سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی

بجلی کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرنے والی ماحول دوست دھات

لندن: جاپان، کوسٹا ریکا اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسی نئی دھات ایجاد کرلی ہے جس میں سے بجلی گزاری جائے تو وہ ٹھنڈک پیدا کرتی ہے۔ امید ہے کہ یہ یا اسی طرح کی کوئی دھات مستقبل کے ریفریجریٹروں اور ایئرکنڈیشنروں میں استعمال کرتے ہوئے ان میں نہ صرف بجلی کا خرچ کم کیا جائے گا بلکہ ٹھنڈک پیدا کرنے کےلیے آج کل استعمال ہونے والی آتش گیر اور خطرناک گیسوں سے بھی چھٹکارا پایا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ اگر کوئی چیز بجلی گزارنے پر ٹھنڈی ہوجائے تو اسے ’’الیکٹرو کیلورک ایفیکٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اثر اب سے پہلے کچھ دھاتوں میں پیدا کیا جاچکا ہے لیکن اس کی نوعیت بہت کمزور رہی ہے۔ اوّل تو بہت کم دھاتوں میں یہ مظہر دیکھا گیا، اور جن میں نظر آیا بھی، تو وہ زیادہ وولٹیج برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

اب ماہرین کی اس عالمی ٹیم نے آکسیجن اور تین دھاتی عناصر کو آپس میں ملاکر ’’پی ایس ٹی‘‘ کہلانے والے مادّے کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جسے انہوں نے ڈبل روٹی کے سینڈوچز کی طرح، پرت در پرت، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا ہے۔

جب اس مادّے میں سے بجلی گزاری گئی تو اس نے بڑی خوبی کے ساتھ ٹھنڈک پیدا کرنے کا مظاہرہ کیا۔ مزید یہ کہ اس میں زیادہ وولٹیج برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور اس کی تیاری بھی نسبتاً کم خرچ ہے۔ اسی بناء پر ماہرین کو یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں ’’پی ایس ٹی‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے بہتر اور کم بجلی استعمال کرنے والے ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنر تیار کیے جائیں گے۔

فی الحال یہ مادّہ استعمال کرتے ہوئے ایک تجرباتی آلہ تیار کیا جاچکا ہے جو بجلی گزرنے پر ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اس کی کارکردگی بڑھاتے ہوئے اسے اور بھی بہتر بنایا جائے گا۔

اس تحقیق کی تفصیلات ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

گوگل کا نیا لیپ ٹاپ بھی پکسل 4 کی طرح لیک

گوگل آئندہ ہفتے اپنا فلیگ شپ فون پکسل 4 سیریز کے فونز متعارف کرانے والا ہے اور اس کے حوالے سے بہت کچھ لیک ہوچکا ہے مگر اس کمپنی کے نئے لیپ ٹاپ کی تفصیلات بھی قبل از وقت سامنے آگئی ہیں۔

نائن ٹو فائیو گوگل نے گوگل کے نئے پکسل بک گو نامی لیپ ٹاپ کی تفصیلات اور تصاویر لیک کی ہیں۔

گوگل کے لیپ ٹاپ میں کروم آپریٹنگ سسٹم دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں کروم بک بھی کہا جاتا ہے۔

اس نئے پکسل بک گو میں 13.3 انچ اسکرین دی گئی ہے جبکہ 2 یو ایس بی سی پورٹس، انٹیل کور ایم تھری، آئی 5 اور آئی 7 پراسیسرز کے آپشن موجود ہوں گے۔

دیگر فیچرز میں 16 جی بی ریم، 256 جی بی اسٹوریج، 2 میگا پکسل فرنٹ کیمرا، ہیڈ فون جیک اور ٹائٹن سی سیکیورٹی چپ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

فوٹو بشکریہ نائن ٹو فائیو گوگل
فوٹو بشکریہ نائن ٹو فائیو گوگل

اس کا کی بورڈ سے نیچے والا ڈیزائن کافی غیرمعمولی ہے جو کہ کسی واش بورڈ سے ملتا جلتا لگتا ہے۔

یہ پروٹوٹائپ ڈیوائس ہے اور 15 اکتوبر کو شیڈول ایونٹ میں ہوسکتا ہے کہ چند نئی چیزوں کا علم ہو۔

