سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستانی طلبا نے گاڑیوں کے سائیڈ مرر چیک کرنے والا کم لاگت آلہ تیار کرلیا

کراچی: پاکستانی طالب علموں نے گاڑیوں کے اطراف میں نصب آئینے (سائیڈ مرِر) میں خامیاں تلاش کرنے والا خودکار نظام تیار کرلیا جس کی بعض ممالک میں قیمت 29 لاکھ روپے تک ہے تاہم طلبا نے اس محض ڈیڑھ لاکھ روپے میں تیار کرلیا ہے۔

اقرا یونیورسٹی کے طالب علم ابوطالب نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملک کر ’آٹومائزڈ مرِر ٹیسٹنگ مشین‘ تیار کی ہے جس سے  خود کار طریقے سے گاڑیوں کے آئینوں کی خرابی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ گاڑیوں کے شیشے دستی اور روایتی طریقے سے چیک کیے جاتے ہیں جس میں ایک آئینے کو دیکھنے میں ایک منٹ 30 سیکنڈ لگتے ہیں۔

دوسری جانب طالب علموں کا بنایا ہوا جدید آلہ صرف 30 سیکنڈ میں یہ کام کرسکتا ہے، اگر اسے پاکستان بھر میں متعارف کرایا جائے تو اس سے وقت اور سرمائے کی بہت بچت ہوگی

اقرا یونیورسٹی میں الیکٹرانک انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ابوطالب، محمد شمشیر الرحمان اور ابوہریرہ محبوب نے صرف 9 ماہ میں اسے بنایا ہے، اس مشین میں آٹومیٹک اور مینول فنکشن رکھے گئے ہیں۔ اس طرح آٹومیٹک نظام میں کوئی مسئلہ ہو تو مینول طریقے سے کام ہوتا رہے اور آئینوں کی تیاری نہیں رکتی۔

سال 2017ء میں ایک نجی کار کمپنی میں انٹرن شپ کے دوران ابوطالب نے دیکھا کہ آٹومیٹک گاڑیوں کے شیشوں میں 10 کے قریب پارٹس اور پرزے لگتے ہیں اور اس کے بعد آئینے کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ابوطالب نے نوٹ کیا کہ مزدور کو آئینہ چیک کرنے میں کم سے کم ایک منٹ 10 سیکنڈ کا وقت لگ رہا ہے جس میں وہ جائزہ لیتا ہے کہ شیشہ تھریش ہڈ پر گھوم رہا ہے یا نہیں۔

اسی کمی کو دیکھتے ہوئے ابوطالب نے ’آٹومائزڈ مِرر ٹیسٹنگ مشین‘ بنائی جو آئینے کے ہر حصے یا پارٹ میں ہونے والی خرابی کا پتا لگاسکتی ہے۔ اس مشین میں کم خرچ سینسر استعمال کیے گئے ہیں۔ بعض ممالک میں یہ مشین استعمال کی جارہی ہے جس کی قیمت 29 لاکھ روپے ہے لیکن ابوطالب کی تخلیق پر صرف ڈیڑھ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔

اس طرح روایتی طریقے سے ایک شفٹ میں 400 شیشے چیک ہوکر نکل رہے ہیں تو اس مشین سے 800 شیشے چیک کیے جاسکتےہیں۔ اس پروجیکٹ کو رواں سال تھائی لینڈ کی اسٹیمفورڈ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہونے والے ایک مقابلے میں بھی پیش کیا جائے گا جہاں اس بھرپور پذیرائی کا واضح امکان ہے۔

 

یہ فولڈ ایبل فون ستمبر میں صارفین کو دستیاب ہوگا

ہواوے کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون میٹ ایکس ستمبر میں باضابطہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔

اس فون کو رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جون میں اسے صارفین کے لیے متعارف کرایا جانا تھا۔

مگر اب کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس فون کو پیش کرنے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا گیا تاکہ میٹ ایکس کی اسکرین میں کچھ تبدیلیاں کی جاسکیں۔

ہواوے کے مغربی یورپ کے صدر ونسینٹ پانگ نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران میٹ ایکس کی پی او ایل ای ڈی اسکرین کو مزید بہتر کیا گیا ہے تاکہ ایسے مسائل سے بچ سکیں جو سام سنگ کے فولڈ ایبل فون میں سامنے آئے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ میٹ ایکس کو ستمبر میں صارفین کے لیے متعارف کرا دیا جائے گا اور یہ ہر اس ملک میں دستیاب ہوگا جہاں فائیو جی ٹیکنالوجی پیش کی جاچکی ہے تاہم امریکا میں اسے متعارف کرائے جانے کا امکان نہیں۔

