- الإعلانات -

چین میں’گرین کاروں‘ کی مانگ بڑھ گئی

حکومتی سبسڈی کے باعث چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کار مارکیٹ چین میں کامیاب تجربہ اس ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں مقبول بنا سکتا ہے۔

چین میں گزشتہ برس چوبیس ملین نئی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں، جن میں صرف 33 لاکھ کے قریب الیکٹرک یا ہائبرڈ کاریں تھیں

اگرچہ چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب اب بھی کوئی بہت زیادہ نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک برس سے ان ’گرین کاروں‘کی مانگ میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس شعبے میں چینی حکومت کی طرف سے دی جانے والی مختلف مراعات ہیں۔ بیجنگ کی کوشش ہے کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی سے بالخصوص شہری علاقوں میں ہوا میں موجود آلودگی کو ختم کیا جائے

آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ کار ساز اداروں نے اگر اپنی اس نئی ٹیکنالوجی کو چین میں کامیاب بنایا دیا تو دیگر ممالک بھی الیکٹرک کاروں کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ ایرنسٹ اینڈ یونگ آٹو ایکسپرٹ ژاں فرانسوا بیلورگی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی کامیابی کی صورت میں اس کی خرید میں اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں اس ٹیکنالوجی کی قیمیت بھی گرے گی۔ یوں یہ کاریں دیگر ممالک کے عوام کے لیے بھی مناسب داموں پر دستیاب ہو سکیں گی۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ فی الحال یہ الیکٹرک کاریں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ انہیں چارج کرنے کی سہولت بھی عام نہیں ہے۔ بیلورگی کا البتہ کہنا ہے کہ چین میں آلودگی کی سطح اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اب بیجنگ کے پاس اس ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

یہ ایک الگ بات ہے کہ چین میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ کوئلے کا جلانا ہے لیکن گاڑیوں سے خارج ہونے والی ضرر رساں گیسیں بھی ہوا کو زہریلا کرنے کی باعث بن رہی ہیں۔

چین میں گزشتہ برس مجموعی طور پر چوبیس ملین نئی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں، جن میں صرف 33 لاکھ کے قریب الیکٹرک یا ہائبرڈ کاریں تھیں۔ تاہم بیجنگ کا منصوبہ ہے کہ 2020 ء تک پانچ ملین الیکٹرک کاریں فروخت کر دی جائیں۔اس مقصد کے لیے چین کی کار ساز کمپنیاں فعال ہو چکی ہیں۔

چینی کارساز کمپنی Geely کا کہنا ہے کہ وہ دو ہزار بیس تک الیکٹرک کاروں کی سیل میں نوّے فیصد کا اضافہ کرے گی۔

بیجنگ کی کوشش ہے کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی سے بالخصوص شہری علاقوں میں ہوا میں موجود آلودگی کو ختم کیا جائے

یہ امر اہم ہے کہ چین میں اس ٹیکنالوجی میں دی جانے والی مراعات صرف ملکی برانڈز کو حاصل ہوں گی۔ اس رکاوٹ کے باوجود غیر ملکی ساز ادارے چین میں سرمایا کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فرانسیسی کار ساز ادارے Renault کے علاوہ امریکی موٹر ساز کمپنیاں جنرل موٹرز اور فورڈز، جرمن کار ساز ادارہ مرسیڈیز بھی چین میں الیکٹرک کاروں کی فروخت میں دل چسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

تاہم اس تمام پیش رفت پر کچھ ماحول دوست کارکنان کو تحفظات بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں الیکٹرک کاروں کو چارج کرنے کے لیے زیادہ تر بجلی کوئلہ جلا کر حاصل کی جاتی ہے جب کہ چین میں کوئلے کو جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی ہی سب سے برا مسئلہ ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر یہ الیکٹرک کاروں کو چارج کرنے کے لیے بجلی کوئلے سے جلنے والی پاور پلانٹس سے حاصل کی جائے گی تو خارج ہونے والی آلودگی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہو جائے گی۔