- الإعلانات -

مریخ پر میتھن گیس کی تلاش

بینکوور: زمین پر موجود میتھن کے ذخیرے کہاں سے آئے یہ وہ سوال ہے جس نے سائنس دانوں کو پریشان کردیا ہے جب کہ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ عنصر مریخ سے زمین پر آیا اور اب اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے یورپ اور روس نے ایک مشن مریخ روانہ کردیا ہے۔

مریخ کی جانب سفر کرچنے والے اس سیٹلائٹ کو ’’ایکسو مارس ٹراس گیس آربٹر‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس نے قازقستان کے خلائی اسٹیشن بیکور سے اڑان بھری جب کہ اس مشن کے دوران اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ زمین پر میتھن گیس جیولاجیکل ذریعے یا پھر مائیکروب سے وجود میں آرہی ہے اور ایسا کب سے ہورہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو اس کے فوری بعد برطانیہ میں تیارکردہ 2 مزید تحقیقاتی روبوٹ خلا میں روانہ کیے جائیں گے جن کی روانگی 2018 یا پھر 2020 تک متوقع ہے۔

مریخ پر جانے والا مشن 10 گھنٹوں کے سفر کے بعد راکٹ سے مریخ کے راستے پر آجائے گا جس دوران سیٹلائٹ کے انجن پروٹون بریز سے جلیں گے جو اسے زمین کی کشش سے باہر نکل جانے میں مدد دیں گے جس کے بعد وہ 33 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے مریخ کی جانب بڑھے گا۔ اگر سب کچھ کامیابی سے ہوا تو یہ مشن 7 ماہ بعد یعنی 19 اکتوبر کو مریخ پر لینڈ کرے گا اور وہاں ایک نیا اور جدید ماڈیلو ’’شیاپریلی‘‘ نصب کردے گا جو وہاں سے معلومات زمین پرروانہ کرے گا۔

اس سے قبل روس نے مریخ کی جانب 19 سیٹلائیٹ روانہ کیے تھے لیکن ان میں سے اکثر ناکام رہے اور کچھ تو زمین سے اپنی پرواز ہی نہ بھر سکے جب کہ کچھ زمین کے مدار سے نکل جانے کے بعد واپس زمین پر گر گئے۔