ونسینٹ پانگ نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باوجود اس فون میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم موجود ہوگا اور گوگل ایپس بھی کام کریں گی۔

موبائل ورلڈ کانگریس میں اسے پیش کرتے ہوئے ہواوے نے اس فون کو دنیا کا تیز ترین فولڈ ایبل فائیو جی فولڈ ایبل فون قرار دیا تھا۔

میٹ ایکس بند شکل میں 6.6 انچ کے فرنٹ ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں 19:5:9 ایسپکٹ ریشو دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 6.38 انچ ڈسپلے 25:9 ایسپکٹ ریشو کے ساتھ ہے۔

جب اس فون کو اوپن کیا جاتا ہے تو یہ 8 انچ اسکرین کا ٹیبلیٹ بن جاتا ہے جس میں 2 ایپس کو بیک وقت چلایا جاسکتا ہے۔

یہ فون ان فولڈ ہونے پر 5.4 ملی میٹر موٹا ہوگا جبکہ فولڈ ہونے پر 11 ملی میٹر موٹا ہوجائے گا۔

اس فون میں گرپ بار نامی ایک فیچر دیا گیا ہے جو ایک ہاتھ سے بھی اس ڈیوائس کو پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔

اس فون میں کمپنی نے اپنا 7 نانومیٹر کیرین 980 پراسیسر جبکہ بالون 5000، فائیو جی موڈیم دیا ہے، جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ فائیو جی موڈیم بہت تیز ہے اور اس کی ڈا?ن لوڈ اسپیڈ 4.6 جی بی پی ایس ہے یعنی بیشتر 4 جی موڈیم سے 10 گنا تیز جبکہ کوالکوم ایکس 50 فائیو جی موڈیم سے دوگنا تیز۔

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

اس میں ڈاﺅن لوڈنگ رفتار اتنی تیز ہے کہ کمپنی کے مطابق صارفین ایک جی بی فلم محض 3 سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔

اس میں 4500 ایم اے ایچ پاور سیل بیٹری دی گئی ہے جبکہ یہ 55 واٹ چارجنگ سپورٹ کرتا ہے جس سے آدھے گھنٹے میں 85 فیصد چارجنگ ممکن ہے۔

اس کا پاور بٹن فنگرپرنٹ ریڈر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

فون میں لائیسا ڈیزائن کیمرے اور یو ایس بی پورٹ سی بھی موجود ہے۔

کمپنی کی جانب سے فروری میں اس کی قیمت 2299 یورو (4 لاکھ 121 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) بتائی گئی تھی مگر ستمبر میں کیا ہوگی ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔

پاس ورڈ بتائے بغیر بھی دوستوں کو وائی فائی کی رسائی دینا ممکن ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ صارفین بغیر پاس ورڈ بتائے بھی اپنا وائی فائی کنکشن دوسروں کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مہمانوں، دوستوں اور اجنبیوں کے ساتھ بہ وقت ضرورت وائی فائی شیئر کرنے میں پاس ورڈ چوری ہونے کا احتمال رہتا ہے جس سے آپ اپنے انٹرنیٹ ڈیٹا سے محروم ہوسکتے ہیں لیکن ساتھ ہی دوستوں کو ناراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں ہر مشکل کا حل اور ہر چیز کا توڑ موجود ہے تو ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ صارفین کی اس دقت کو دور نہ کیا جاسکے تو جان لیں کہ اب پاس ورڈ ظاہر کیے بغیر کیو آر کوڈ کے ذریعے وائی فائی تک رسائی دی جاسکتی ہے۔

وائی فائی پاس ورڈ کو ’کیو آر کوڈ‘ میں تبدیل کرنے کے لیے ویب سائٹس موجود ہیں جو گوگل پر سرچ کی جاسکتی ہیں، qrstuff.com جیسی ویب سائٹ پر جائیں اور ’وائی فائی نیٹ ورک‘ یا وائی فائی لاگ ان‘ کا انتخاب کریں، وائی نیٹ ورک کا نام لکھیں، پاس ورڈ کا اندراج کریں، WPA  کا انتخاب کریں اس کے بعد کیو آر کوڈ تشکیل دیا جاسکے گا جسے بآسانی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیجیے آپ کے وائی فائی پاس ورڈ کا کیو آر کوڈ تیار ہے، کیو آر کوڈ کی سافٹ کاپی محفوظ رکھیں اور اسے عزیز و اقربا کو دے دیں جو پاس ورڈ کے بغیر ہی بآسانی کنیکٹ ہوجائیں گے۔

