سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

سام سنگ کے 2 مڈرینج فونز پاکستان میں متعارف

سام سنگ نے رواں ماہ اپنا فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 پاکستان میں متعارف کرایا تھا اور گزشتہ دنوں خاموشی سے 2 مڈرینج ڈیوائسز بھی ملک میں فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہیں۔

سام سنگ نے گلیکسی اے 30 اور اے 50 اسمارٹ فونز پاکستان میں متعارف کرادیئے ہیں، جن کو سب سے پہلے فروری میں بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا۔

گلیکسی اے 30 اور اے 50 اسمارٹ فونز میں 6.4 انچ کا سپر امولیڈ انفٹنی یو ڈسپلے دیا گیا ہے، جن میں نیا پرایزم ڈیزائن دیا گیا ہے جو کہ تھری ڈی راﺅنڈ ایجز سے لیس ہے۔

دونوں میں فرق کیمرے سے شروع ہوتا ہے۔

اے 50 میں فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 25، 5 اور 8 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

اس کے مقابلے میں اے 30 میں فرنٹ پر 16 میگا پکسل جبکہ بیک پر 16 اور 5 میگا پکسل کا ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

اے 50 میں 4 سے 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے آپشنز موجود ہیں جبکہ اے 30 تھری سے 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، دونوں کی اسٹوریج ایس ڈی کارڈ سے بڑھائی جاسکتی ہے۔

اے 50 میں سام سنگ نے گلیکسی ایس 10 کا ایک فیچر فنگرپرنٹ سنسر کی شکل میں دیا ہے جو کہ اسکرین کے اندر نصب ہے۔

اسی طرح کواڈ کور ایکسینوس 9610 پراسیسر اور 4000 ایم اے ایچ بیٹری بھی اس فون کا حصہ ہے جس کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

اے 30 میں ایکسینوس 7904 پراسیسر اور 4000 ایم اے ایچ بیٹری فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے، تاہم اس میں فنگرپرنٹ سنسر فون کے بیک پر موجود ہے۔

یہ دونوں فونز پاکستان میں تین رنگوں بلیو، وائٹ اور بلیک میں دستیاب ہوں گے۔

گلیکسی اے 30 کی قیمت 40 ہزار جبکہ گلیکسی اے 50 کی 52 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

آن لائن ہراساں کرنے کے خلاف فیس بک کی کوششوں میں اضافہ

کراچی: معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان سمیت 5 ممالک کے ماہرین کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے بغیر اجازت کے نامناسب تصاویر اپ لوڈ یا شیئر کرنے والے صارفین کو بلاک کے نئے اقدامات کا اعلان کردیا۔

فیس بک کے ایک نمائندے نے ڈان کو بتایا کہ ’کسی کی نامناسب تصاویر اس کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا نقصان دہ ہے، ہم ان کی مدد کے لیے کچھ اور کرنا چاہتے ہیں‘۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی جانب سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جب ڈیٹا کا غلط استعمال اور آن لائن ہراساں کرنے کے کیسز کی بات کی جائے تو فیس بک اور واٹس ایپ کا بدترین ٹریک ریکارڈ ہے۔اس بارے میں متاثرہ فرد کی مدد کے حوالے سے فیس بک عہدیدار کا کہنا تھا کہ متاثرین کے ساتھ مشاورت کے بعد معاون تنظیموں اور ماہرین نے بغیر اجازت کے نامناسب تصاویر کی شیئرنگ اور اس کا جائزہ لینے کی ٹولز کو بہتر کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹنگ کی خلاف ورزی

سب سے پہلے پلیٹ فارم کی جانب سے پتہ لگانے والی ایک نئی ٹیکنالوجی کا اعلان کیا گیا، جو فیس بک اور انسٹاگرام پر بغیر اجازت کے شیئر ہونے والی تقریباً عریاں تصاویر یا ویڈیو کا پتہ لگا سکے گی۔

