- الإعلانات -

انٹارکٹیکا، برف کے نیچے شہاب ثاقب کے ٹکڑے پوشیدہ ہیں”سائنسدان”

ایک نئی تحقیق کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے نیچے لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب کے ٹکڑے پوشیدہ ہیں۔

انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے اپنی جگہ بدلنے سے خلائی چٹانوں کے ٹکڑے برف کی اوپری سطح پر آجاتے ہیں تاہم دنیا بھر میں ملنے والے شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے مقابلے میں یہاں سے ملنے والے بہت کم شہابیوں میں لوہے کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربوں کی روشنی میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گمشدہ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی سے برف پگھلنے کے باعث خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔

اپنے اس خیال کی تصدیق کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم اب خود ان دھاتی چٹانوں کی تلاش شروع کرنا چاہتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کمیونی کیشن میں شائع ہونے والی تحقیق کی شریک مصنف یونی ورسٹی آف مانچسٹر کی ڈاکٹر کیتھرین جوائے کہتی ہیں ’ اس تحقیق کے ذریعے سامنے آنے والے منطقی نظریے کے مطابق مذکورہ دھاتی نمونے وہاں موجود ہونے چاہییں۔ ہمیں محض انھیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی اجرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔ ہمارے خیال میں نظام شمسی میں سینکڑوں ایسے سیارے تھے جو ابتدائی مراحل میں باہمی ٹکڑاؤ کے عمل کے باعث ٹوٹ گئے اور کبھی اپنی ارتقائی منازل طے نہیں کر پائے اور بڑے نہیں ہوسکے۔