خیال رہے کہ گوگل کا ایونٹ 15 اکتوبر کو نیویارک میں ہوگا جس میں پکسل 4 فونز، لیپ ٹاپ اور اس کے علاوہ بھی کافی کچھ متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

وائرلیس اور فون کے بغیر آپ کے پیاروں کو تلاش کرنے والا انقلابی آلہ

نیویارک: پاکستان سمیت کئی ممالک میں ہم بھیڑ میں لوگوں سے بچھڑ جاتے ہیں، بسا اوقات کئی مقامات پر موبائل فون کام نہیں کرتے اور ہرجگہ وائی فائی بھی نہیں ہوتا اس کا حل ایک کمپنی نے لنک ’lynq ‘ کی صورت میں پیش کیا ہے۔

’لنک‘ نامی اس آلے کے ذریعے ایک وقت میں دو سے بارہ افراد جڑسکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی فون سروس، وائی فائی، انٹرنیٹ اور ماہانہ فیس درکار نہیں ہوتی بلکہ چھوٹا سا آلہ لنک خاص ریڈیو فری کوئنسی کے ذریعے دوسرے آلے سے جڑا ہوتا ہے۔

اس طرح بازار، ہجوم، تفریح، حادثے اور بچوں پر نظر رکھنے میں یہ ایجاد بہت کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ بسا اوقات بچے بھی والدین سے دور ہوجاتے ہیں اور لنک اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کا استعمال بہت سادہ ہے، لنک کے 2 یا 12 آلات پہلے ایک دوسرے کے قریب لاکر انہیں باہم مربوط کرلیں۔ اس کے بعد ہر شخص اپنے ڈیوائس میں اپنا نام شامل کرلے یہاں تک کہ دور جانے کی ایک حد بھی مقرر کی جاسکتی ہے لیکن یاد رہے کہ یہ صرف 5 کلومیٹر یا 3 میل کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے۔

اب اگر دور جاتے ہوئے جس شخص کا نام آپ لکھیں گے اس کا فاصلہ اسکرین پر نمودار ہوگا اور بس اسی سمت میں چلتے جائیں یہاں تک کہ آپ اپنے دوست یا اہلِ خانہ تک جاپہنچیں گے۔ اسے بطور جی پی ایس قطب نما (کمپاس) استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ غائب ہوجانے والے کی سمت بھی بتاتا ہے۔

لنک کمپنی کے مطابق اس نظام کو فوج نے حقیقی میدانِ جنگ میں آزمایا ہے اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح یہ آلہ ان بزرگوں کو بھی دیا جاسکتا ہے جو کسی دماغی عارضے کے سبب بار بار گھر سے باہر دور نکل جاتے ہیں۔ دوسری جانب پہاڑوں پر ٹریکنگ کرنے والے اور برف میں اسکینگ کرنے والے اس کا بھرپور استعمال کرسکتے ہیں۔

اسی طرح قدرتی آفات اور حادثات میں بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں موبائل نیٹ ورک اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کے لیے یہ آلہ بہت ہی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

لنک ایک مرتبہ چارج ہونے پر تین دن تک چل سکتا ہے اور مکمل طور پر واٹرپروف، چائلڈ پروف اور شاک پروف ہے، اس وقت لنک کے لیے قبل پری آرڈر خریداری جاری ہے اور یوں اگلے سال تک یہ ایجاد سامنے آسکتی ہے۔

فیس بک کی ’لبرا‘ کرنسی متعارف ہونے سے قبل مشکلات کا شکار

سوشل ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے رواں برس جون میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ فیس بک متعدد عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر بٹ کوائن کے مقابلے کی کرپٹو کرنسی متعارف کرائی جائے گی۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کو 2020 کی پہلی سہ ماہی تک متعدد اداروں کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا اور اس کرنسی کو ’لبرا‘ کا نام دیا جائے گا۔

بتایا گیا تھا کہ ’لبرا‘ کو متعدد اداروں کی ایک ایسوسی ایشن کے تحت متعارف کرایا جائے گا جسے ’لبرا ایسوسی ایشن‘ کا نام دیا جائے گا۔

فیس بک نے بتایا تھا کہ ’لبرا‘ کو متعارف کرانے کے لیے فیس بک کے ساتھ 28 شراکت دار موجود ہوں گے جن میں پے پال، ماسٹر، ویزا، ای بے، اوبر، کوائن بیس اور مرسی کارپس سمیت دیگر شامل ہوں گے۔

