سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

امریکی عارضی لائسنس غیرمنصفانہ سلوک کا ازالہ نہیں کرتا، ہواوے

امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے پر عائد پابندیوں کو مزید 3 ماہ کے لیے التوا میں ڈالتے ہوئے عارضی لائسنس جاری کردیا ہے۔

چینی کمپنی کو پہلے مئی اور پھر اگست میں 3، تین ماہ کے لیے عارضی لائسنسز جاری کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں امریکا نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا جس کے بعد امریکی کمپنیوں کے لیے س کے ساتھ کاروبار کے لیے خصوصی حکومتی لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا گیا۔

امریکی کامرس سیکرٹری ولبر روس نے تیسری بار عارضی لائسنس کے اجرا پر ایک بیان میں کہا ‘اس عارضی لائسنس سے امریکا کے دیہی علاقوں میں کام کرنے والے امریکی آپریٹرز اپنے صارفین کو سروسز کی فراہمی جاری رکھ سکیں گے، محکمے کی جانب سے حساس ٹیکنالوجی کی نگرانی رکھی جائے گی تاکہ یقینی بنایا جاسکے کہ اس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہوسکے’۔

عارضی لائسنس کے اجرا پر ہواوے نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس استثنیٰ سے اس کے کاروبار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور یہ حقیقت نہیں بدلتی ‘ہواوے کے ساتھ امریکا کی جانب سے غیرمنصفانہ سلوک کیا جارہا ہے’۔

بیان کے مطابق ‘ہم عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جانا ہواوے کے مقابلے میں امریکا کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے، اس سے وہ امریکی کمپنیاں مالیاتی طور پر زیادہ متاثر ہورہی ہیں’۔

امریکا کی جانب سے 3 ماہ کے اس عارضی لائسنس سے ہواوے کو زیادہ مدد نہیں ملتی کیونکہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں وہ نئے فونز میں گوگل ایپس اور سروسز سے محروم ہوچکی ہے اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا بھی اوپن سورس ورژن استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کا تیار کردہ ہارمونی آپریٹنگ سسٹم فی الحال اسمارٹ فونز کے لیے تیار نہیں اور اسے چند ماہ مزید درکار ہیں تاکہ وہ گوگل سروسز کے مقابلے پر آسکے۔

ہواوے کے سنیئر نائب صدر ونسینٹ پانگ نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگلے 6 سے 9 ماہ میں ہارمونی آپریٹنگ سسٹم کو اسمارٹ فونز میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ‘ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے، ہم پہلی ہی ایک فلیگ شپ فون میں گوگل سروسز مس کرچکے ہیں (یہ میٹ 30 اسمارٹ فون کا حوالہ تھا، جس میں اوپن سورس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم دیا گیا جو گوگل پلے اسٹور سمیت دیگر گوگل سروسز اور ایپس سے محروم ہے)، ہارمونی اینڈرائیڈ کا متبادل نہیں بلکہ اگلی نسل کا اینڈرائیڈ ہے’۔

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کے فونز کی فروخت میں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، مگر کمپنی کو چین سے باہر بالخصوص یورپ میں مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔

ٹک ٹاک پر امریکی تحفظات بے بنیاد قرار

مقبول سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی اپلیکشن چینی حکومت کے احکامات کی پابند نہیں اور اس حوالے سے امریکی تحفظات بے بنیاد ہیں۔

نیویارک ٹائمز سے ایک انٹرویو کے دوران ٹک ٹاک کے سربراہ ایلکس زو نے کہا کہ اگر چین کے صدر شی جن پنگ خود ذاتی طور پر صارفین کے ڈیٹا حوالے کرنے یا پلیٹ فارم سے مواد ہٹانے کا حکم دیں تو ان کی بات ماننے سے انکار کردیا جائے گا۔

گزشتہ برس سے ٹک ٹاک بہت تیزی سے مقبول ہوئی ہے جسے دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب سے زائد بار ڈاﺅن لوڈ کیا جاچکا ہے اور کئی ماہ تک آئی فون میں مفت ایپ چارٹ میں ٹاپ پر رہی۔

مگر چینی ایپ کی مقبولیت کے نتیجے میں امریکا میں اس کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں اور امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹک ٹاک کی ملکیت رکھنے والی چینی کمپنی بائیٹ ڈانس چینی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک کر امریکی شہریوں کا ڈیٹا حوالے کرسکتی ہے یا چین کی حکمران جماعت کے خلاف مواد کو سنسر کرسکتی ہے۔

