- الإعلانات -

چین کی ریڈیو دوربین خلائی مخلوق تلاش کرنے کے لیے تیار

کیا دنیا سے باہر بھی زندگی موجود ہے اور ایلینز کو تلاش کیا جاسکتا ہے؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کے جوابات کے لیے چین میں واقع دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی اسکوپ ستمبر سے کام شروع کردے گی۔

دنیا کی اس سب سے بڑی ریڈیو دوربین کی تعمیر 2016 میں مکمل ہوئی تھی مگر اس نے جنوری سے باضابطہ طور پر عام سائنسی امور کے لیے کام شروع کیا تھا۔

چینی میڈیا سائٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی نے بتایا کہ چین کی یہ ریڈیو دوربین جسے فاسٹ کا نام دیا گیا ہے، ستمبر سے خلائی سگنلز کی تلاش شروع کردے گی۔

اس مقصد کے لیے ٹیلی اسکوپ میں اپ گریڈز کی جارہی ہیں جو مداخلت کے امکان کو کم جبکہ تلاش میں معاونت فراہم کریں گی۔

یہ دوربین صوبہ گوانگزو کے جنوب میں تعمیر کی گئی تھی جس پر 180 ملین ڈالرز لاگت اور 5 سال لگے، جبکہ اس کا قطر 500 میٹر ہے، اور اس نے پیورٹو ریکو میں واقع سابقہ دنیا کی سب سے بڑی دوربین کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

جیسا اوپر لکھا جاچکا ہے کہ اس کا قطر 500 یٹر ہے مگر اب تک 300 میٹر قطر پر ہی کام کیا گیا ہے۔

چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق کی تلاش سے معمول کے سائنسی مشنز متاثر نہیں ہوں گے تاہم مستقبل قریب میں کسی نمایاں پیشرفت کا امکان نہیں۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ اگرچہ چند دلچسپ خلائی سگنلز کو دیکھا گیا ہے مگر انہیں لگتا کہ وہ کسی ذہین مخلوق کی جانب سے بھیجے گئے۔

2016 میں اس دوربین کی تعارفی تقریب کے موقع پر چائنیر اکیڈمی آف سائنسز کے ایسوسی ایٹ ریسرچر کیان لی نے کہا تھا ‘ اس دوربن کا اصل مقصد کائنات کی تشکیل کے قوانین کو دریافت کرنا ہے۔”۔

واضح رہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں خلائی مشنز پر تحقیق کو بڑھایا ہے اور چاند کے تاریک حصے میں مشن بھیجنے میں کامیابی کے بعد وہ رواں سال جولائی میں مریخ پر بھی ایک مشن بھیج رہا ہے۔