- الإعلانات -

پہلی بار سائنسدان کیڑے کے سائز کا روبوٹ تیار کرنے میں کامیاب

گزشتہ چند سال میں سائنسی تحقیق میں اس قدر اہم پیش رفت ہوئی ہیں کہ انسان خود بھی حیران ہے کہ نئی سائنسی تحقیقات دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیں گی۔

اور حال ہی میں امریکی ماہرین کی جانب سے تخلیق کیے گئے کیڑے کے سائز جیسے از خود بنتے، ٹوٹتے اور پھر خود ہی بن جانے والے روبوٹ کی تیاری سے سائنسدان خود بھی حیران رہ گئے۔

جی ہاں، امریکا کی یونیورسٹی آف ورمونٹ اور ٹفٹس یونیورسٹی کے ماہرین نے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک انتہائی چھوٹا روبوٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کسی کیڑے مکوڑے کی طرح ہی ہے۔

سائنس جرنل ’پی این اے ایس‘ میں شائع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں امریکی یونیورسٹی کے ماہرین نے محض نصف انچ سے بھی چھوٹے ایسے روبوٹ تیار کرلیے ہیں جن کی شکل کیڑے مکوڑوں جیسی ہی ہے۔

مذکورہ روبوٹس کو کمپیوٹرائزڈ اور مصنوعی ذہانت کی حامل مشین کی مدد سے تیار کیا اور ان روبوٹس کو افریقا میں پائے جانے والے خصوصی مینڈک کی خلیات سے تیار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے افریقا میں پائے جانے والے ’کلاڈ مینڈک‘ کے اسٹیم سیل سے لیے گئے خلیات سے مذکورہ روبوٹس بنائے اور انہیں ’زینوبوٹس‘ کا نام دیا گیا ہے جو درحقیقت ایک مشین ہے مگر ان کی شکل اور جسامت حشرات کی طرح کی ہے۔

ماہرین نے خلیات کو خاص طرح کی مشین میں ایک دوسرے سے ملایا—اسکرین شاٹ/یوٹیوب
ماہرین نے خلیات کو خاص طرح کی مشین میں ایک دوسرے سے ملایا—اسکرین شاٹ/یوٹیوب

یونیورسٹی آف ورمونٹ کی جانب سے مذکورہ روبوٹس کی تیاری کی جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح سائنسدانوں نے خلیات کی مدد سے حشرات کی جسامت اور شکل کے چلتے پھرتے اور سانس لیتے روبوٹ تیار کیے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماہرین خلیات کو ایک خاص طرح کی مشین میں ایک دوسرے سے ملاتے ہیں جس کے بعد مذکورہ خلیات ایک خاص طرح کی انتہائی چھوٹی مشین میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو حشریات کی طرح دکھائی دیتی ہے اور کیڑے مکوڑوں کی طرح ہی کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جاندار کے خلیات سے دوسری مصنوعی جاندار مخلوق بنائی گئی ہے تاہم خلیات سے بنائی گئی مخلوق جاندار نہیں بلکہ ایک مشین ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیات سے تیار کیے گئے انتہائی چھوٹے روبوٹ انسانی جسم کے اندر بھی جا کر کام کر سر انجام دے سکتے ہیں جب کہ یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ انہیں بعض اوقات انسان کی نسوں میں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے افریقا میں پائے جانے والے مینڈک سے خلیات حاصل کیے—فوٹو: انوو میگزین
ماہرین نے افریقا میں پائے جانے والے مینڈک سے خلیات حاصل کیے—فوٹو: انوو میگزین

سائسندانوں نے بتایا کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح بنائے گئے جیتے جاگتے روبوٹس کی خاص بات یہ ہےکہ مذکورہ روبوٹس اگر کہیں پھنس کر خراب ہوجائیں تو وہ خود کو ہی تعمیر کرلیتے ہیں اور وہ خود ہی اپنی مرمت کرکے دوبارہ کام شروع کردیتے ہیں۔

کیڑے مکوڑوں کی طرح دکھائی دینے والے انتہائی چھوٹے مذکورہ روبوٹس کو ماحول دوست بھی قرار دیا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر مذکورہ روبوٹ کہیں انتہائی مشکل جگہ پھنس کر ٹوٹ بکھر جائیں تو وہ وہیں ہی گل سڑ جائیں گے اور ماحول کو خراب نہیں کریں گے۔

یعنی اگر مذکورہ روبوٹ انتہائی بری طرح پھنس کر ٹوٹ جائیں اور وہ اپنی مرمت کرنے کے قابل بھی نہ رہیں تو وہ ازخود گل سڑ کر بکھر جائیں گے جیسے وہ کوئی وجود رکھتے ہی نہیں تھے۔

امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ مذکورہ روبوٹس کی تیاری سے وہ خود بھی حیران ہیں اور وہ انسانیت اور دنیا کا مستقبل سمجھنے اور مذکورہ روبوٹس کے انسانیت پر اثرات جاننے سے قاصر ہیں۔