- الإعلانات -

ٹائیگر فورس کے ہزاروں رضاکاروں کی ذاتی معلومات آن لائن لیک

کراچی: کورونا ریلیف ٹائیگر فورس (سی آر ٹی ایف) میں اپنا اندراج کروانے والے ہزاروں رضاکاروں کے قومی شناختی کارڈ اور فون نمبر سمیت ذاتی معلومات آن لائن شیئر ہورہی ہیں۔

ٹائیگر فورس نے ملک بھر میں آج (پیر) سے اپنے کام کا آغاز کرنا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ڈیٹا شیئر ہونے کی رپورٹس اتوار کو سامنے آئیں۔

سائبر تجزیہ کار زکی خالد نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کے قومی شناختی کارڈ اور موبائل نمبر سمیت ذاتی معلومات کی پی ڈی ایف فائلز اور تصاویر غیر قانونی طور پر غیر سرکاری واٹس ایپ گروپ میں آسانی سے شیئر کی جارہی ہیں‘۔

دستیاب ہونے والی دستاویز میں ان رضاکاروں کی معلومات شامل تھیں جنہوں نے مبینہ طور پر پنجاب کے اضلاع قصور، خوشاب، پسرور، چونیاں اور پتوکی سے اپنا اندراج کروایا۔

واٹس ایپ گروپ میں ٹائیگر فورس کے اراکین کی شیئر ہونے والی ذاتی معلومات کی فائلز میں ایک دستخط شدہ حکم نامہ بھی ہے جو مبینہ طور پر پسرور کے اسسٹنٹ کمشنر کا جاری کردہ ہے۔

28 اپریل کو جاری ہوئے حکم نامے میں کہا گیا کہ ’ٹائیگر فورس کے مذکورہ اراکین اپنے ناموں کے آگے درج یوٹیلیٹی اسٹورز پر موجود ہوں گے‘۔

اس دستاویز میں نہ صرف رضاکاروں کے قومی شناختی کارڈ، رابطے کی معلومات شامل ہیں بلکہ تحصیل، یونین کونسل، عمر، پیشہ، قابلیت، ہنر اور رجسٹریشن کا اسٹیٹس بھی درج ہے۔

قصور کی فہرست میں 8 ہزار افراد کی تفصیلات، پسرور سے 4 ہزار 29، خوشاب سے 2 ہزار، پتوکی کی دستاویز 123 اور چونیاں کی دستاویز 172 صفحات پر مشتمل تھی۔

اب تک حکومت کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہ ہوسکی کہ کیا یہ دستاویزات حقیقی ہیں۔

ڈان کو ذرائع نے بتایا کہ اس قسم کی معلومات ڈپٹی کمشنر کو فراہم کی جاتی ہیں جنہیں اب نجی معلومات آگے بڑھانے کے حوالے سے خبردار کردیا گیا ہے۔

دستاویز فراہم کرنے والے سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کی ان فہرستوں تک کس طرح رسائی ہوئی تو انہوں نے جواب دیا کہ اسے ایک دوسرے واٹس ایپ گروپ سے موصول ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فہرستیں بآسانی دستیاب ہیں۔

قبل ازیں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نوجوانان عثمان ڈار نے کہا تھا کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے لیے تقریباً 10 لاکھ افراد نے اپنا اندراج کروایا ہے جس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، ریٹائرڈ فوجی اور دیگر شامل ہیں۔

معاون خصوصی کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرنے والوں میں 3 لاکھ طلبہ، ایک لاکھ 33 ہزار سماجی کارکنان، 50 ہزار ڈاکٹرز، 40 ہزار اساتذہ اور 17 ہزار طبی کارکنان شامل ہیں۔