واضح رہے کہ اس وقت فیس بک اور انسٹاگرام پر موجود صارفین خود سے نامنساب تصاویر کو رپورٹ کرسکتے ہیں۔

فیس بک کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے رپورٹ کرنے سے قبل ہم اس مواد کو تلاش کرسکتے ہیں، یہ دو وجوہات کے لیے اہم ہے ، اکثر متاثرین بدلے سے ڈرتے ہیں لہٰذا وہ خود سے اس مواد کو رپورٹ نہیں کرتے یا وہ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ مواد کو شیئر کیا گیا‘۔

اس طریقہ کار کے کام کرنے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فیسل بک کے نمائندے کا کہنا تھاکہ ٹیکنالوجی کی جانب سے تلاش کیے جانے مواد کا خصوصی تربیت یافتہ ٹیم کے اراکین کی جانب سے جائزہ لیا جائے گا اور اگر تصویر یا ویڈیوز پلیٹ فارم کے کمیونٹی اسٹینڈرڈ کی خلاف وزری کرتی ہوئی تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ تر کیسز میں ہم بغیر اجازت کے نامناسب مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹ کو غیر فعال بھی کردیں گے اور اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ ہم نے غلطی کی ہے تو ہم اپیل کی بھی پیش کش کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ فیس بک کو نامناسب پوسٹس کے طویل عرصے تک پلیٹ فارم پر رہنے، ان کے معیار پر پورا نہ اترنے والے مواد کو نہ ہٹانے اور کبھی کبھار ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی کرنے پر سخت تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

اس تنقید پر جواب دیتے ہوئے فیس بک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ٹیکنالوجی 2 چیزوں کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتی ہے، آیا شیئر کی گئی تصاویر یا ویڈیو کا مواد عریاں یا نیم عریاں ہوں، یا پھر تصویر یا ویڈیو انتقامی انداز میں شیئر کی گئی ہو، یہ ٹیکنالوجی زبان کے پیٹرن اور (کیپشن میں) مخصوص الفاظ کی نشاندہی کرے گی کہ آیا شیئر کی گئی تصویر یا ویڈیو بغیر اجازت کے تو نہیں۔

پاکستان کے معاملے میں عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پلیٹ فارم کی جانب سے اردو میں جملوں اور ایسے الفاظ کی فہرست شامل کی گئی ہے، اس طرح کے مواد کا جائزہ لینے والا کمیوٹی معیار کی خلاف ورزی پر کسی بھی مواد کو ہٹا سکتا ہے۔

متاثرین کے لیے محفوظ جگہ

اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ فیس بک کا کہنا تھا کہ وہ ’میری رضا مندی کے بغیر‘ کے نام سے ایک نیا حب بھی شروع کرے گا، جہاں متاثرین ان کی مدد کے لیے موجود تنظیموں اور وسائل کو تلاش کرسکتے ہیں، ساتھ ہی پلیٹ فارم سے مواد ہٹانے اور اسے دوبارہ شیئر ہونے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی اٹھائے جاسکیں گے۔

اس تناظر میں رپورٹنگ کو مزید ثقافت اور متاثرین کے وسائل سے متعلق بنانے کے لیے فیس بک کی جانب سے متاثری کی مدد کرنے والی تنظیموں ریوینج پورن ہیلپ لائن (برطانیہ)، سائبر سول رائٹس انیشی ایٹو (امریکا)، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (پاکستان) سافرنیٹ (برازیل) اور پروفیسر لی جفی یون (جنوبی کوریا) سے اشتراک کیا ہے۔

