- الإعلانات -

ایک دہائی بعد امریکی سر زمین سے خلانورد خلا میں روانہ

تاریخ میں پہلی بار نجی کمپنی کی خلائی گاڑی کے لیے تقریبا ایک دہائی بعد امریکا سے 2 خلانوردوں کو عالمی خلائی اسٹیشن بھیج دیا گیا اور وہ اس وقت کامیابی سے زمین کی کشش ثقل سے بھی نکل چکے ہیں اور وہ کچھ ہی گھنٹوں بعد اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔

امریکی سر زمین سے آخری بار 2011 میں خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن بھیجا گیا تھا جس کے بعد امریکی تحقیقی ادارے (ناسا) کی خلانوردوں کو خلا میں لے جانے والی گاڑی کو ریٹارئرڈ کردیا گیا تھا۔

گزشتہ 9 سال سے امریکا اپنے خلانوردوں کو روس کی گاڑیوں کے ذریعے قازقستان میں بنے اسپیس اسٹیشن سے بھیج رہا تھا اور اس ضمن میں امریکا سالانہ اربوں ڈالر کی رقم روس کو فراہم کر رہا تھا۔

لیکن اب تقریبا ایک دہائی بعد امریکا نے خلا میں خلانوردوں کو بھیجنے کے لیے ایک بار پھر اپنی سر زمین کا استعمال کرتے ہوئے نجی خلائی تحقیقاتی کمپنی اسپیس ایکس کی خلائی گاڑی کریو ڈریگن نامی راکیٹ یا جہاز کے ذریعے خلانوردوں کو خلا میں بھیج دیا۔

ناسا اور اسیپس ایکس کے اس تاریخی مشترکہ منصوبے کا افتتاح 30 اور 31 مئی کی درمیان شب تقریبا ڈیڑھ بجے کیا گیا اور خلانوردوں کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلا میں روانہ کیا گیا۔

کینیڈی اسپیس سینر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں تاریخی مشن کے آغاز کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ناسا اور اسپیس ایکس نے بھی کریو ڈریگن کے کامیاب سفر پر خوشی کا اظہار کیا اور ناسا نے اس بات کی تصدیق بھی کردی کہ ڈریگن خلائی گاڑی کی لانچ سے تقریبا 30 منٹ بعد اور زمین سے 300 کلومیٹر کی اونچائی سے راکٹ خلائی گاڑی سے خود الگ ہوکر سمندر میں موجود اسپیس ایکس کی کشتی پر آ گیا اور اسی راکیٹ کو دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

خلائی گاڑی 19 گھنٹوں میں اپنا مدار بتدریج بڑا کرتے کرتے پاکستانی ٹائم کے مطابق 31 مئی کی شام 7 بجے تک عالمی خلائی سٹیشن سے جڑ جائے گی، اس کے بعد مشن کنٹرول ٹیم کی اجازت کے بعد خلائی گاڑی اور عالمی خلائی اسٹیشن کا درمیانی دروازہ کھولا جائے گا اور اس طرح امریکی خلاباز اپنی سرزمین سے لانچ ہونے کے بعد اپنا سفر مکمل کریں گے۔

ابتدائی طور پر یہ تاریخی مشن 3 دن قبل 27 مئی کو شروع ہونا تھا مگر موسم کی خرابی کے باعث مشن کو تین دن کی تاخیر کے بعد روانہ کیا گیا۔

ناسا اور اسپیس ایکس نے خلائی گاڑی کریو ڈریگن کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے اسکیپ سسٹم کے ذریعے خلا میں بھیجا، اس اسکیپ سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اگر اتفاق سے خلا پر جانے کے دوران درمیان میں ہی راکٹ کے اسٹیجز میں خرابی ہوجاتی ہے تو اس راکٹ میں موجود ڈریگن خلائی گاڑی خود کو راکٹ سے الگ کرکے خلابازوں کو لے کر زمین پر واپس آسکتی ہے اور ساتھ ہی اس سسٹم موجود لانچ ابورٹ سسٹم کی مدد سے ڈریگن خلائی گاڑی میں بیٹھے خلابازوں کو کچھ نہیں ہوگا اور وہ پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر آسکیں گے۔

خلا میں بھیجی گئی گاڑی میں یوں تو مجموعی طور پر 7 افراد کے سفر کرنے کی گنجائش ہے مگر اس میں محض 2 خلانوردوں باب بہنکن اور ڈو ہرلے کو بھیجا گیا اور ان کے ساتھ گاڑی میں خلائی اسٹیشن کے لیے سامان کو بھی بھجوایا گیا۔

یہ گاڑی مجموعی طو پر 20 گھنٹے بعد عالمی خلائی اسٹیشن پہنچے گی، اس گاڑی میں جانے والے خلانورد ماضی میں بھی عالمی خلائی اسٹیشن جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر دونوں تقریبا ایک ماہ کے عرصے تک خلائی اسٹیشن میں قیام بھی کر چکے ہیں۔

ناسا کا پہلے یہ خیال تھا کہ ان دونوں خلابازوں کو عالمی خلائی اسٹیشن میں تقریبا دو ہفتوں کے لیے بھیجا جائے گا لیکن اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ یہ دونوں خلاباز 3 مہینوں کے لیے عالمی خلائی اسٹیشن میں رہیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں مختلف طرح کے سسٹمز کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ڈو ہرلے خلائی چہل قدمی (عالمی خلائی اسٹیشن سے باہر آ کر اس کے سسٹم کی جانچ کرنا) بھی کریں گے۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ مذکورہ دونوں خلابازوں کو کورونا وائرس کے پیش نظر 3 ہفتے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور یہ اس لیے کیا گیا کہ اگر ان خلابازوں کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن میں موجود روسی اور امریکی خلابازوں تک یہ وائرس پہنچ گیا تو وہاں کورونا وائرس کی طبی سہولیات فراہم کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ پاکستان نے بھی ٢٠١٨ میں اعلان کیا ہے کہ وہ بھی اپنا خلاباز خلا میں بھیجے گا لیکن موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات صاف کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان اس خلائی دوڑ میں بہت پیچھے ہونے کے ساتھ ساتھ خستہ حالی کا شکار بھی ہے اس لئے ابھی پاکستان کی طرف سے خلائی میدان میں پیش رفت کا سوچنا بھی ایک ‘تمنا’ سے بڑھ کر کچھ نہ ہوگا۔

دونوں خلانورد پہلے بھی خلائی اسٹیشن جا چکے ہیں—فوٹو: ناسا