فیس بک جون سے اب تک اس کرنسی کو متعارف کرانے کے حوالے سے امریکا، برطانیہ و یورپ کے کئی بینکس کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔

تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ ’لبرا ایسوسی ایشن‘ میں شامل کئی عالمی مالیاتی اداروں نے فیس بک کا ساتھ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ابتدائی طور پرمالیاتی ادارے ’پے پال‘ نے ’لبرا‘ ایسوسی ایشن سے نکلنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ وہ اپنے ماضی کے فیصلے کو بدلنے پر مجبور ہیں۔

پے پال کے مطابق وہ ’لبرا‘ کے بانی ارکان میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم مستقبل میں اس کرنسی کا حصہ بنا جا سکتا ہے۔

پے پال کے بعد ’ماسٹرکارڈ اور ویزا‘ نے بھی فیس بک کا ساتھ چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی کرپٹو کرنسی کے بانی ارکان میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پے پال، ویزا اور ماسٹر کارڈ کے بعد ای کامرس کمپنی ’اے بی اور اسٹرائپ‘ نے بھی فیس بک لبرا سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ابتدائی طور پر اس کرپٹو کرنسی کا حصہ نہیں بن سکتے۔

فیس بک لبرا سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرنے والے اداروں نے واضح طور پر کرپٹو کرنسی سے الگ ہونے کی وضاحت نہیں کی۔

تاہم ان اداروں کی جانب سے ایک ایسے وقت میں فیس بک لبرا سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ کچھ ہفتے قبل ہی امریکی ایوان نمائندگان نے لبرا ایسوسی ایشن میں شامل اداروں کو ایک خط بھیجا تھا۔

امریکی ایوان نماندگان کی جانب سے بھیجے گئے خط میں ان اداروں کو کہا گیا تھا کہ اگر وہ فیس بک لبرا کرنسی کو متعارف کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں تو ان کی سخت تفتیش اور نگرانی کی جائے گی۔

اگرچہ لبرا سے الگ ہونے والے اداروں نے واضح نہیں کیا کہ انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان کے خط کی وجہ سے کرپٹو کرنسی سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی وجہ سے ہی ان اداروں نے لبرا سے علیحدگی اختیار کی۔

دوسری جانب فیس بک نے بھی اداروں کے الگ ہونے پر تاحال کوئی بیان نہیں دیا۔

بوئنگ اور ہورشے اڑنے والی گاڑی بنانے کے لیے تیار

پہلے زمانے کی جادوئی کہانیوں میں شہزادوں کی سواریاں اڑن قالین ہوا کرتے تھے، لیکن اب اس کی جدید قسم اڑن گاڑیوں کی شکل میں بھی سامنے آنے والی ہے۔

ویسے تو متعدد کمپنیاں اس طرح کی گاڑیوں کی تیاری پر کام کررہی ہیں مگر جب طیارے بنانے کے حوالے سے مشہور کمپنی بوئنگ اور گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی پورشے ایک ساتھ مل کر یہ کام کریں تو کامیابی یقینی محسوس ہوتی ہے۔

بوئنگ اور پورشے نے مل کر ایسی گاڑیاں تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جو کسی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑ بھی سکیں گی ۔

درحقیقت یہ اڑنے والی گاڑی امیر ترین افراد کے لیے تیار کی جائے گی تاکہ انہیں کبھی ٹریفک جام کے مسئلے کا سامنا نہ ہو۔

دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایک ایسی بین الاقوامی ٹیم تیار کی جائے گی جو شہری فضائی سفر کے مختلف پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کر گاڑیوں کی تیاری کو ممکن بنایا جائے گا۔

کمپنیوں نے ان گاڑیوں کے لیے پریمیئم کا لفظ استعمال کرکے عندیا ہے کہ یہ اڑن گاڑی عام لوگوں کے لیے نہیں ہوگی۔

ویسے بھی جب پورشے کا نام جڑ جائے تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں اور یہ گاڑی روایتی ایندھن کی بجائے بجلی کی مدد سے اڑائی جائے گی۔

ویسے گوگل کے بانی لیری پیج بھی اس طرح کی گاڑی کی تیاری پر کام کررہے ہیں جس کے کانسیپٹ ماڈل بھی سامنے آچکے ہیں۔