اسلحہ ساز کمپنی نے اُڑتی ہوئی کلاشنکوف کی تصاویر جاری کردیں

ماسکو: روسی اسلحہ ساز کمپنی نے فضاء میں اُڑنے والی ’کلاشنکوف اے کے-47 ‘ جیسی ساخت رکھنے والے ڈرون کی تصاویر جاری کردی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فروری 2018 میں پہلی بار روس کے خفیہ ادارے کے ایک افسر نے انکشاف کیا تھا کہ ایک ایسا جاسوسی ڈرون تیار کیا جا رہا ہے جس کی شکل ہوبہو معروف روسی کلاشنکوف اے کے-47  کی طرح ہے اور جو فضاء میں اڑتی ہوئی کلاشنکوف لگتی ہے۔

روسی کمپنی الماز اینٹے نے ڈرون اے کے-47 کی تصاویر جاری کردی ہیں، طیارے کی طرح اڑتے ہوئے یہ ڈرون اے کے-47 لگتے ہیں۔ یہ ڈرون طیارے پروں سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن فضاء میں توازن برقرار رکھنے کے لیے دو بلب نصب کیے جائیں گے۔

klashankav 3

یہ ڈرون نا صرف کلاشنکوف کی شکل سے مشابہت رکھتے ہیں بلکہ اس میں کیلے کی شکل کا میگزین بھی لگا ہوا ہے جس میں 30 راؤنڈ سما سکتے ہیں، اس شکل کا میگزین کلاشنکوف رائفل میں بھی ہوتا ہے۔ اپنی مخصوص ساخت کے باوجود یہ ڈرون فضاء میں تیرتے ہوئے اپنے شکار کو بآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

روسی اسلحہ ساز کمپنیاں جہاں جدید جنگی ساز و سامان بنانے میں مہارت رکھتی ہیں وہیں خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جاسوی ڈرون کی تیاری میں بھی شہرت رکھتی ہیں۔ حال ہی میں زیر آب ڈرون کی ایجاد ایسی ہی چونکا دینے والی تخلیق ہے اور اب کلاشنکوف ڈرون طیارہ ایک نیا شاہکار ہے۔

Klashinkav 2

واضح رہے کہ 80 کی دہائی میں سویت یونین افغان وار کے دوران روسی رائفل کلاشنکوف نے عالمگیر شہرت حاصل کی تھی اور جدید اسلحے  میں یہ شاید واحد رائفل تھی جس کا نام زبان زد عام تھا۔ اس رائفل کا نام اس کے تخلیق کار میخائل کلاشنکوف پر رکھا گیا تھا۔

مکھیوں اور مچھلیوں کے درمیان گفتگو کرانے والے روبوٹ کا کامیاب تجربہ

لندن: ایک عجیب و غریب تجربے میں روبوٹس کی مدد سے دو بالکل مختلف اقسام کے جانوروں کا باہم رابطہ کرایا گیا ہے جن میں سے ایک آبی مخلوق یعنی مچھلی ہے تو دوسری اڑنے والا کیڑا یعنی مکھی ہے۔

مکھیاں اور مچھلیاں آپس میں رابطہ نہیں کرتیں لیکن اگر وہ رابطہ کربھی لیں تو آخر وہ کیا باتیں کریں گی۔ اسی بات کو جاننے کے لیے چار یورپی جامعات نے اے ایس ایس آئی ایس آئی بی ایف منصوبہ شروع کیا ہے اس تجربے میں آسٹریا کی مچھلیوں نے اور سوئزرلینڈ میں موجود مکھیوں نے روبوٹ کے ذریعے آپس میں رابطہ کروایا گیا ہے۔

تجربے میں دونوں اقسام کے جانوروں نے سگنلوں کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجے اورآخر میں ایک دوسرے کے فیصلوں میں مدد فراہم کرنا شروع کردی۔ اس حیرت انگیز تحقیق کی تفصیلات سائنس روبوٹکس میں شائع ہوئی ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والے موبائل روبوٹس گروپ (موبوٹس) سے وابستہ سائنسداں نے بتایا کہ انہوں نے دو مختلف جانوروں کے درمیان ان کی حرکات سکنات کی معلومات کا تبادلہ کرایا ہے جو ان کے رویوں پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔

پہلے تجربے میں ایک جاسوس روبوٹ مچھلی کو اس جیسی مچھلیوں کے غول میں شامل کیا گیا جس نے تمام مچھلیوں کو اپنے انداز میں تیرنے پر مجبور کیا یعنی اپنے اشارے پر تیرایا۔

اس کے بعد ماہرین نے اس روبوٹ مچھلی اور خود تمام مچھلیوں کو آسٹریا میں ایک ایسی تجربہ گاہ سے جوڑا گیا جہاں ایک پلیٹ فارم پر شہد کی مکھیاں روبوٹ ٹرمینلز کے آس پاس بیٹھی تھیں۔ اب ہر گروپ کے روبوٹ نے اپنے اپنے لحاظ سے سگنل خارج کئے مچھلیوں میں موجود روبوٹ نے اشکال، رنگ اور دھاری دار پٹیوں کے سگنل دئیے جو دم کی حرکت، تھرتھراہٹ اور دیگر حرکات سے وابستہ تھے۔ جبکہ مکھیوں کے پاس روبوٹ نے تھرتھراہٹ، درجہ حرارت اور ہوائی حرکیات کے سگنل دئیے۔

اب دونوں اقسام کے جانوروں نے سگنل پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ۔ مچھلیاں ایک سمت میں تیرنے لگیں تو مکھیاں صرف ٹرمینل پر جمع ہوکر گھومنے لگیں۔ اس طرح روبوٹ نے دو گروہوں کی حرکیات ریکارڈ کیں، معلومات کا باہم تبادلہ کرایا اور اسے جانوروں کی سمجھ میں آنے والے سگنلوں میں تبدیل کردیا۔

اس تجربے میں 700 کلومیٹر دور موجود دو مختلف اقسام کے جانوروں کے درمیان روبوٹ سے سگنل کا تبادلہ کرایا گیا۔ ماہرین نے غور سے نوٹ کیا تو مچھلی مکھی سے متاثر ہوئی اور مکھیاں مچھلیوں سے متاثر ہونے لگیں اور ایک دوسرے کی خصوصیات بھی سیکھنے لگیں

فیس بک صارفین کے پاسورڈز تک کمپنی کے ملازمین کو رسائی کا انکشاف

اگر تو آپ فیس بک استعمال کرنا پسند کرتے ہیں تو اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے پاسورڈ فوری بدل لیں۔

درحقیقت فیس بک کے کروڑوں صارفین کے پاسورڈ تک اس کمپنی کے ملازمین کو رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

انٹرنیٹ سیکیورٹی محقق برائن کریبس نے پاسورڈ کے تحفظ پر فیس بک کی ناکامی کا انکشاف کیا جس سے 60 کروڑ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فیس بک ذرائع نے انہیں اس سیکیورٹی ناکامی کے بارے میں بتایا جس سے ڈویلپرز کو ایسی اپلیکیشنز بنانے کا موقع ملا جو کہ پاسورڈ کو انکرپٹ کیے بغیر لاگ ان اور محفوظ کرتیں ہیں۔

اس انکشاف کے بعد فیس بک نے بھی اس کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نیٹ ورک میں محفوظ پاسورڈ کے اس مسئلے کو دور کردیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق اس بارے میں فیس بک کے انجنیئر اسکاٹ رینفرو نے بتایا کہ اس بات میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس خامی کا ‘کوئی غلط استعمال’ نہیں ہوا۔

کمپنی کی جانب جاری بیان کے مطابق یہ مسئلہ جنوری میں معمول کے سیکیورٹی چیک اپ کے دوران سامنے آیا اور تحقیقات سے معلوم ہوا اس سے فیس بک لائٹ ایپ کے صارفین زیادہ متاثر ہوئے، جو ان ممالک میں زیادہ استعمال ہوتی ہے جہاں انٹرنیٹ اسپیڈ ناقص ہوتی ہے۔

