی پہلی سہ ماہی میں اس کی تکمیل کی امید ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ مقامی آبادی کے لیے گیگابٹ رفتار کو بڑھانے کے قابل بنائے گا اور پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں صارفین کی جانب سے موبائل اور فکسڈ بروڈبینڈ کی بیڈودتھ طلب کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

مذکورہ اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس نظام کو ایسا بنایا گیا ہے کہ یہ جدید 200جی ٹیکنالوجی اور ڈبلیو ایس ایس ٹیکنالوجی کو اپنائے گا، جس سے فی سیکنڈ فی فائبر 16 ٹیرابٹس سے زیادہ منتقل کرنے کی صلاحیت ہوگی اور یہ بڑھتی ہوئی علاقائی ضروریات کو پورا کرے گیا۔

واضح رہے کہ سائبرنیٹ پاکستان میں پیس کیبل لینڈنگ اسٹیشن پارٹنر ہے اور وہ پیس پاکستان کیبل لینڈنگ اسٹیشن (سی ایل ایس) قائم کرے گا اور اپنا آپریشن دیکھے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ سائبرنیٹ مارچ 2020 تک پیس کیبل کے لیے پاکستان کا پہلا کیریئر نیوٹرل کیبل اسٹیشن بھی تعمیر کرے گا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سائبرنیٹ پاکستان سی ای او دانش لاکھانی کا کہنا تھا کہ زیرسمندر کیبل کے نظام سے ‘پاکستان میں ڈیجیٹل منظرنامے پر وسیع پیمانے پر اثر’ پڑے گا۔

انہوں ںے واضح کیا کہ اس کے انتہائی ایم ڈیزائن سے پاکستان اور فرانس کے درمیان ٹرانزٹ کا وقت کم ہوکر 90 ملی سیکنڈ تک آجائے گا، اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے تعلق رکھنے والی ایپلیکیشن کا رسپانس ٹائم اور ہمارے صارفین کے تجربے میں بہتری آئے گی۔

Google Analytics Alternative