- الإعلانات -

جرائم پیشہ افراد iPhone کا زیادہ استعمال کرتے ہیں "امریکہ”

امریکی قانون نافذ کرنے والے گروپ نے عدالت کو بتایا ہے کہ بعض جرائم پیشہ افراد غلط کاموں کے ارتکاب کے لیے ‘آئی فونز’ کو اس لیے پسند کرتے ہیں، کیوں کہ ان کی انکرپشن (encryption) بہت طاقتور ہوتی ہے.

کس موبائل کی مضبوط انکرپشن سے مراد اس کے ڈیٹا اور پیغامات سمیت دیگر معلومات کا نہایت محفوظ ہونا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف اور آئی فون بنانے والی کمپنی ‘ایپل’ کے درمیان جاری مقدمے کی سماعت کے دوران قانون نافذ کرنے والے گروپ نے عدالت کو بتایا کہ ایسے بہت سے واقعات ہیں، جن میں وہ جرائم پیشہ افراد جو پہلے دیگر فونز استعمال کیا کرتے تھے، اب آئی فونز کی جانب متوجہ ہوگئے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی مخصوص واقعہ نہیں بتایا گیا.

فیڈرل لاء انفورسمنٹ آفیسرز ایوسی ایشن اور دیگر نے 2015 میں نیویارک میں جیل حکام کی جانب سے ڈی کوڈ کی گئی ایک فون کال کا حوالہ دیا، جس میں ایک قیدی نے ایپل کمپنی کے آپریٹنگ سسٹم کو ‘خدا کا تحفہ’ قرار دیا.

واضح رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں فائرنگ کے نتیجے میں 14 افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد حکومت نے ایک عدالتی حکم نامہ حاصل کیا تھا، جس میں ایپل کمپنی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ واقعے کے ایک حملہ آور کے فون کے ڈیٹا اور پاس ورڈ تک رسائی کے لیے سافٹ ویئر بنائے.

تاہم ایپل کمپنی نے یہ حکم یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی اور یہ صارفین کی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہوگی.

جس کے بعد رواں ہفتے گوگل، فیس بک اور مائیکروسافٹ سمیت دو درجن سے زائد کمپنیوں نے ایپل کمپنی کی حمایت میں قانونی درخواستیں دائر کیں.

قانون نافذ کرنے والے گروپ نے عدالت کو بتایا کہ ایپل کا یہ موقف پورے ملک میں تحقیقات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے.

فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے مطابق 2 دسمبر 2015 کو سان برنارڈینو میں معذوروں کے ایک سینٹر کے عملے کی پارٹی پر فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کرنے والے رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک عسکریت پسندوں سے متاثر تھے. پولیس کارروائی میں حملہ آور میاں بیوی کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا.

بعدازاں ایف بی آئی نے ایپل کمپنی سے رضوان فاروق کے فون ڈیٹا تک رسائی کا مطالبہ کیا، تاکہ اس کے عسکریت پسندوں سے تعلقات کی تحقیقات کی جاسکے.

جمعرات کو سماعت کے دوران سان برنارڈینو کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت 911 پر موصول ہونے والی کم از کم 2 فون کالوں میں بتایا گیا کہ حملہ اور تین تھے.

ڈسٹرکٹ اٹارنی کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس ‘مصدقہ’ نہیں ہیں، لیکن اگر حقیقت میں حملہ آور 3 ہی تھے تو آئی فون کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے ‘ابھی تک نامعلوم افراد’ کی شناخت کی جاسکتی ہے.

دوسری جانب ایپل کا کہنا تھا کہ وہ ایف بی آئی کا احترام کرتی ہے اور اس نے اپنی ملکیت میں موجود ڈیٹا کی حوالگی کے حوالے سے تعاون کیا ہے.

تاہم ایپل کا کہنا تھا کہ حالیہ درخواست اس حوالے سے مختلف ہے کیوں کہ اس میں آئی فون کو اُس سافٹ ویئر ٹول کی مدد سے کریک کرنے کو کہا جارہا ہے جس کا ابھی تک کوئی وجود ہی نہیں ہے.