- الإعلانات -

سیاحوں کو خلا میں لے جانے والے خلائی جہاز کو متعارف کرا دیا گیا

خلا کی سیر کے لیے جدید ترین جہاز متعارف کرا دیا گیا .سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کا خلا کی سیر کرنے کا خواب جلد پورا ہوجائے گا.
کسی زمانے میں دنیا کے دور دراز ممالک میں واقع خوبصورت مقامات کی سیر کرنا خواب لگتا تھا لیکن جدید سائنس نے تیز رفتار ہوائی جہازوں سے طویل مسافت کو لوگوں کے لیے لمحوں میں بدل دیا بلکہ اس سے بڑھ کر چاند ستاروں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھنے والے انسان کو اس تک پہنچنا بھی ممکن بنا دیا اوراب عام انسان کے لیے زمین سے سیکڑوں میل دور خلاوں کی سیر پر جانے کے خواب کو بھی حقیقت کا رنگ دیتے ہوئے امریکا میں سیاحوں کے لے خلا میں جانے والے خلائی جہاز کو متعارف کرا دیا ہے۔

خلائی مرکز امریکی ریاست کیلیفورنیا کی خلائی سیاحت کی نجی کمپنیوں کے ایک گروپ نے اس اسپیس شپ کو تیار کیا ہے جبکہ ان کے مطابق مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے نے اس خلائی جہاز کو ورجین اسپیس شپ کا نام دیا ہے جب کہ گروپ کے سربراہ سر رچرڈ برینسن کا کہنا ہے کہ دیگر کمپنیوں کے ساتھ ملکر انہوں نے ایک خواب کو حقیقت کے قریب لے آئے ہیں جس سےزمین پررہنے والوں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خوبصورت اسپیس شپ مشترکہ کوششں کا ایک بہترین نتیجہ ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس خلائی جہاز میں دو پائیلٹ اور 6 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی جبکہ اس طرح کے دو جہاز بنا لیے گئے ہیں جو مسافروں کو خلا میں لے جائیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب ان جہازوں کو زمین اور آسمان کی وسعتوں پر آزمایا جائے گا اور پھر اسے اسپیس اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسی کمپنی کی بنائی گئی اسپیش شپ ٹو 2014 میں دوران سفر خلا میں پہنچنے سے قبل ہی پھٹ گئی تھی۔