یہ سہولت دو برس قبل آئی تھی لیکن کامیابی کا تناسب اچھا نہیں تھا بعد ازاں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر کیا گیا، نئی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے اس عمل کو مزید آسان، موثر اور قابل عمل بنا دیا گیا ہے

ایک ساتھ کئی آلات کو وائرلیس چارج کرنے والی شمسی میز

بارسلونا: اب یہ حال ہے کہ ہر گھر میں چارجنگ کے کئی دستی آلات ہیں اور بسا اوقات ایک وقت میں چارج کرنے پر تلخی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل ایک ہسپانوی کمپنی نے ای بورڈ کی صورت میں پیش کیا ہے جو شمسی توانائی جمع کرنے والی ایک میز ہے اور ایک وقت میں کئی آلات چارج کرسکتی ہے۔

’ای بورڈ‘ میز سورج یا مصنوعی روشنی سے بھی توانائی بناسکتی ہے۔ اگرچہ پہلی نظر میں یہ ایک سادہ سی میز دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے اندر جدید ٹیکنالوجی سموئی گئی ہے۔ لیکن اس میں ایک دو نہیں بلکہ 50 چارجنگ کوائل(چھلے) لگے ہیں یعنی ایک وقت میں تین سے چار آلات کو اس پر چارج کیا جاسکتا ہے۔

ای بورڈ ’چی‘Qi ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں جس کا مطلب ہےکہ مشہورِ زمانہ اسمارٹ فون کے گزشتہ بعض جدید ماڈل اس سے تار کے بغیر چارج ہوسکتے ہیں ۔ ان میں آئی فون اور گیلکسی کے جدید ماڈل گوگل پکسل تھری اور تھری ایکس ایل، تقریباً تمام مشہور اسمارٹ واچ، ٹیبلٹ اور ایئربڈ ایئرفون شامل ہیں۔

ہاں اگر کسی فون میں وائرلیس چارجنگ کی سہولت نہیں تو میز کے ساتھ فروخت ہونے والے دو ایڈاپٹرز بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ میز کو کسی پلگ میں لگانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ فوٹووولٹائک توانائی ہے اور سورج کی روشنی سے بجلی بناتی ہے۔ اگر دھوپ غائب ہے تو مصنوعی روشنی سے بھی یہ تسلی بخش کام کرتی ہے۔

کمپنی کے مطابق میز کی تیاری میں استعمال ہونے والی ایک پرت سمندری بیکٹیریا سے بنائی گئی ہے جس کا پیٹنٹ لیا جاچکا ہے۔

ایپل کے موبائل کے بعد کمپیوٹرز میں بھی سام سنگ کی اسکرین

ٹیکنالوجی آلوت تیار کرنے والی دنیا کی بڑی کمپنی ایپل جلد ہی متعارف کرائے جانے والے اپنے 16 انچ میک بک پرو اور آئی پیڈ پرو میں اپنی حریف کمپنی سام سنگ کی اسکرین استعمال کرے گی۔

جی ہاں، امریکی کمپنی ایپل کو دنیا کی معتبر کمپنی مانا جاتا ہے، تاہم وہ اپنے آنے والے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں جنوبی کورین کمپنی کی او ایل ای ڈی اسکرین استعمال کرے گی۔

ٹیکنالوجی ادارے ’ای ٹی نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایپل اپنی حریف کمپنی کی اسکرین کو اپنے آلات میں استعمال کرے گی۔

اس سے قبل ایپل نے آئی فون ایکس میں بھی سام سنگ کی تیار کردہ اسکرین استعمال کی تھی۔

آئی فون ایکس کی کامیابی کے بعد ایپل نے سام سنگ سے مزید اسکرین خریدنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں کمپنی نے سام سنگ سے اسکرینز نہیں خریدیں۔

رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے سام سنگ سے اسکرینز نہ خریدنے کی وجہ سے جنوبی کورین کمپنی کو مالی نقصان ہوا اور اس کی کمائی بھی نصف ہوگئی۔

کمائی نصف ہونے کے بعد سام سنگ نے ایپل کو وعدے سے مکر جانے پر جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا یا پھر اسکرینز خریدنے کی شرط رکھی، جس پر امریکی کمپنی سام سنگ سے مزید اسکرینز خریدنے میں تیار ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق اب ایپل اپنی حریف کمپنی سام سنگ کی تیار کردہ اسکرینز نہ صرف آئی فون بلکہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں بھی استعمال کرے گی۔

