- الإعلانات -

اسٹیم سیلز سے آنکھوں کے لینس بنانے کا کامیاب تجربہ

پیرس: روزبروز دھندلی ہوتی نظر اور نابینا پن میں مبتلا مریضوں کی بینائی اب جلد بحال ہونے کی اُمید پیدا ہوگئی ہے کیونکہ مریضوں کے اسٹیم سیلز سے آنکھوں کے لینس اور قرنیہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی سائنسی جریدے کے مطابق سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے تجربہ گاہ میں اسٹیم سیل کے ذریعے انسانی آنکھ کا لینس اور دوسری ٹیم نے قرنیہ (کورنیا) بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کی جانب سے ان دونوں رپورٹوں کو بہت اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس سے اسٹیم سیل کے ذریعے دوبارہ نمو ( ری جنریشن) اور علاج کی راہ ہموار ہوگی۔ آنکھ کا قرنیہ اور لینس شفاف ہوتا ہے اور بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے یہ دھندلا جاتا ہے جس کے بعد انہیں کسی سے عطیہ لیا جاتا ہے یا پھر مصنوعی لینس لگایا جاتا ہے لیکن اکثر مریض کے جسم کا دفاعی نظام دوسرے شخص کا قرنیہ یا لینس مسترد کردیتا ہے اور مصنوعی لینس بھی ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس کے برخلاف اسٹیم سیل خود مریض کے جسم سے لیے جاتے ہیں اور بہت کم مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسٹیم سیلز (خیلاتِ ساق) ایسے ابتدائی سیلز ہوتے ہیں جو ہر طرح کے خلیات میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خواہ وہ جگر کے خلیات ہوں یا دماغ کے ہوں۔ لیکن اب انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز ( آئی پی ایس سی) کے عمل میں فروغ پانے والے خلیات کو دوبارہ ان کی پہلی حالت میں لایا جاتا ہے اور ان سے مختلف قسم کے خلیات بنائے جاسکتے ہیں جن میں آنکھ کے مخلتف حصے کے خلیات بھی شامل ہیں۔