گزشتہ سال ایک ماڈل کورا کو متعارف کرایا گیا تھا جو کہ ایک اڑنے والی ٹیکسی کے طور پر استعمال کی جائے گی۔

اس میں خودکار پرواز کی صلاحیت رکھنے والے سافٹ وئیر کو استعمال کیا جائے گا، جبکہ اس میں لگائے جانے والے 12 پنکھے عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ میں مدد دیں گے، بالکل کسی ہیلی کاپٹر کی طرح، تو رن وے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

اڑان بھرنے کے بعد ایک سنگل پروپلر کورا کو 500 سے 3 ہزار فٹ کی بلندی پر 110 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز سے مدد دے گا۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی یا طیارہ 3 کمپیوٹرز سے لیس ہوگا جو اسے راستہ تلاش کرنے میں مدد دیں گے۔

یاماہا کے 2 الیکٹرک کانسیپٹ اسکوٹر

جاپانی کمپنی یاماہا بجلی پر دوڑنے والے اسکوٹر ٹوکیو موٹر شو میں متعارف کرانے والی ہے۔

24 اکتوبر سے شروع ہونے والے موٹر شو میں ای او 1 اور ای او ٹو اسکوٹر پیش کیے جائیں گے جو شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک کے ہجوم سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

ای او 1 میں 125 سی سی پاور انجن کے برابر کی بیٹری دی گئی ہے اور یہ طویل فاصلے پر دوڑانے کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایک چارج پر یہ اسکوٹر کتنی فاصلے تک سفر کرسکے گا۔

دوسری جانب ای او 2 میں 50 سی سی انجن کے برابر بیٹری دی گئی ہے اور یہ پرہجوم علاقوں کے لیے زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ یاماہا کی جانب سے ایک سائیکل میں متعارف کرائی جارہی ہے جو کہ ناہموار راستوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور اس میں بیٹری بھی نصب ہے جو اس کی رفتار بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اسکوٹر اور سائیکل کب تک صارفین کے لیے دستیاب ہوں گی کیونکہ انہیں فی الحال کانسیپٹ قرار دیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ یاماہا
فوٹو بشکریہ یاماہا

تاہم ان کے ڈیزائن سے عندیہ ملتا ہے کہ ان کو جلد پیش کیا جاسکتا ہے۔

یاماہا کی جانب سے ٹوکیو موٹر شو میں ہر سال کچھ نہ کچھ نیا پیش کیا جاتا ہے۔

جیسے 2017 میں انتہائی منفرد قسم کی موٹرسائیکل کا کانسیپٹ ورژن پیش کیا جو دنگ کردینے والا تھا۔

ایم ڈبلیو سی 4 نامی سواری کا اگلا اور پچھلا حصہ موٹرسائیکل کی طرح تھا جبکہ درمیان سے یہ کسی گاڑی کی طرح محسوس ہوتی۔

کمپنی کے مطابق ایم ڈبلیو سی 4 کا سسپنشن سیٹ اپ سفر کا وہ معیار فراہم کرتا ہے جو روایتی موٹرسائیکلوں میں نہیں ملتا۔

دنیا کا پہلا ڈوئل پوپ اپ سیلفی کیمرا فون اب پاکستان میں دستیاب

چینی کمپنی ویوو نے اپنا نیا فلیگ شپ وی 17 پرو پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے۔

یہ دنیا کا پہلا اسمارٹ فون ہے جس میں ڈوئل پوپ اپ سیلفی کیمرا سیٹ اپ دیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر فون میں 6 کیمرے دیئے گئے ہیں، 4 بیک پر اور 2 فرنٹ پر جو پوپ اپ سلائیڈر میں چھپے ہیں۔

یہ 6.44 انچ کا سپر امولیڈ ڈسپلے سے لیس فون ہے جس میں بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ فنگرپرنٹ اسکینر اسکرین کے اندر دیا گیا ہے۔

اس میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 675 پراسیسر، 8 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج اور 4100 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