اب امریکی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں ایلکس زو نے کہا ‘ٹک ٹاک ڈیٹا صرف کمپنی ہی صارفین کے لیے استعمال کرسکتی ہے’۔

اس ایپ نے تھرڈ پارٹی آڈیٹر، سائبر سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کیں جس نے اس کی ڈیٹا تحفظ کے اقدامات کی تحقیقات کی مگر ڈیٹا شیئرنگ کے شواہد حاصل نہیں کرسکی۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے امریکا میں خود کو ری برانڈ کرنے کے راستے تلاش کیے جارہے ہیں تاکہ چینی ساختہ کمپنی کے حوالے سے تشویش کو کم کیا جاسکے۔

ٹک ٹاک نے اس حوالے سے الگورتھم میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ چینی صارفین کی ویڈیوز دنیا بھر میں دیگر صارفین کے پاس کم نظر آئیں۔

خیال رہے کہ آنے والے مہینوں میں ٹک ٹاک کی مقبولیت میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ اب یہ صارفین کو اس کے ذریعے کمانے کے فیچرز کی بھی آزمائش کررہی ہے۔

بغیر کھڑکی والے طیارے اسکرین پر باہر کا پورا منظر دکھائیں گے

لندن: فضائی سفر کے دوران اکثر و بیشتر مسافروں کے درمیان کھڑکی والی نشست حاصل کرنے پر جھگڑا رہتا ہے اور زیادہ تر مسافر بورڈنگ کے وقت خصوصی طور پر کھڑکی والی نشست کی خواہش کرتے ہیں تاکہ وہ فضائی سفر میں اونچائی سے باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں۔

مسافروں کی شدید خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک برطانوی ٹیکنالوجی فرم نے جدت لاتے ہوئے مستقبل میں طیاروں کو اس طرح ڈیزائن کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس میں پورا طیارہ آسمان کے پینورامک ویو (چاروں طرف پھیلے ہوئے منظر) میں تبدیل ہوجائے گا۔

اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں طیاروں کی کھڑکیاں ختم کردی جائیں گی اور  پورا طیارہ ’او ایل ای ڈی‘ ٹچ اسکرین سے ڈھک دیا جائے گا جس سے ہر نشست ایک قسم کی ’ونڈو سیٹ‘ بن جائے گی۔

یہ ٹچ اسکرینز طیارے کے باہر لگے کیمروں سے منسلک ہوں گی جو باہر کا حقیقی منظر ہر نشست پر پیش کریں گی جب کہ مسافر اپنی مرضی سے ’او ایل ای ڈی‘ پر مناظر  کے بجائے اینٹرٹینمنٹ سسٹم کے ذریعے دیگر پروگرام دیکھ سکیں گے۔

اگر آپ ’’او ایل ای ڈی‘‘ کے بارے میں نہیں جانتے تو بتاتے چلیں کہ یہ ’’آرگینک لائٹ ایمٹنگ ڈایوڈ‘‘ کا مخفف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نامیاتی مرکبات (آرگینک کمپاؤنڈز) پر مشتمل ایک ایسی پتلی فلم ہوتی ہے جس میں سے بجلی گزاری جاتی ہے تو وہ روشنی خارج کرتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ٹیلی ویژن، ٹیبلٹ کمپیوٹرز، موبائل فونز اور کمپیوٹر مانیٹرز میں استعمال ہورہی ہے۔ جب تک یہ طیارے حقیقت میں تیار کیے جائیں گے، امید ہے کہ تب تک اس سے کہیں زیادہ جدید اور بہتر او ایل ای ڈی ڈسپلے مارکیٹ میں آچکے ہوں گے۔

ہواوے کو ایک بار پھر امریکی عارضی ریلیف ملنے کا امکان

امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کو امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے تیسری بار عارضی جنرل لائسنس دیئے جانے کا امکان ہے۔

رواں سال مئی میں ہواوے پر تجارتی پابندیوں کا نفاذ ہوا تھا مگر امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے اس موقع پر چینی کمپنی کو پابندیوں سے 3 ماہ کا استثنیٰ عارضی لائسنس کے اجرا کے ذریعے دیا گیا، تاکہ وہ امریکی کمپنیوں سے کاروبار جاری رکھ سکے۔