یہی نہیں بلکہ ایپل نے اسکرینز سمیت دیگر آلات کے لیے سام سنگ سمیت ایل جی سے بھی معاہدہ کرلیا ہے اور وہ اپنے آلات میں جنوبی کورین کمپنیوں کے آلات استعمال کرے گی۔

خیال رہے کہ سام سنگ کو اسمارٹ موبائل بنانے والی سب سے بڑی کمپنی مانا جاتا ہے جب کہ سام سنگ کو اسکرینز تیار کرنے کے حوالے سے بھی بڑی کمپنی مانا جاتا ہے۔

سام سنگ دنیا بھر کے ٹیکنالوجی اداروں کی جانب سے اپنے آلات میں استعمال کیے جانے والی اسکرینز کا 40 فیصد حصہ تیار کرتی ہے اور ان کی اسکرینز ایپل سمیت دیگر بڑی کمپنیاں بھی استعمال کرتی ہیں۔

دنیا کے پہلے الیکٹرک طیارے کو متعارف کرا دیا گیا

دنیا کا پہلا ایسے طیارے کو متعارف کرادیا گیا ہے جسے اڑانے کے لیے روایتی ایندھن کی ضرورت نہیں بلکہ وہ بجلی کی مدد سے پرواز بھر سکے گا۔

ایوی ایشن نامی کمپنی نے ایلس نامی دنیا کا پہلا مکمل الیکٹرک کمرشل طیارہ متعارف کرایا ہے جس کی ساخت عام طیاروں سے کافی مختلف ہے۔

اس طیارے میں لیتھیم اون بیٹری لگائی گئی ہے جس کی بدولت 9 مسافروں کی گنجائش والا طیارہ سنگل چارج پر 276 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر 650 میل تک سفر کرسکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس برقی طارے کے آرڈر بھی ایک امریکی کمپنی کیپ ائیر سے مل چکے ہیں اور اس کا پہلا ماڈل 2022 تک کمرشل پرواز کرنے لگے گا۔

یہ کمپنی اس طرح کے ایک بڑے ماڈل کو بھی تیار کررہی ہے جس میں زیادہ طاقتور بیٹری لگائی جائے گی جس کی بدولت وہ 738 میل تک سفر کرسکے گا۔

اگرچہ طویل فاصلے تک برقی طیاروں کی پرواز طویل عرصے تک ممکن نہیں مگر مختصر فاصلے کے لیے یہ کارآمد ثابت ہوسکیں گے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے میں بھی مدد فراہم کریں گے۔

اس وقت پائلٹ لیس طیاروں کی تیاری پر بھی کام ہورہا ہے اور ابھی دنیا میں ڈرائیو کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے تجربات مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکے مگر پائلٹ لیس طیارے کی تیاری پر بھی کام شروع ہوگیا ہے۔

آن لائن ٹریول ایجنسی کیوی ڈاٹ کام چیک ریپبک کی ایرو ٹیکنالوجی کمپنی زیوری کے ساتھ مل کر ایسے طیارے پر کام کررہی ہے جو پائلٹ کے بغیر اڑان بھرسکے گا۔

ابھی ان کمپنیوں نے اس طیارے کا پروٹوٹائپ ڈیزائن کیا ہے اور ان کے مطابق یہ طیارہ 434 میل تک سفر کرسکے گا۔

ڈرونز کی طرح یہ پائلٹ لیس طیارہ عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا اور اس کی پرواز کے لیے 8 الیکٹرک موٹرز نصب ہوں گی۔

یہ کانسیپٹ طیارہ 4 مسافروں کو لے کر پرواز کرسکے گا اور اب کمپنی فعال پروٹوٹائپ کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

ہواوے کی نووا سیریز کے 3 نئے فونز متعارف

یہ ہواوے کا پہلا فون ہے جس میں کمپنی نے اپنا نیا ایٹ کور کیرین 810 پراسیسر استعمال کیا ہے۔

اس فون میں 6.39 انچ کا او ایل ای ڈی واٹر ڈراپ نوج ڈسپلے دیا گیا ہے، جبکہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

اس کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے جو کہ 48 میگا پکسل مین سنسر، 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ سنسر، 2 میگا پکسل ڈیپتھ سنسر اور 2 میگا پکسل میکرو سنسر پر مشتمل ہے، اسی طرح 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اس میں 3500 ایم اے ایچ بیٹری 40 واٹ ہواوے سپرچارج ٹیکنالوجی سپورٹ کے ساتھ ہے جبکہ فنگرپرنٹ اسکینر ڈسپلے کے اندر دیا گیا ہے ، کمپنی کی ایس ڈی ایسوسی ایشن کی رکنیت کے حوالے سے غیریقینی کے باوجود مائیکرو ایس ڈی کارڈ سلاٹ بھی موجود ہے۔

