- الإعلانات -

کروشیائی نوجوان کا کارنامہ

سپر الیکٹرک کار: کروشیائی نوجوان کا کارنامہ

کروشیا کے شہری، اٹھائیس سالہ ماٹ ریماک نے شوق کی خاطر الیکٹرک کار بنانا شروع کی تھی لیکن اب اس کی ’الیکٹرک سپر کار‘ عالمی سطح پر ستائش حاصل کر رہی ہے۔

ماٹ ریماک نے پہلی مرتبہ اپنے گھر کے گیراج میں الیکٹرک کار بنانے کی کوشش کی تھی

ماٹ ریماک نے پہلی مرتبہ اپنے گھر کے گیراج میں الیکٹرک کار بنانے کی کوشش کی تھی۔ تب وہ بی ایم ڈبلیو کار کا شوقین تھا لیکن اچانک جب اس کی کار کا انجن خراب ہو گیا تو اس نے اسی کار کو الیکٹرک کار میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے انٹر نیٹ سے پرزے خریدے اور ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔

ایک عشرے بعد اس کی فرم ’ریماک آٹو موبائل‘ ایک عالمی لیڈر کے طور پر ابھرنا شروع ہو گئی۔ ریماک کی ‘کانسپٹ ون سپر کار‘ ساڑھے آٹھ لاکھ یورو مالیت کی ہے۔ جب اس کی پہلی کار فروخت ہوئی تو اسے کروشیا میں اپنے بزنس کو مزید ترقی دینے کا موقع دستیاب ہوا۔

ریماک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم دنیا میں ایک بہترین کمپنی بننا چاہتے ہیں۔ جو ہم کر رہے ہیں، اس سے دنیا تبدیل ہو سکتی ہے۔‘‘

کروشیا کے دارالحکومت زغرب کے نواح میں واقع Sveta Nedelja نامی علاقے میں اپنے فیکٹری شو روم میں موجود ریماک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اس کام کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

الیکٹرک اسپورٹس کار کی پیچیدہ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا اور 4.3 ملین آبادی والے چھوٹے سے ملک میں سرمایہ جمع کرنا ریماک کے لیے کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس نے 2009ء میں اپنی فرم کی بنیاد رکھی تھی۔ اس زمانے میں بھی وہ الیکٹرک سپر کار بنانے کا مصمم ارادہ رکھتا تھا۔ ریماک کے بقول، ’’پہلے ہم نے ٹیم بنائی، پھر سعی و خطا سے کام کرنا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ ہم نے اپنی غلطیوں کو دور کیا اور ایک کار بنانے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

ریماک نے پہلی مرتبہ سن 2011 میں فرینکفرٹ کے کار میلے میں اپنی ’کانسپٹ ون کار‘ نمائش کے لیے رکھی۔ تب کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کروشیا جیسے ملک میں بھی کوئی ایسی الیکٹرک کار بنا سکتا ہے، جو 2.8 سکینڈ میں ہی ایک سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو پہنچ سکتی ہے۔

حال ہی میں ہی ریماک نے جنیوا انٹرنیشنل موٹر شو کے دوران ایک نئی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی، جسے اس نے ’کانسپٹ ایس‘ کا نام دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ریماک کی یہ نئی کار مزید بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ بنائی گئی ہے۔

ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ ریماک اپنی کامیابی کے بعد سیلیکون ویلی، جرمنی یا اٹلی منتقل ہو جائیں گے تاکہ وہ اپنی کمپنی کو مزید ترقی دیں سکیں لیکن انہوں نے کروشیا میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ چھ سالہ کساد بازاری کی وجہ سے کروشیا کی اقتصادیات شدید متاثر ہوئی لیکن ریماک نے اپنا فیصلہ نہ بدلا۔