امریکی بلیک لسٹ میں شامل کمپنی کے امریکی کمپنیوں سے کاروبار کے حوالے سے عارضی لائسنس کی مدت 19 اگست کو ختم ہونے پر مزید 3 ماہ کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا گیا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اب یہ مدت 19 نومبر کو ختم ہورہی ہے اور اس سے قبل ایک بار پھر 3 ماہ کا استثنیٰ دیئے جانے کا امکان ہے۔

مئی میں ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کے بعد امریکی کمپنیوں کو چینی کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے لیے حکومتی لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے مزید 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا جائے گا جس کی بدولت ہواوے ٹیلی کام نیٹ ورکس کے ساتھ کام کرسکے گی جبکہ اس کے فونز کو سافٹ وئیر اپ ڈیٹس بھی ملتی جائیں گی۔

گزشتہ ہفتے امریکا کے کامرس سیکرٹری ولبر روس نے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ کچھ دیہی امریکی آپریٹرز تھری جی اور فور جی نیٹ ورکس چلانے کے لیے ہواوے پر منحصر ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہواوے کی جانب سے فائیو جی نیٹ ورکنگ آلات کی سپلائی کے حوالے سے اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مئی میں عارضی لائسنس کے اجرا کے موقع پر امریکی سیکرٹری آف کامرس نے اپنے بیان میں کہا تھا ‘ یہ عارضی لائسنس آپریٹرز کو متبادل انتظامات کے لیے وقت فراہم کرتا ہے جبکہ محکمے کو اس دوران یہ تعین کرنے کا موقع مل سکے گا کہ وہ طویل المعیاد بنیادوں پر امریکی اور غیر ملکی ٹیلی کمیونیکشن کمپنیاں جو اس وقت ہواوے کے آلات پر انحصار کررہے ہیں، کے لیے انتظامات کرسکے’۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ لائسنس آپریٹز کو ہواوے موبائل فونزاور براڈ بینڈ نیٹ ورکس پر آپریشنز جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرے گا’۔

عارضی لائسنس کے باوجود ہواوے کے لیے امریکی پابندیاں مختلف مسائل کا باعث بن رہی ہیں کیونکہ متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے چینی کمپنی سے اپنے تعلقات ختم کرلیے ہیں، جس سے اہم سافٹ وئیر اور پرزہ جات تک اس کی رسائی محدود ہوئی ہے۔

اسی طرح کمپنی کے نئے فونز گوگل ایپس اور سروسز سے محروم ہوچکے ہیں، جس سے یورپ سمیت مختلف مارکیٹوں میں کمپنی کا بزنس متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔

فیس بک میں انسٹاگرام جیسے ‘پاپولر فوٹوز’ فیچر کی آزمائش

جب آپ فیس بک ایپ پر فل اسکرین موڈ پر ایک ویڈیو دیکھتے ہیں اور اسکرول ڈاﺅن کرتے ہیں تو آپ کے سامنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے مختلف ویڈیوز کے آپشن دیئے جاتے ہیں اور اب یہی فیچر تصاویر کے لیے بھی متعارف ہونے والا ہے۔

فیس بک میں ایک نئے فیچر پر کام ہورہا ہے جسے پاپولر فوٹوز کا نام دیا گیا ہے اور انسٹاگرام فیڈ سے ملتا جلتا ہے۔

اس وقت اگر آپ فیس بک ایپ پر تصویر پر کلک کرتے ہیں تو فل اسکرین موڈ میں داخل ہوجاتے ہیں جس پر سیاہ پس منظر ہوتا ہے اور جب آپ اسکرول ڈاﺅن یا سوائپ کرتے ہیں، تو واپس چلے جاتے ہیں۔

مگر پاپولر فوٹوز فیچر میں صارفین کے سامنے دوستوں اور دیگر پبلک پوسٹس کی دیگر تصاویر آجاتی ہیں جو بالکل انسٹاگرام فیڈ جیسا تجربہ فراہم کرتا ہے۔

فوٹو بشکریہ ٹیک کرنچ
فوٹو بشکریہ ٹیک کرنچ

ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے ایک ترجمان نے پاپولر فوٹوز کی اکتوبر میں آزمائش کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات یا اس کے مقصد کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔

فیس بک میں پہلے ہی اسٹوریز، میسجنگ، پروفائلز اور واچ ویڈیو ہب جیسے انسٹاگرام فیچرز موجود ہیں مگر اس فیچر کی بدولت یہ مکمل طور پر انسٹاگرام کلون کی شکل اختیار کرلے گی۔

