- الإعلانات -

ایسی بوتل جو اپنا وجود خود ہی ختم کر دیتی ہے

آئس لینڈ کے طالب علم نے دنیا کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جو کچھ دیر بعد ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔آئس لینڈ میں ڈیزائننگ کے طالب علم ایری جانسن کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کا کچرا ایک وبال بن چکا ہے جس کے لیے سرخ الجی سے تیار کردہ اس کا اپنا بنایا ہوا پلاسٹک ایک اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ جانسن کے مطابق جب انہوں نے یہ سنا کہ دنیا میں بنائے جانے والی پلاسٹک کی نصف مقدار ہی ری سائیکل ہوتی ہے اور اس کے بعد اسے بھی ماحول میں پھینک دیا جاتا ہے، اس پلاسٹک کو سادہ اجزا میں ٹوٹ کر بکھرنے میں سینکڑوں سال کا عرصہ درکار ہوگا اور یوں وہ صدیوں تک ماحول دشمن بنارہے گا۔اس کے لیے ایری جانسن نے پلاسٹک بنانے کے لیے کئی اہم مادوں کو آزمایا تاکہ اس سے پانی کی بوتل بنائی جاسکے۔ آخر کار ان کی نظر ایک پاو¿ڈر اگر پر پڑی جسے سرخ رنگ کی الجی سے حاصل کیا جاتا ہے، اس میں پانی ملاکر جیلی نما شے بنائی گئی، بوتل کے سانچے میں ڈھالا اور اسے ٹھنڈا کردیا۔ طالب علم کی بنائی ہوئی اس پلاسٹک کی بوتل میں جب تک پانی رہتا ہے یہ اپنی صورت برقرار رکھتی ہے اور پانی ختم ہوتے ہی یہ پگھلنا شروع ہوجاتی ہے جسے بایو ڈگریڈیبل مٹیریل کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بوتل قدرتی اجزا سے بنائی گئی اسی لیے اس میں پانی پینا صحت کے لیے مضر نہیں۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو بوتل کو چباکر چکھ بھی سکتے ہیں۔