یہ فون رواں ماہ کے آخر تک چین میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت 2 ہزار 8 سو یوآن (64 ہزار پاکستانی روپے کے لگ بھگ) رکھی گئی ہے۔

نووا 5 پرو

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

یہ تینوں فونز میں سب سے بہتر ہے جس میں 6.39 انچ او ایل ای ڈی واٹر ڈراپ ؛ ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے۔

اس فون میں کمپنی کا فلیگ شپ کیرین 980 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 8 جی بی ریم اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں۔

4000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ کمپنی نے 40 واٹ ہواوے سپرچارج ٹیکنالوجی سپورٹ دی ہے۔

جہاں تک فرنٹ اور بیک کیمروں کی بات ہے تو وہ نووا 5 جیسے ہی ہیں یعنی بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ جبکہ فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا۔

اس فون کے 8 جی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 3 ہزار یوآن (68 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا فون 3 ہزار 400 یوآن (77 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا۔

نووا 5 آئی

فوٹو بشکریہ ہواوے
فوٹو بشکریہ ہواوے

یہ اس سیریز کا سستا اور کم طاقتور فون ہے جس میں کیرین 710 پراسیسر دیا گیا ہے مگر یہ دونوں فونز سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں نوچ کی جگہ ہول پنچ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اسی طرح 6.39 انچ ڈسپلے میں او ایل ای ڈی کی بجائے ایل سی ڈی اسکرین دی گئی ہے جبکہ بیک پر دونوں فونز کی طرح 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہے مگر پکسلز کے لحاظ سے کمتر ہیں، جن میں 24 میگا پکسل کیمرا، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل، 2 میگا پکسل ڈیپتھ اور 2 میگا پکسل میکرو لینس دیئے گئے ہیں جبکہ فرنٹ پر 24 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

اس میں سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج یا 8 جی بی ریم اور 128 اسٹوریج کے آپشن موجود ہیں جبکہ 4000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ 18 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

اس کی قیمت 2 ہزار یوآن (45 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی۔

یوٹیوب کا بچوں کی تمام ویڈیوز کڈز ایپ میں منتقل کرنے پر غور

یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے کے لیے دنیا کی مقبول ترین سائٹ (ڈیسک ٹاپ) یا موبائل ایپ ہے جس کا استعمال بچے بھی بہت زیادہ کرتے ہیں مگر اب گوگل نے اس میں کافی کچھ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یوٹیوب میں بچوں کی ویڈیوز کو مین ایپ سے ہٹا کر صرف یوٹیوب کڈز ایپ تک مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گوگل کو یوٹیوب میں بچوں کے مواد کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے پالیسی میں اہم تبدیلیاں کررہا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بچوں سے متعلق تمام ویڈیوز یوٹیوب سے ہٹا کر کڈز ایپ میں منتقل کی جائیں گی جبکہ اس میں آٹو پلے فیچر کو ڈس ایبل کردیا جائے گا۔

ان تبدیلیوں سے گوگل کی اشتہاری آمدنی تو متاثر ہوگی مگر اسے توقع ہے کہ بچے ‘قابل اعتراض’ مواد سے بچ سکیں گے۔

اس وقت یوٹیوب میں قابل اعتراض مواد کے حوالے سے ان کی رینکنگ ڈاﺅن اور رسائی کو محدود کیا جاتا ہے مگر اس سے مسائل پر قابو ممکن نہیں ہورہا ہے۔

اس حوالے سے گوگل نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور گوگل کے سی ای او سندرپچائی یوٹیوب کے مسائل پر قابو پانے کے لیے زیادہ متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کی ویڈیو اور بچوں کے جنسی استحصال کرنے والے گروپس کے مواد کو ریکومینڈ کرنے والے الگورتھم پر کمپنی کے اندر بھی کافی احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

کمپنی کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے ہزاروں ویڈیوز میں کمنٹس کو بین بھی کیا گیا۔

اس رپورٹ پر یوٹیوب کی ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم یوٹیوب کو بہتر بنانے کے لیے کافی خیالات پر غور کررہے ہیں اور کچھ تاحال آئیڈیاز ہی ہیں، جبکہ دیگر پر کام ہورہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے بچوں کے تحفظ میں ناکامی اور بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے حوالے سے یوٹیوب کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات اس وقت اختتامی مراحل میں ہے اور کمپنی کو جرمانے کا سامنا

Google Analytics Alternative