- الإعلانات -

آئی فونز کی فروخت میں نمایاں کمی, زاوال شروع

یپل کے اسمارٹ فونز کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے اور ان کی فروخت ریکارڈ توڑ ثابت ہوتی ہے تاہم لگ بھگ ایک دہائی بعد لگتا ہے کہ اس کمپنی خاص طور پر دنیا کے مقبول ترین موبائل فون کے زوال کا سفر شروع ہوگیا ہے۔

جی ہاں 2007 میں متعارف ہونے والے آئی فون کے بعد اب پہلی بار ایپل کے نئے آئی فونز کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے کمپنی کی آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے۔

ایپل کی جانب سے جاری مالی سال 2016 کی دوسری سہ ماہی کے اعدادوشمار میں یہ بات سامنے آئی کہ 3 ماہ کے دوران 51.2 ملین آئی فونز فروخت ہوئے جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16 فیصد کم ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ آئی فون کی فروخت میں سال بہ سال کے موازنے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

اسی طرح کمپنی کی آمدنی 50.6 ارب ڈالرز رہی جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 58 ارب ڈالرز تھی۔

ایپل کی آمدنی یہ نمایاں کمی 13 برسوں بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم ایپل کے سی ای او ٹم کک نے کہا ہے کہ آئی فون کی فروخت کے حوالے سے یہ سہ ماہی بہت سخت رہی اور یہ رجحان آگے بھی دیکھنے میں آسکتا ہے۔

اسی طرح آئی پیڈز میں لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہوئی اور میک کمپیوٹرز کی فروخت بھی کم دیکھنے میں آئی۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق برسوں تک بلاک بسٹر سیلز کے بعد متعدد سرمایہ کاروں کے اندر یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ آئی فونز کا زوال شروع ہوگیا ہے اور ایپل کا عہد اب ختم ہونے کے قریب ہے۔

خیال رہے کہ ایپل کا نیا آئی فون ایس ای مارچ میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس سہ ماہی کے نتائج میں اس کی فروخت کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں دیا گیا جبکہ ایپل کا نیا آئی فون (ممکنہ طور پر 7) رواں سال ستمبر میں سامنے لائے جانے کا امکان ہے۔