کمپنی اب ان تمام کروڑوں صارفین کو اس بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہے جن میں لاکھوں انسٹاگرام صارفین بھی شامل ہیں۔

مگر کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ صارفین کو پاسورڈ ری سیٹ کرنے کا اس وقت ہی کہے گی جب اسکی ٹاسک فورس یہ دریافت کرے گی کہ صارفین کے لاگ ان تفصیلات کا غلط استعمال ہوا ہے۔

جانوروں کی طرح انسانوں میں بھی مقناطیسی میدان کو سمجھنے کی صلاحیت موجود

بیجنگ: بعض بیکٹیریا اور بالخصوص پرندے زمینی مقناطیسی میدان کا احساس کرتے ہوئے اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں مگر اب معلوم ہوا ہے کہ خود حضرتِ انسان کا دماغ بھی مقناطیسی امواج کو محسوس کرسکتا ہے ماہرین نے اس عمل کو ’مقنا احساس‘ یا ’میگنیٹو ریسپشن‘ کا نام دیا ہے۔

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان بھی مقناطیس کو بھانپنے کی چھٹی حِس رکھتا ہے۔ امریکا اور چین کے ماہرین نے بعض انسانی رضا کاروں کو تجربہ گاہ میں طاقتور مقناطیسی میدان میں لاکھڑا کیا اور معلوم کیا کہ اگر مقناطیسی میدان کی الٹ پلٹ کی جائے تو انسانی دماغ کی بعض امواج اسے محسوس کرسکتی ہیں۔

یہ تحقیق ای نیورو نامی تحقیقی جرنل میں 18 مارچ کو شائع ہوئی ہے لیکن یہ جاننا باقی ہے کہ انسان اس حس سے کس طرح فائدہ اٹھاتا ہے۔ پہلے تو یہ سمجھیے کہ ہماری زمین کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جو بہت کارآمد ہے۔ ایک جانب تو طویل فاصلوں تک اڑنے والے پرندے اپنی سمت معلوم کرتے ہیں تو بعض مچھلیاں بھی اسے محسوس کرکے اپنی راہ لیتی ہیں لیکن انسانوں میں اسے محسوس کرنے کی خاصیت پہلی مرتبہ دریافت ہوئی ہے۔

بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر کین ژائی کہتے ہیں کہ اس دریافت پر وہ اتنے حیران ہوئے کہ پہلے تو انہیں اس پر یقین ہی نہیں آیا۔ ان کے مطابق اس سے انسانوں میں مقناطیسی میدان کے احساس کی راہیں کھلیں گی اور مزید تحقیق سے خود انسانی دماغ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

تجرباتی طور پر 26 صحت مند افراد کو ایک خاموش اور تاریک کمرے میں بٹھایا گیا اور ان کی آنکھیں بند کروائی گئیں۔ کمرے میں جابجا مقناطیسی میدان بنانے والی برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹ) کوائلز لگائی گئی تھیں جو عین ارضی مقناطیسی نظام کی نقالی کررہی تھیں۔ اس سے بننے والی برقی میدان کی سمت بار بار تبدیل کی گئی اور اس پورے عمل میں شرکا کو ای ای جی ٹوپیاں پہنا کر دماغی سرگرمی کو نوٹ کیا جاتا رہا۔

ماہرین نے چیمبر کی حالتِ سکون اور مقناطیسی میدان گھمانے کے دوران لی جانے والی ای ای جی کا باریکی سے موازنہ کیا۔ ٹیم میں شامل کیل ٹیک کے دماغی ماہر نے دماغ کی ایلفا امواج کا بھی جائزہ لیا۔ جب کوئی شخص حالت سکون میں ہوتا ہے تو ایلفا امواج زیادہ پیدا ہوتی ہے لیکن جونہی کوئی آواز سنتا ہے اور کسی کو چھوتا ہے تو ایلفا امواج کمزور پڑتی ہیں اور بسا اوقات غائب بھی ہوجاتی ہیں۔

