- الإعلانات -

وی چیٹ پر پابندی سے آئی فونز کی فروخت میں 30 فیصد کمی کا امکان

ویسے تو اس وقت لوگوں کی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان سے چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی کی دھمکی پر مرکوز ہے اور وی چیٹ تک رسائی ختم کرنے پر توجہ نہیں دی جارہی۔مگر وی چیٹ پر پابندی آئی فونز تیار کرنے والی کمپنی ایپل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق وی چیٹ پر امریکا کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تو اس کا نتیجہ دنیا بھر میں آئی فونز کی فروخت میں 30 فیصد کمی کی شکل میں نکل سکتا ہے جبکہ اپیل کی دیگر مصنوعات کی فروخت میں بھی 25 فیصد کمی آسکتی ہے۔

ایپل کی مصنوعات کے حوالے سے معروف تجزیہ کار منگ چی کیو نے ایپل انسائیڈر اور میک ریومرز میں شائع اپنی رپورٹس میں بتایا ‘وی چیٹ چینی صارفین کے لیے انتہائی اہم ایپ ہے، جو ان کو کمیونیکشنز، ادائیگیوں، ای کامرس، سوشل سافٹ ویئر، نیوز ریڈنگ اور دیگر کاموں میں مدد فراہم کرسکتی ہے، ہمارا ماننا ہے کہ اس پر پابندی کے نتیجے میں چینی مارکیٹ میں آئی فونز کی فروخت بری طرح متاثر ہوگی’۔منگ چی کیو کے تخمینے کی بنیادی یہ ہے کہ اگر وی چیٹ پر پابندی لگتی ہے تو اسے دنیا بھر میں ایپل کے ایپ اسٹور سے نکالا جاسکتا ہے۔

ایپل نے اس حوالے سے فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کی جانب سے مسلسل تخمینے لگائے جارہے ہیں کہ اگر ٹرمہ انتظامیہ کی جانب سے دونوں چینی ایپس پر پابندی عائد کی گئی تو اس کا اثر مختلف کمپنیوں جیسے ایپل پر کیا ہوسکتا ہے۔امریکی صدر کے انتباہ کے بعد کمپنیوں کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

مثال کے طور پر مائیکرو سافٹ نے ٹک ٹاک کے کچھ حصے یا مکمل بزنس کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔خیال رہے کہ صرف امریکا میں ہی ٹک ٹاک کے 10 کروڑ سے زائد صارفین ہیں جبکہ چینی کمپنی کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا جارہا ہے۔منگ چی کیو کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ اگر ایپس پر پابندی لگتی ہے تو ایپل کی جانب سے اس پر عمل کیا جائے گا، یہ کمپنی پہلے ہی وی چیٹ کو بھارت میں اپنے ایپ اسٹور سے نکال چکی ہے، جہاں ٹک ٹاک اور وی چیٹ سمیت درجنوں چینی ایپس پر جون میں پابندی لگائی گئی تھی۔

اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کا نفاذ ہوتا ہے اور ایپل صرف امریکا میں ایپ اسٹورز ان اپلیکشنز کو خارج کرتی ہے تو آئی فونز کی فروخت میں 6 فیصد جبکہ دیگر ڈیوائسز کی فروخت میں 3 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔خیال رہے کہ 6 اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر مستقبل میں پابندیوں سے متعلق جبکہ اسی دن وی چیٹ پر بھی پابندیوں سے متعلق علیحدہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے خلاف ٹک ٹاک نے قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے ٹک ٹاک سے متعلق صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

۔