اس فون کے اندر ایک گیم موڈ دیا گیا ہے جس کے ساتھ چند فیچرز جیسے وائس چینجر موجود ہیں جو گیمرز کو گیم کھیلتے ہوئے اپنی آواز بدلنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس کے بیک پر جیسے اوپر درج کیا جاچکا ہے 4 کیمرے ہیں، جن میں 48 میگا پکسل مین کیمرا، 13 میگا پکسل ٹیلی فوٹو کیمرا جو 2 ایکس آپٹیکل زوم کی صلاحیت رکھتا ہے، 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا دیا گیا ہے۔

اس کے فرنٹ پر 32 میگا پکسل مین کیمرے کے ساتھ 8 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرا دیا گیا ہے جو گروپ سیلفی کو زیادہ بہتر لینے میں مدد دیتا ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

چونکہ اس میں ڈوئل کیمرا سیٹ اپ ہے تو پوپ اپ موڈیول میں معمول سے زیادہ چوڑا ہے مگر یہ اس وقت غائب ہوتا ہے جب فرنٹ کیمروں کو استعمال نہ کیا جارہا ہو۔

خیال رہے کہ ویوو وی 15 پرو پہلا اسمارٹ فون تھا جس میں 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا اور اس کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی ایسے ہی سیلفی کیمرا دینا شروع کردیئے۔

ویوو وی 17 پرو کو اس کمپنی نے گزشتہ ماہ بھارت میں فروخت کے لیے سب سے پہلے پیش کیا جہاں اس کی قیمت 29 ہزار 990 بھارتی روپے (65 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی تھی۔

پاکستان میں اب اسے کرسٹل بلیک اور کرسٹل اسکائی بلیو رنگوں میں پری آرڈر کے لیے پیش کردیا گیا ہے اور اس کی فروخت 12 اکتوبر سے 66 ہزار 999 روپے سے شروع ہوگی جس میں ایک سال کی آفیشل وارنٹی بھی جاری ہے۔

اس فون کے ساتھ ابھی زونگ کا فری ڈیٹا اور بلیوٹوتھ ہیڈ سیٹ مفت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ہواوے پر امریکی پابندیوں میں نرمی کا امکان

چینی کمپنی ہواوے کو گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اسے جلد بڑی خوشخبری ملنے والی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ چند امریکی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کے لیے تیار ہے جس کے بعد وہ غیر حساس آلات چینی کمپنی کو فروخت کرسکیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لائسنس کے اجرا کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک میٹنگ میں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ہواوے کے ساتھ کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا سے کمپنیوں کو رواں سال مئی میں چینی کمپنی پر عائد پابندی کے باوجود کاروبار کرنے کا موقع ملے گا۔

رواں سال اگست میں امریکی کمپنیوں کی جانب سے ہواوے کو امریکی مصنوعات کی فروخت کے لیے 130 سے زائد درخواست امریکی محکمہ تجارت میں جمع کرائی گئی تھیں ۔

اس قبل جون میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ کچھ کمپنیوں کو لائسنس کے تحت چینی کمپنی سے کاروبار کی اجازت ہوگی مگر اب تک ایک لائسنس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

اسی وجہ سے ہواوے کے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز میں گوگل ایپس موجود نہیں تھیں کیونکہ گوگل ایپس کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے مگر چینی کمپنی پر امریکا کی جانب سے پابندی کی وجہ سے وہ لائسنس جاری نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹیو آرڈر میں ہواوے کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروباری تعلقات منقطع کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس پابندی کا مکمل اطلاق فوری طور پر التوا میں ڈالتے ہوئے چینی کمپنی کو 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا گیا تھا جس سے ہواوے کو اپنے اینڈرائیڈ فونز کو اپ ڈیٹ کرنے کا موقع ملا۔

اس عارضی لائسنس کی مدت 19 اگست کو ختم ہورہی تھی مگر امریکی کامرس سیکرٹری ولبر روس نے فاکس بزنس سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر 90 دن کے لیے عارضی لائسنس جاری کرنے کا اعلان کیا جس کی مدت 19 نومبر کو ختم ہوگی۔

عارضی لائسنس کے باوجود ہواوے کے لیے امریکی پابندیاں مختلف مسائل کا باعث بن رہی ہیں کیونکہ متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے چینی کمپنی سے اپنے تعلقات ختم کرلیے ہیں، جس سے اہم سافٹ وئیر اور پرزہ جات تک اس کی رسائی محدود ہوئی ہے۔

Google Analytics Alternative