- الإعلانات -

انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تاریخی جنگ

جنوبی کوریا میں انسان اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے درمیان تاریخی جنگ کے لیے گو نامی عالمی چیمپیئن شپ میں اس کھیل کے عالمی چیمپیئن کو ان کے کمپیوٹر نے سخت مقابلے کے بعد شکست دے دی ہے۔

سیؤل میں منعقد کرائے جانے والے اس مقابلے میں گوگل کے ڈیپ مائینڈ الفا گو پروگرام نے پانچ مرحلوں کے پہلے مرحلے میں جنوبی کوریا کے لی سی ڈول کو شکست دی۔

اکتوبر سنہ 2015 میں ہونے والے مقابلے میں الفاگو نے یوروپیئن گو چیمپیئن کو شکست دی تھی اور یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

سیؤل میں بی بی سی نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ لی سی ڈول کھیل کے دوران ’نروس، آہیں بھرتے اور اپنا سر ہلاتے ہوئے‘ دیکھے گئے۔

کھیل کے بیشتر حصے میں لی سی ڈول کو کمپیوٹر پر سبقت حاصل رہی تاہم آخری 20 منٹ میں الفاگو نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔

اس سے قبل 1997 میں ڈیپ بلو نامی ایک کمپیوٹر پروگرام نے شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کاسپاروف کو ہرا دیا تھا، لیکن چینی گیم گو شطرنج سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

مسٹر لی اور الفاگو کے درمیان پہلا مقابلہ مقامی وقت کے مطابق ایک بجے دن میں شروع ہوا اور یہ کئی گھنٹے تک جاری رہے گا اور اسے براہ راست یو ٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے۔

میچ کی ابتدا میں ’مسٹر لی بدحواس نظر آ رہے تھے اور زور سے سانسیں لے رہے تھے اور سر ہلا رہے تھے۔‘

دونوں مد مقابل مجموعی طور پر پانچ گیمز کھیلیں گے اور انعامی رقم دس لاکھ امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔

اس پانچ روزہ جنگ کو سائنس دانوں اور انجینیئروں کی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کے میدان میں ابھی تک حاصل ہونے والی کامیابی کی جانچ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

گو تین ہزار سال قدیم چینی کھیل ہے جسے شطرنج سے زیادہ پیچیدہ خیال کیا جاتا ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گو میں یکسر مختلف قسم کا ذہنی چیلنج ہے کیونکہ اس میں بے شمار چالیں چلنے کے امکانات ہیں جس کا مطلب ہے کہ اس میں انسانوں کی طرح جیتنے کا ادراک ہے

مسٹر لی نے  بتایا تھا کہ ’کسی انسان کے برخلاف کسی مشین کے ساتھ کھیلنا بہت مختلف ہے۔ عام طور پر آپ اپنے مخالف کی سانسوں سے ان کی طاقت کا اندازہ لگا لیتے ہیں اور کئی بار آپ ایسے فیصلے کرتے ہیں جو آپ کے مخالف کی جسمانی حرکات پر مبنی ہوتا ہے۔

’لیکن ایک مشین کے ساتھ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘

گوگل کے الفاگو کو برطانوی کمپیوٹر کمپنی ڈیپ مائنڈ نے تیار کیا ہے جسے گوگل نے سنہ 2014 میں خریدا تھا۔

ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیمس ہیسابس نے  بتایا کہ ’یہ اپنی خامیوں سے سبق سیکھتا ہے‘ اور اب یہ پہلے کے سوپر کمپیوٹر سے زیادہ مضبوط ہے جس نے یوروپیئن چیمپیئن کو شکست دی تھی۔