سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

ایپل آئی فون کے لیے انتہائی محفوظ سیکیورٹی سسٹم بنانے میں کامیاب

اسمارٹ فون اور کمپیوٹر آلات بنانے والی دنیا کی معتبر ترین کمپنی ایپل نے یوں تو آئی فون میں پہلے بھی سیکیورٹی فیچر متعارف کرا چکی ہے۔

اور اب تک ایپل کے آئی فون میں فیس آئی ڈی اور فنگر پرنٹ سینسر جیسے سیکیورٹی فیچر کام کرتے آ رہے ہیں۔

ایپل نے آخری بار فیس آئی ڈی کو 2017 میں آئی فون ایکس میں متعارف کرایا تھا جب کہ فنگر پرنٹ سینسر کو کمپنی نے اس سے قبل متعارف کرایا تھا۔

ایپل نے گزشتہ 2 سال سے کسی بھی فون میں کوئی نیا سیکیورٹی فیچر متعارف نہیں کرایا، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ کمپنی آئی فون کے لیے پہلی بار محفوظ ترین سیکیورٹی فیچر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

محفوظ ترین سیکیورٹی فیچر بنانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ایپل 2021 میں آئی فون کے اندر پہلی بار فیس آئی اور فنگر پرنٹ سینسر کو ایک ساتھ متعارف کرائے گی۔

ٹیکنالوجی ادارے ’9 ٹو 5 میک‘ کے مطابق ایپل گزشتہ 2 سال سے آئی فون کے لیے انتہائی محفوظ سیکیورٹی فیچر بنانے میں مصروف تھا اور سخت محنت کے بعد کمپنی ابتدائی طور پر نیا سیکیورٹی سسٹم بنانے میں کامیاب گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایپل نے 2021 میں آئی فون میں فنگر پرنٹ سینسر اور فیس آئی ڈی کو بیک وقت متعارف کرانے کے سسٹم کا ابتدائی کام مکمل کرلیا ہے اور اب کمپنی 2 سال بعد آئی فون میں پہلی بار دونوں سیکیورٹی فیچرز کو متعارف کرائے گی۔

رپورٹ کے مطابق آئی فون پہلی بار فنگر پرنٹ سینسر کو آن اسکرین متعارف کرائے گی اور اس کے لیے کمپنی کو ابھی بھی کچھ مشکلات کا سامنا ہے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ کمپنی آن اسکرین فنگر پرنٹ سینسر فیچر کو بنانے میں درپیش مشکلات کو آئندہ سال تک ختم کرلے گی۔

فنگر پرنٹ سینسر اور فیس آئی ڈی جیسے فیچرز میں درپیش مشکلات کو ختم کرنے کے بعد کمپنی 2021 میں نیا آئی فون ان ہی فیچرز کے ساتھ متعارف کرائے گی۔

نئے فیچرز کے ساتھ آئی فون کے صارفین بیک وقت فیس آئی ڈی اور فنگر پرنٹ سینسر کو استعمال کرتے ہوئے فون کو استعمال کرسکیں گے۔

دونوں میں سے کسی ایک فیچر کو استعمال کرنے سے موبائل کا لاک نہیں کھلے گا۔

اس نئے فیچر کو اسمارٹ موبائلز کے لیے انقلاب سمجھا جا رہا ہے، تاہم ساتھ ہی خیال کیا جا رہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ایپل سے قبل کوئی اور کمپنی بھی اسی طرح کے فیچر کو متعارف کرانے میں کامیاب جائے۔

سولر پینل سے خودبخود چارج ہونے والا انوکھا اسمارٹ فون

اسمارٹ فون تو اب بیشتر افراد کے پاس ہوتا ہے مگر ان ڈیوائسز کی چارجنگ کافی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ عام طور پر روزانہ ایک سے 2 بار انہیں چارج کرنے کی ضرورت پڑجاتی ہے۔

تاہم ایسے فون کا تصور کریں، جس کو چارج کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو کیونکہ وہ سورج کی روشنی سے خودبخود چارج ہورہا ہو تو پھر؟

درحقیقت چینی کمپنی شیاﺅمی نے ایسے ہی ماحول دوست اسمارٹ فون کا ڈیزائن پیٹنٹ کرایا ہے جو ایک سولر پینل کی مدد سے خود کو چارج کرے گا۔

لیٹس گو ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق شیاﺅمی کے ڈیزائن پیٹنٹ میں فون کے بیک پر سولر پینل نصب ہے۔

