- الإعلانات -

ٹوئٹر کے بعد اسنیپ چیٹ کا بھی امریکی صدر کے خلاف فیصلہ

اسنیپ چیٹ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے ٹوئٹر کی حمایت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کے خلاف اعلان کیا ہے۔

اسنیپ چیٹ کے سی ای او ایون اسپیگل نے ملازمین کے لیے جاری ایک میمو میں کہا کہ ہم اب امریکا میں ایسے اکاؤنٹس کو پروموٹ نہیں کریں گے جو نسل پرستانہ تشدد کے لیے لوگوں کو اکساتے ہوں، چاہے وہ ایسا ہمارے پلیٹ فارم میں نہ بھی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسنیپ چیٹ کے ڈسکور پیج ایسا پیج ہے جہاں کمپنی فیصلہ کرتی ہے کہ وہاں کیا کچھ دکھانا ہے اور ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ نسل پرستی ، تشدد اور ناانصافی کے خلاف گرے ایریا نہیں اور ہم ایسے اکاؤنٹس اور مواد کو اپنے پلیٹ فارم پر سپورٹ نہیں کریں گے۔

انہوں نے امریکی صدر کا نام تو نہیں لیا تھا مگر اس حوالے سے اسنیپ چیٹ کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ہم اب امریکی صدر کے مواد کو اسنیپ چیٹ کے ڈسکور پلیٹ فارم پر پروموٹ نہیں کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم ایسی آوازوں کی تشہیر نہیں کرسکتے جو نسل پرستانہ تشدد اور ناانصافی کے لیے لوگوں کو اکساتے ہوں، ان چیزوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں اور ہم سب ان سب کے ساتھ متحد ہیں جو امن، محبت، مساوات اور انصاف کے خواہشمند ہیں۔

تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ پبلک رہے گا اور ان لوگوں کے لیے قابل رسائی ہوگا جو اسے فالو کررہے ہوں یا سرچ کریں گے۔

امریکی صدر کی جانب سے صدارتی مہم کے لیے اسنیپ چیٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس کا مقصد نوجوان ووٹرز کی توجہ حاصل کرنا ہے اور ان کے اسنیپ چیٹ فالوروز ککی تعداد گزشتہ 8 ماہ کے دوران 3 گنا اضافے کے ساتھ 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

سوشل میڈیا ایپس کی جانب سے حالیہ دنوں میں امریکی صدر کے خلاف ایک جنگ کا آغاز ہوا۔

پہلے ٹوٹر نے امریکی صدر نے 2 ٹوئٹس پر فیکٹ چیک لیبل لگائے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا۔

پھر ٹوئٹر کی جانب سے سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں پر امریکی صدر کے ایک ٹوئٹ کو تشدد کے لیے اکسانے والا قرار دے کر ہائیڈ کردیا تھا۔

دوسری جانب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اپنے پلیٹ فارم سے امریکی صدر کی پوسٹس ہٹانے یا فیکٹ چیک لیبل لگانے سے انکار کردیا۔

ان کے اس موقف پر کمپنی کے متعدد ملازمین نے بھی آں لائن احتجاج کیا۔

اب اسنیپ چیٹ بھی اس تنازع کا حصہ بن گئی ہے اور ٹوئٹر کی حمایت کی ہے۔

اسنیپ چیٹ نوجوانوں میں مقبول ایپ ہے اور اس کے روزانہ متحرک صارفین کی تعداد 22 کروڑ سے زائد ہے۔