عین اسی طرح مقناطیسی میدان کو گھمانے اور پلٹانے سے لوگوں کے دماغ میں ایلفا امواج میں کمی بیشی دیکھی گئی۔ بعض مقامات پر یہ کمی ان حقیقی معاملات میں کم ہونے والی ایلفا سرگرمیوں سے بھی تین گنا زائد تھیں جس میں لوگ کسی کو چھوتے، کچھ سونگھتے اور کچھ سنتے ہیں۔

اس تحقیق نے خود انسانی دماغ کے متعلق کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً یہ کہ دماغ کا کونسا حصہ یا خلیات (سیلز) ہیں جو مقناطیسی عمل کو محسوس کررہے ہیں۔ دوم دماغ کا کونسا حصہ انہیں پروسیس کرتا ہے لیکن ان سب کے باوجود آج ہم جان گئے ہیں کہ انسانی دماغ مقناطیسی میدان سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔

سام سنگ کے سب سے بہتر اور سب سے مہنگے فون میں خرابی

جنوبی کوریا کی کمپنی ’سام سنگ‘ نے 21 فروری کو ایس سیریز کی تین نئے فون متعارف کرائے تھے، جنہیں کمپنی کے سب سے بہترین فون قرار دیا گیا تھا۔

سام سنگ نے بیک وقت گلیکسی ایس 10، گلیکسی ایس 10 پلس اور گلیکسی ایس 10 ای متعارف کرائے تھے۔

اگرچہ کچھ فیچرز میں گلیکسی ایس 10 پلس اچھا تھا، تاہم ان تینوں فونز میں سب سے بہترین فون گلیکسی ایس 10 کو قرار دیا گیا تھا۔

گلیکسی ایس 10 ای کو باقی دونوں فونز کے مقابلے میں سستا اور قدرے درمیانہ موبائل قرار دیا گیا تھا۔

تاہم اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کمپنی کے سب سے بہترین اور مہنگے ترین فونز قرار دیے گئے ’گلیکسی ایس 10‘ میں ایک بڑی خرابی ہے، جو صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’سام موبائل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا کے چند ممالک کے کچھ صارفین نے گلیکسی ایس 10 کی بیٹری جلد ختم ہونے کی شکایت کی جو دراصل مختلف وجوہات کی وجہ سے جلد ختم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شکایت کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ گلیکسی ایس 10 بعض اوقات جیب میں اندر رکھنے وقت خود بخود آن ہوجاتا ہے اور اس کی اسکرین روشن ہوجاتی ہے۔

صارفین نے شکایت کی کہ موبائل کو لاک کیے جانے کے باوجود چلتے وقت خود بخود موبائل کی اسکرین آن ہوجاتی ہے، جو بیٹری کے خاتمے کا سبب بن رہی ہے۔

یہی نہیں کچھ صارفین نے یہ شکایت بھی کی کہ بعض مرتبہ گلیکسی ایس 10 کا فنگر پرنٹ فیچر بھی کچھ دیر کے لیے کام چھوڑ دیتا ہے۔

صارفین کے مطابق گلیکسی ایس 10 کا فنگر پرنٹ فیچر بعض اوقات اس وقت کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جب چلتے وقت موبائل کا اسکرین جیب کے اندر خود بخود آن ہوجاتا ہے اور وہ موبائل نکال کر چیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فنگر پرنٹ فیچر کام نہیں کرتا۔

صارفین کی شکایت سامنے آنے کے بعد کمپنی نے تاحال کوئی وضاحت نہیں کی۔رز

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سام سنگ کے کسی فون میں خرابی کی شکایت سامنے آئی ہو، اس سے قبل بھی کمپنی کے بعض فونز میں خرابی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