فوٹو بشکریہ ٹیک کرنچ
فوٹو بشکریہ ٹیک کرنچ

اس فیچر کی بدولت صارفین کو نیوزفیڈ پر اسٹیٹس اپ ڈیٹس اور دیگر مواد دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ بس ایک تصویر پر کلک کرکے دیگر تصاویر کو دیکھتے ہوئے وقت گزار سکیں گے۔

اس فیچر میں نیوز فیڈ یا کسی پروفائل پر تصویر پر جب صارفین کی جانب سے کلک کیا جائے گا تو اسکرول کرنے پر پاپولر فوٹوز ٹائٹل سے نیچے جانے پر اضافی تصاویر نظر آئیں گی اور سی مور فوٹوز لیبل مزید تصاویر کو دکھائے گا۔

پاپولر فوٹوز میں کیپشن 65 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ سیاہ پس منظر سنیما جیسا احساس دلائے گا۔

ہواوے کا پہلا فولڈایبل فون آخرکار فروخت کے لیے پیش

ہواوے نے اپنا پہلا فولڈ ایبل فون میٹ ایکس چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے۔

اس فون کو رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جون میں اسے فروخت کے لیے پیش کرنا تھا، مگر پھر اسے ستمبر اور پھر اکتوبر میں متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، مگر اب جاکر یہ صارفین کو دستیاب ہوا ہے۔

ہواوے کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون گوگل ایپس کے بغیر صارفین کو پیش کیا گیا ہے۔

جمعے کو ہواوے نے چین میں اپنے آن لائن اسٹور میں یہ فون فروخت کے لیے پیش کیا جس کی قیمت 16 ہزار 999 چینی یوآن (3 لاکھ 76 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی۔

یہ فون فولڈ شکل میں فرنٹ پر 6.6 انچ اور بیک پر 6.38 انچ اسکرین کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ جب اسے ان فولڈ کیا جاتا ہے تو اسکرین کا حجم 8 انجچ ہوجاتا ہے۔

یہ فون 5 جی سے لیس ہے جبکہ کمپنی کا اپنا کیرین 980 پراسیسر اور ڈوئل سیل 4500 ایم اے ایچ بیٹری اس میں دی گئی ہے۔

اس فون میں گرپ بار نامی ایک فیچر دیا گیا ہے جو ایک ہاتھ سے بھی اس ڈیوائس کو پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔

اس فون میں بالون 5000 فائیو جی موڈیم، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

فروری میں کمپنی کا دعویٰ تھا کہ فائیو جی موڈیم بہت تیز ہے اور اس کی ڈا?ن لوڈ اسپیڈ 4.6 جی بی پی ایس ہے یعنی بیشتر 4 جی موڈیم سے 10 گنا تیز جبکہ کوالکوم ایکس 50 فائیو جی موڈیم سے دوگنا تیز۔

اس میں ڈا?ن لوڈنگ رفتار اتنی تیز ہے کہ کمپنی کے مطابق صارفین ایک جی بی فلم محض 3 سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔

اس کا پاور بٹن فنگرپرنٹ ریڈر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

فون میں لائیسا ڈیزائن کیمرے اور یو ایس بی پورٹ سی بھی موجود ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ فون دیگر ممالک میں کب تک دریافت ہوگا تاہم کمپنی کی جانب سے اکتوبر میں کیا گیا تھا کہ اس فون کی دستیابی کا انحصار دیگر ممالک میں فائیو جی ٹیکنالوجی پر ہوگا۔

وکی پیڈیا کے بانی نے فیس بک و ٹوئٹر کے ٹکر کی ویب سائٹ متعارف کرادی

انٹرنیٹ پر تقریبا دنیا کے ہر موضوع پر مفت معلومات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کانٹینٹ ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کے شریک بانی جمی ویلز نے فیس بک اور ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی سوشل ویب سائٹ متعارف کرادی۔

جمی ویلز کی جانب سے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کے نام کی متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ دراصل ان کی جانب سے 2 سال قبل متعارف کرائی گئی نیوز ویب سائٹ کا تسلسل ہے۔

جمی ویلز نے 2017 میں ’وکی ٹربیون‘ نامی وکی پیڈیا طرز کی ایب نیوز ویب سائٹ متعارف کرائی تھی، اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے حالات کو جوں کا توں شائقین تک پہچانا ہے۔

’وکی ٹربیون‘ دنیا کی ایک ایسی منفرد نیوز ویب سائٹ ہے جسے کے مضامین اور خبروں کو ’وکی پیڈیا‘ کی طرح دوسرے لوگ بھی ایڈٹ اور تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے دیگر نیوز سائٹس کے مقابلے کم شہرت ملی۔