یہ پیٹنٹ کمپنی کی جانب سے گزشتہ دنوں ورلڈ انیلکچوئیل پراپرٹی آفس میں جمع کرایا گیا ہے جس میں مختلف خاکوں میں ایک آل اسکرین فون کو دکھایا گیا ہے جس کے بیک کور پر سولر پینل موجود ہے۔

یہ واضح نہیں کہ فرنٹ پر سیلفی کیمرا دیا جائے گا یا نہیں کیونکہ خاکوں میں فرنٹ پر صرف اسکرین ہی ہے جبکہ کسی قسم کے نوچ یا ہول کا عندیہ نہیں دیا گیا۔

فون کے بیک پر ڈوئل کیمرا سیٹ اپ نظر آرہا ہے۔

اس فون کے پیٹنٹ ڈیزائن کا خاکہ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ لیٹس گو ڈیجیٹل
فوٹو بشکریہ لیٹس گو ڈیجیٹل

یہ تو واضح نہیں کہ شیاﺅمی کی جانب سے اس فون کو کب تک متعارف کرایا جاسکتا ہے، تاہم ماضی میں اس طرح کی کوشش دیگر کمپنیاں بھی کرچکی ہیں۔

ایل جی اور سام سنگ نے کئی برس پہلے ایسا کیا تھا اور سام سنگ کی جانب سے ای 1107 اور بلیو ارتھ ایس 7550 متعارف کرائے تھے جن کی 1080 ایم اے ایچ بیٹری میں سولر پینل موجود تھا جو کہ سورج کی روشنی میں ایک گھنٹے رہنے پر 10 منٹ تک کال کی سہولت فراہم کرتی تھی۔

ایل جی آپشنل سولر سیل بیٹری کور بیک 2010 میں پیش کیے تھے جو سورج کی روشنی میں 10 منٹ رہنے پر 2 منٹ تک کال کرنے کی سہولت فراہم کرتے تھے۔

دنیا کے امیر ترین شخص 58 کھرب روپے سے کیسے ‘محروم’ ہوئے؟

دنیا کے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز گزشتہ چند روز میں 36.8 ارب ڈالرز (58 کھرب پاکستانی روپے سے زائد) سے ‘محروم’ ہوگئے ہیں۔

اس کی وجہ ان کی جانب سے ایمازون میں ان کے حصص کا ایک چوتھائی حصہ سابق اہلیہ میکنزی بیزوز کو منتقل کرنا ہے۔

امریکی جریدے فوربس کی رپورٹ کے مطابق جیف بیزوز کی جانب سے 33 ارب ڈالرز مالیت کے حصص کی منتقلی دنیا کی مہنگی ترین طلاق کے تحت ہونے والے تصفیے کا حصہ ہے۔

اس منتقلی کے نتیجے میں دنیا کے امیر ترین شخص کے اثاثوں کی مالیت میں کمی آئی ہے جبکہ میکنزی بیزوز ایمازون کے چند بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک ہوگئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیف بیزوز نے 29 جولائی کو اپنے حصص کا 25 فیصد حصہ یا 19.7 ملین شیئرز میکنزی بیزوز کو منتقل کیے، تاہم ایمازون کے بانی کو کمپنی کے ووٹنگ کنٹرول حاصل رہے گا۔

اسی منتقلی کے بعد میکنزی بیزوز دنیا کی تیسری امیر ترین خاتون بن گئی ہیں جو 36.8 ارب ڈالرز کی مالک ہیں جبکہ جیف بیزوز کے اثاثے گھٹ کر 117.8 ارب پر آگئے ہیں، مگر اب بھی وہ دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بل گیٹس سے 13 ارب ڈالرز زیادہ کے مالک ہیں۔

خیال رہے کہ اس جوڑے نے رواں سال جنوری میں ٹوئٹر پر 25 سال کی شادی کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اپریل میں دونوں کے درمیان طلاق کے بعد مالی معاملات طے کیے گئے تھے۔

اس موقع پر اپنے ٹوئیٹ میں میکنزی بیزوز نے بتایا کہ جیف بیزوز اور انہوں نے علیحدگی کے عمل کو مکمل کرلیا ہے اور انہیں ایمازون میں جیف بیزوز کے 25 فیصد شیئرز ملیں گے۔

ٹوئیٹ میں مزید بتایا کہ میکنزی جیف بیزوز کو ایمازون کے 75 فیصد اسٹاک دینے پر خوش ہیں جبکہ اپنے حصص کا ووٹنگ کنٹرول بھی وہ سابق شوہر کو دے رہی ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اور بلیور اوریجن میں اپنے شیئر بھی جیف بیزوز کے سپرد کردیئے۔

اب میکنزی ایماوزن کے 4 فیصد شیئر کی مالک بن چکی ہیں اور اس کمپنی کی تیسری بڑی شیئر ہولڈر بن چکی ہیں۔

اگر میکنزی اپنے شیئرز فروخت بھی کردیں تو بھی جیف بیزوز ان حصص کے ووٹنگ کنٹرول کو اپنے پاس رکھ سکیں گے اور ان کا یہ اختیار ایمازون کے بانی کی موت یا قانونی طور پر دستبرداری کی صورت میں ہی ختم ہوگا۔

معاملات طے ہونے کے بعد طلاق کی حتمی دستاویز گزشتہ ماہ سامنے آئی تھی جس کے بعد یہ جوڑا باضابطہ طور پر علیحدہ ہوگیا۔

مئی میں میکنزی نے اپنے نصف اثاثے فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے وہ بل گیٹس اور وارن بفٹ کے تیار کردہ اپنے اثاثے تقسیم کرنے کے عہدنامے پر دستخط کریں گی۔

ہواوے کا اینڈرائیڈ پر انحصار ختم کرنے کی جانب اہم قدم

رواں سال مئی میں امریکی حکومت نے ہواوے کو بلیک کردیا جس کے بعد تحت چینی کمپنی کو امریکی کمپنیوں کے تیار کردہ سافٹ وئیر یا ہارڈ وئیر کے استعمال سے روک دیا گیا، اب اس پابندی میں نرمی کی جارہی ہے۔

تاہم امریکی بلیک لسٹ کے نتیجے میں ہواوے کے فونز کسی بھی وقت اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے محروم ہوسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب اس کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ ہواوے ردعمل کے طور پر اپنے آپریٹنگ سسٹم ہونگ مینگ کو تیار کرنے کے عمل سے گزر رہی ہے۔

چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی رپورٹ میں کمپنی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہواوے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں اپنے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم پر مبنی اسمارٹ فون متعارف کرانے والی ہے۔

یہ فون مڈرینج یا لوئر فیچرز والا ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کمپنی کی جانب سے اینڈرائیڈ کو فلیگ شپ فونز جیسے میٹ اور پی سیریز کے فونز کے لیے استعمال ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہواوے کی ایگزیکٹیو کیتھرین چین نے کہا تھا کہ ہونگ مینگ کو تیار تو کیا جارہا ہے مگر وہ فونز کے لیے نہیں بلکہ انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) ڈیوائسز جیسے اسمارٹ ٹی وی وغیرہ کے لیے ہوگا۔

تاہم اب رپورٹ میں بتایا جارہا ہے کہ یہ آپریٹنگ سسٹم لوئر اینڈ فونز میں استعمال کیا جائے گا، یہ وہی حکمت عملی ہے جس پر کبھی کبھار سام سنگ کی جانب سے عمل کیا جاتا ہے جس کے ٹیزن آپریٹنگ سسٹم کو بجٹ فونز میں دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم سے لیس فون کی قیمت 2 ہزار یوآن (45 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) تک ہوگ، تاکہ سافٹ وئیر ڈویلپرز کو اپنی جانب متوجہ کیا جاسکے۔

ہواوے کی جانب سے یہ آپریٹنگ سٹم چین میں کمپنی کی ڈویلپر کانفرنس کے دوران 19 اگست کو متعارف کرایا جارہا ہے، یہ سب سے پہلے آنر اسمارٹ ٹی وی سیریز میں دیا جائے گا جو آئندہ ہفتے متعارف کرائی جارہی ہے۔

اسی طرح جس اسمارٹ فون میں اسے دیا جائے گا وہ میٹ 30 سیریز کے ساتھ متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ہونگ مینگ ممکنہ طور پر اینڈرائیڈ سے زیادہ تیز آپریٹنگ سسٹم ہوگا جبکہ کمپنی کی جانب سے گوگل پلے اور ایپل ایپ اسٹور کے مقابلے پر اپنے ایپ اسٹور کی تیاری پر کام ہورہا ہے۔

دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کیمرے والا فون

دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس اسمارٹ فون آئندہ ہفتے متعارف کرایا جارہا ہے۔

چینی کمپنی رئیل می نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 اگست کو 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس کواڈ کیمرا فون 8 اگست کو متعارف کرا رہی ہے۔

اپنے ایک ٹوئیٹ میں کمپنی نے اسے دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل کواڈ کیمرا ٹیکنالوجی فون قرار دیا اور یہ ڈیوائس سب سے پہلے بھارت میں پیش کی جائے گی۔

اس فون میں کمپنی کی جانب سے سام سنگ کے 64 میگا پکسل آئی ایس او سیل جی ڈبلیو 1 سنسر استعمال کیا جائے گا جو کہ رواں سال مئی میں پیش کیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سام سنگ نے اب تک یہ سنسر اپنے کسی فون میں استعمال نہیں کیا بلکہ یہ اعزاز چینی کمپنی کے حصے میں آنے والا ہے۔

اس فون کی دیگر تفصیلات تو معلوم نہیں مگر یہ تو واضح ہے کہ اس کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ دیا جارہا ہے۔

اس سے پہلے شیاﺅمی کی ذیلی شاخ ریڈمی نے بھی گزشتہ ماہ بہت جلد 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس فون کو جلد متعارف کرانے کا عندیہ دیا تھا تاہم کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تھا۔

ان دونوں کمپنیوں کے درمیان بجٹ اسمارٹ فونز کی تیاری کے حوالے سے مسابقت پائی جاتی ہے اور اب یہی دونوں کمپنیاں 64 میگا پکسل کیمرے والے فون متعارف کرانے والی ہیں۔

اس سے قبل شیاﺅمی اور ہواوے نے دنیا کے پہلے 48 میگا پکسل کیمرے والے فونز متعارف کرائے تھے۔

‘ٹک ٹاک’ پر پابندی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

لاہور کے ایک وکیل نے ملک میں مبینہ طور پر فحاشی اور پورنوگرافی کو فروغ دینے کا باعث بننے والی سوشل میڈیا ویڈیو ایپ ‘ٹک ٹاک’ پر پابندی کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرلیا۔

ایڈووکیٹ ندیم سورو نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا کہ ‘ٹک ٹاک حالیہ دور کا بہت بڑا فتنہ ہے، یہ نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے’۔

درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں وفاقی وزارت قانون، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ ایپ چائینیز کمپنی نے بنائی ہے اور اسے گزشتہ سال دنیا بھر میں استعمال کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

وکیل نے استدعا کی کہ مذکورہ ایپ کے باعث ملک میں منفی معاشرتی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کے علاوہ یہ وقت، توانائی اور رقم کا زیاں ہے اور اس سے فحاشی پھیل رہی ہے جبکہ یہ ایپ ہراساں اور بلیک میل کرنے کے ذرائع کے طور پر بھی استعمال ہورہی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ ایپ پر اس کے نامناسب مواد، پورنوگرافی اور لوگوں کا مزاق اٹھانے کے باعث بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں پابندی عائد ہے۔

انہوں نے استدعا کی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں رہنے والے مسلمان شہریوں کی زندگیوں کو اسلام کے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد بلیک میلنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں نے خفیہ طور پر ویڈیوز بنائیں اور بعد ازاں انہیں ٹک ٹاک پر وائرل کردیا گیا۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ دوست کی جانب سے کلاس روم میں ڈانس کی ویڈیو ریکارڈ کیے جانے اور بعد ازاں یہ ویڈیو مذکورہ ایپ پر وائرل ہونے کے بعد ایک لڑکی نے اہل خانہ کے رد عمل کے خوف سے خود کشی کرلی تھی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسے مزید واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت فوری اور لازمی طور پر ٹک ٹاک ایپ پر پابندی عائد کرے۔

وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ فریقین کو حکم دیں کہ پاکستان میں ثقافت کو نقصان پہنچانے اور پورنوگرافی کی حوصلہ افزائی کرنے پر ٹک ٹاک پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ وزارت قانون کو ہدایت دے کہ ملک میں بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق قانون سازی کے لیے اقدامات کریں، انہوں نے درخواست کی کہ پیمرا کو حکم دیا جائے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹک ٹاک پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز ٹی وی چینلز پر نہ نشر کی جائیں۔

vچین میں طیاروں کو ’مکمل اسٹیلتھ‘ بنانے والی ’میٹا ممبرین‘ تیار

بیجنگ: چینی ماہرین نے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے ایسا اچھوتا مادّہ بنالیا ہے جسے جھلی کی طرح کسی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز کی بیرونی سطح پر چڑھا دیا جائے تو وہ ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل ہوجائے گا۔

صوبہ سیچوان میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرونکس میں گزشتہ کئی سال سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو جدید تر بنانے پر کام ہورہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ پیش رفت میں پروفیسر لوو ژیانگانگ اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کم خرچ اور ہلکا پھلکا مادہ بنالیا ہے جو ہر قسم کی ریڈار لہریں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسے بہت آسانی سے بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جاسکتا ہے۔

ویب سائٹ ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کے مطابق، اس مادّے پر مشتمل خاص جھلی یعنی ’’میٹا ممبرین‘‘ (meta membrane) کو اگر کسی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز پر چڑھا دیا جائے تو وہ کسی بھی طرح کی ریڈار لہریں جذب کرلے گا اور یوں کسی بھی قسم کے ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہے گا۔

واضح رہے کہ اب تک طیاروں کو اسٹیلتھ بنانے کے لیے جتنے بھی خصوصی مادّے تیار کیے گئے ہیں، وہ ایک طرف تو بہت مہنگے اور وزنی ہیں تو دوسری جانب وہ ایک محدود فریکوئنسی والی ریڈار لہریں ہی جذب کرسکتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی ریڈار بہت بلند (ہائی) فریکوئنسی پر کام کررہا ہو یا طیاروں پر نظر رکھنے کے لیے بیک وقت کئی طرح کی فریکوئنسی استعمال کررہا ہو تو جدید ترین اسٹیلتھ طیارے پر کی گئی کوٹنگ سے بھی اس ریڈار کی لہریں پلٹ کر واپس آئیں گی اور یوں وہ طیارہ ریڈار (اسٹیلتھ ہونے کے باوجود) اس ریڈار کی اسکرین پر بہ آسانی دکھائی دے جائے گا۔

چینی ماہرین نے جو میٹا ممبرین تیار کی ہے، وہ 0.3 گیگا ہرٹز سے 40 گیگا ہرٹز تک کی ریڈار لہروں کا بیشتر حصہ جذب کرلیتی ہے؛ اور یوں وہ اپنے اندر ملفوف کسی بھی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز کو جدید سے جدید ریڈار کی نظروں سے بھی اوجھل کردیتی ہے۔

اس کامیابی کے بعد چینی ماہرین مذکورہ میٹا ممبرین کی زیادہ مقدار میں پیداوار کی تیاری کررہے ہیں جس کے بعد اسے بطورِ خاص لڑاکا طیاروں پر آزمایا جائے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ ممبرین شدید دباؤ اور درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔

فیس بک نے سعودی حکومت کی حمایت کرنے والے 350 اکاؤنٹس معطل کردیے

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے پہلی مرتبہ سعودی عرب کی حکومت کی مبینہ حمایت کرنے والے 350 جعلی اکاؤنٹس کو معطل کردیا۔

اس ایکشن سے قبل فیس بک نے سعودی عرب کی مبینہ مخالفت کے لیے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے چلائے جانے والے جعلی فیس بک اکاؤنٹس بند کیے تھے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فیس بک انتظامیہ نے یکم اگست کو فیس بک پر سعودی عرب کی حکومت کا پروپیگنڈا عام کرنے اور مبینہ طور پر علاقائی حریفوں کے خلاف استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کو معطل کردیا۔

فیس بک انتظامیہ کے مطابق جن اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا وہ مبینہ طور پر سعودی حکومت سے منسلک افراد چلا رہے تھے۔

جن اکاؤنٹس اور پیجز کو معطل کیا گیا ہے ان پر مبینہ طور پر سعودی حکومت کی حمایت اور ان کے لیے سیاسی پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔

مجموعی طور پر ان 350 اکاؤنٹس کو 14 لاکھ افراد فالو کر رہے تھے۔

فیس بک نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے کس طرح کے سعودی حکومت کے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جاتی تھی اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے سعودی عرب کے کن علاقائی حریف ممالک کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

تاہم دوسری جانب سعودی حکومت نے معطل کیے گئے اکاؤنٹس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

سعودی حکومت کی جانب سے رائٹرز کو بھجوائے گئے بیان میں کہا گیا کہ فیس بک کی جانب سے معطل کیے گئے اکاؤنٹس کا حکومت یا اس سے منسلک افراد سے کوئی تعلق نہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈا سے بھی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ فیس بک نے رواں برس فروری اور مارچ کے درمیان ایران کے 783 مشکوک اور جعلی اکاؤنٹس کو معطل کردیا تھا۔

ان اکاؤنٹس کو سعودی حکومت مخالف مواد کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔

ایران کے بعد اب مبینہ طور پر سعودی حکومت کے حمایتی اکاؤنٹس کو بھی معطل کیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے بھی جعلی اور پروپیگنڈا کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹس کو معطل کیا جائے گا۔

مشرق وسطی ممالک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران فیس بک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر خاص پروپیگنڈا کو پھیلانے اور حریف ممالک مہم چلائے جانے میں اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر عرب اسپرنگ کے بعد مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کئی ممالک ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پھیلانے کے تحت درجنوں اکاؤنٹس چلا رہے ہیں۔

Google Analytics Alternative