سام سنگ کے موبائلز میں زیادہ تر بیٹری جلد ختم ہونے، اسکرین کے از خود آن اور آف ہونے اور ہینگ ہوجانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ سام سنگ ایس 10 کمپنی کا کا پہلا فون ہے جس میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر نصب کیا گیا ہے اور دیگر کمپنیوں کی ایسی ڈیوائسز کے مقابلے میں پہلی بار اس میں الٹاسونک ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

6.1 انچ اسکرین والے اس فون میں بھی ہول پنچ کیمرا دیا گیا ہے جبکہ اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج، جس میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ اضافہ ممکن ہے، 3400 ایم اے ایچ بیٹری، ریورس وائرلیس چارجنگ جس سے دیگر ڈیوائسز کو بھی چارج کرنا ممکن ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے جب میں سے ایک 12 میگا پکسل وائیڈ اینگل اور دوسرا 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس ہے جو بالکل نوٹ نائن جیسا ہے مگر تیسرا کیمرا سپر وائیڈ اینگل 16 میگاپکسل شوٹر ہے جس میں 123 ڈگری فیلڈ آف ویو بالکل انسانی جیسا موجود ہے۔

فرنٹ اور بیک دونوں کیمروں سے فور کے ویڈیو ریکارڈ کی جاسکتی ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی موبائل ڈیوائس ہے جو کہ ایچ ڈی آر 10 پلس اسٹینڈرڈ ویڈیو شوٹ کرسکتی ہے۔

اس کی قیمت 899.99 ڈالرز (ایک لاکھ 25 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہے۔

گلیکسی ایس 10 کو سب سے اچھا فون قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: اے پی
گلیکسی ایس 10 کو سب سے اچھا فون قرار دیا جا رہا ہے—فوٹو: اے پی

گوگل کی جانب سے ویڈیو گیم اسٹریمنگ کا باضابطہ اعلان

سان فرانسسكو: دنیائے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے باضابطہ طور پر ویڈیو گیم اسٹریمنگ سروس کا اعلان کردیا۔ اس سروس کے لیے خصوصی گیم کنسول یا تیز رفتار کمپیوٹرز کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ عام لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون پر یہ گیم کھیلے جاسکیں گے۔

گوگل نے یہ بھی کہا ہے کہ اسٹریمنگ کی تمام تر بھاری پروسیسنگ کا کام اس کے سرور پر ہوگا اور یوں عام افراد بہت سکون سے گیم کھیل سکیں گے۔ گیمنگ پلیٹ فارم کے ذریعے سروس میں موجود کوئی بھی گیم فوری طور پر کھیلا جاسکے گا اور جس کے لیے گیم خریدنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

سان فرانسسکو میں گیم ڈویلپمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوگل سے وابستہ فِل ہیرسن نے کہا کہ ’اسٹیڈٰیا (STADIA)فوری طور پر گیم تک رسائی‘ کو یقینی بناتی ہے جو ایک کلاؤڈ سروس ہے، اس کے گرافک کی پروسیسنگ اور رینڈرنگ کا سارا عمل گوگل ڈیٹا مراکز پر ہوتا ہے اگرانٹرنیٹ رابطہ اچھا ہو تو گیم ہموار انداز میں جاری رہتا ہے۔

اسٹیڈیا سروس کے ذریعے کھلاڑی ایک گیم کمپیوٹر پر شروع کرکے اسے لیپ ٹاپ یا پھر اسمارٹ فون پر بھی جاری رکھ سکتا ہے اور گیمنگ کا عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ گیم کو براؤزر میں بھی کھیلا جاسکتا ہے۔ اگرچہ گوگل گیم کنٹرولر بھی لانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم اسے کسی بھی یو ایس بی گیم کنٹرولر سے کھیلا جاسکتا ہے اور ایک بٹن دبا کر اسے یوٹیوب پر بھی شیئر کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گوگل کے اس اعلان کو ماہرین نے ایک ایسا اقدام قرار دیا ہے جس سے کمپیوٹر گیمز کی دنیا میں انقلاب آسکتا ہے۔

Google Analytics Alternative