’وکی ٹربیون‘ کے بعد اب اس کے بانی جمی ویلز نے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ نامی سوشل انفارمیشن شیئرنگ ویب سائٹ متعارف کرادی۔ جیمز ویلز نے اس نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک ماہ قبل آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرادیا گیا۔

جمی ویلز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ پر ایک لاکھ صارفین نے اپنے اکاؤنٹ بنا لیے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جمی ویلز کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل انفارمیشن ویب سائٹ جہاں ایک طرف فیس بک اور ٹوئٹر کی طرح کام کرے گی، وہیں وہ منفرد بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ فیس بک اور ٹوئٹر صحافتی اداروں کا مواد پھیلانے کے لیے ایڈوٹائزنگ کی مد میں پیسے کماتے ہیں اس لیے وہاں پر کمائی کی لالچ میں صارفین تک غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی ہے۔

جمی ویلز کے مطابق ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اشتہارات نہیں دیے جائیں گے البتہ اس فورم پر لوگوں سے ’ڈونیشن‘ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جمی ویلز نے بتایا کہ یہ استعمال کرنے والے صارف پر انحصار ہے کہ وہ ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کو ’ڈونیشن‘ فراہم کرتا ہے یا نہیں، کیوں کہ ویب سائٹ میں ڈونیشن کے فیچر کو اسکپ کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بغیر کسی معاوضے اور کمائی والی ان کی سوشل انفارمیشن ویب سائیٹ پر لوگوں دوسرے افراد تک درست اور معنی خیز معلومات پہنچانے کا کارنامہ سر انجام دیں گے۔

’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے، دیگر سوشل ویب سائٹس کی طرح اس پر بھی اکاؤنٹ بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں نام، ای میل، تاریخ پیدائش اور دیگر اہم معلومات پوچھی جاتی ہیں۔

اس لنک کو کلک کرکے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ
ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ

ٹک ٹاک ویڈیوز میں اب مصنوعات کے لنکس کا اضافہ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک میں بہت جلد صارفین اپنی مختصر ویڈیوز سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی کماسکیں گے۔

ٹک ٹاک میں نئے فیچرز کی آزمائش کی جارہی ہے جس کی بدولت صارفین ایپ کے اندر مختلف مصنوعات کو تلاش کرکے خرید سکیں گے یا کسی ای کامرس سائٹ پر جاسکیں گے۔

ٹک ٹاک میں اس نئے فیچر کی بدولت صارفین اپنی ویڈیوز میں ایک لنک ایڈ کرسکیں گے جو کلک کرنے پر ناظرین کو تھرڈ پارٹی سائٹس پر لے جائے گا جہاں وہ مصنوعات خرید سکیں گے جبکہ صارفین اپنے پروفائل پیج پر بھی ایک یو آر ایل ایڈ کرسکیں گے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ سے بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے نئے فیچرز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے تجربات ہیں جن کا مقصد ایپ کو بہتر بنانا ہے۔

اس نئے فیچر کو سب سے پہلے ایک چینی مارکیٹنگ ایجنسی کے بانی فیبین برن نے دریافت کیا تھا اور ٹوئٹ کرکے اس کے بارے میں بتایا۔

ٹک ٹاک کے یہ نئے فیچرز انسٹاگرام کے اسٹوریز اور شاپ ایبل پوسٹس سے ملتے جلتے ہیں اور ان کو انسٹاگرام میں زیادہ فالورز رکھنے والے صارفین کی جانب سے مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرکے اس سے آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔

انسٹاگرام اور ٹک ٹاک میں ایک دوسرے سے مقابلہ تیز ہورہا ہے اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے مقبول فیچرز کی نقل کررہے ہیں۔

انسٹاگرام کے ماہانہ صارفین کی تعداد ایک ارب ہے جبکہ ٹک ٹاک کے صارفین 50 کروڑ ہے مگر چینی کمپنی کی زیرملکیت یہ سوشل میڈیا ایپ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ٹک ٹاک کو انسٹاگرام پر ایک سبقت حاصل ہے اور وہ ہے نوجوانوں میں اس کی مقبولیت۔

اس ایپ کے 41 فیصد صارفین 16 سے 24 سال کی عمر کے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ برانڈز کے لیے یہ بہت اہم ایپ ہے، جس کی مدد سے وہ نوجوان صارفین تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative